یہ قوم پاگل ہو چکی ہے؟

سرائيکي علاقے کے ايک نواب صاحب نے رولس رائس خريد لي، گاڑي خريدنے کے بعد مسئلہ يہ تھا کہ اسے چلائے کون، رولس رائس کا ڈرائيور بڑي Yasir-Peerzadaمشکل سے ملتا تھا، آخر کار بڑي تلاش کے بعد ايک نوجوان ڈرائيور کو نوکري پر رکھ ليا گيا، ايک دن نواب صاحب گھر آئے تو ديکھا کہ ڈرائيور اُن کي بيوي کے ساتھ خوش گپيوں ميں مصروف ہے، نواب صاحب نے کھڑے کھڑے اسے نوکري سے نکال ديا۔

کچھ دن گزرے تو نواب صاحب کو رولس رائس کي فکر ہوئي، اب کوئي ڈرائيور نہ ملے، کسي نے انہيں بتايا کہ پرانا ڈرائيور اب بھي شہر ميں موجود ہے، نواب صاحب اسے ڈھونڈنے نکلے تو وہ بازار ميں مل گيا، نواب صاحب اُس کے پاس جاتے تو وہ منہ موڑ ليتا، تنگ آکر نواب صاحب نے اُس کا کندھا دبايا اور سرائيکي ميں گالي دے کربولے ’’ ہُن رُسّا اي توں ودا ايں‘‘ (اب ناراض بھي تم ہي ہو)۔

يہ لطيفہ پنجاب بار کونسل کي پريس ريليز ديکھ کر ياد آيا جس ميں وکلا کے ساتھ ہونے والي ’’زيادتي‘‘ کے نتيجے ميں بار نے ہڑتال کي کال دي ہے۔

چار روز پہلے بعض وکيلوں نے پنجاب کارڈيالوجي پر حملہ کيا تھا جہاں انہوں نے سرکاري املاک تباہ کيں اور اسپتال ميں گھس کر تھوڑ پھوڑ کي جس سے تين مريض جان جاں بحق ہوگئے مگر کس قدر زيادتي کي بات ہے کہ اُلٹا پرچہ بھي کچھ وکلا کے خلاف ہي کاٹ ديا گيا۔

ہونا تو يہ چاہيے تھا کہ جن بہادر وکلا نے اسپتال پر حملہ کرکے تاريخ رقم کي انہيں ملک کے سب سے اعليٰ سول ايوارڈ سے نوازا جاتا تاکہ ہماري نوجوان نسل يہ جان سکتي کہ ہم اپنے ہيروز کي کتني قدر کرتے ہيں۔ ’’ہُن رُسّا اي توں ودا ايں‘‘!

جس معاشرے ميں کسي شخص، گروہ يا طبقے کو اِس بات کا علم ہو کہ وہ قانون سے مستثنيٰ ہے اُس معاشرے ميں وہي کچھ ہوتا ہے جو آج ہم ديکھ کر رہے ہيں، اِس ميں حيرت کي کوئي بات نہيں، چند وکيلوں نے جب يہ حملہ کيا تو انہيں يقين تھا کہ کوئي اُن کا کچھ نہيں بگاڑ سکے گا اور اُن کا يقين ٹھيک تھا۔

زيادہ پراني بات نہيں، اگست 2017ء ميں ملتان بار کے ايک عہديدار نے جج صاحب سے بھري عدالت ميں بدتميزي کي، لاہور ہائيکورٹ نے اِس کا نوٹس ليا، اس عہديدار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاري جاري ہوئے، اس ’’گستاخي‘‘ کے خلاف کچھ وکلا نے لاہور ہائيکورٹ پر حملہ کر ديا، پھر عدالت عظميٰ ميں معاملہ ’’رفع دفع‘‘ ہو گيا، جن صاحب نے جج سے بدتميزي کي تھي، وکلا نے اُن پر گل پاشي کي اور کندھوں پر اٹھا کر عدالت سے باہر نکلے۔

اس مرتبہ ہم ايک قدم اور آگے بڑھے ہيں اور اسپتال پر حملہ کيا ہے، پرچہ تو ہو گيا ہے مگر ملزمان کي تعداد گھٹا دي گئي ہے، عام ملزم ہوتے تو ان کا کيس ٹرائل کورٹ ميں سنا جاتا جبکہ وکلا کے ليے عدالت نے خصوصي بنچ بنا ديا ہے، يہ بات نوٹ کر لي جائے کہ انہيں نہ صرف ضمانت ملے گي بلکہ سب با عزت بري ہوں گے، کوئي وکيل اِن کے مقدمے کي پيروي نہيں کرے گا، کوئي اِن کے خلاف پيش نہيں ہوگا۔

 بار کونسل کے عہديداروں کي گفتگو آپ نے ٹي وي پروگراموں ميں سُن لي، ہوميو پيتھک مذمت کے علاوہ کچھ نہيں، وہ بھي اگر مگر چونکہ چنانچہ کے ساتھ۔ آج درجنوں وڈيو کلپس کي موجودگي ميں دھڑلے سے جو لوگ اِس واقعے کا جواز دينے کي کوشش کر رہے ہيں اُن سے يہ اميد رکھنا کہ وہ ان ملزمان وکلا کے لائسنس منسوخ کريں گے، حماقت ہي ہوگي۔

يہ مغالطہ بھي اب ہميں دور کر لينا چاہيے کہ کوئي ادارہ يا گروہ اپنا احتساب خود کر سکتا ہے، ميڈيا نے يہي دليل کئي سال تک استعمال کي کہ انہيں کسي ريگوليٹري باڈي کي ضرورت نہيں، وہ ميڈيا تنظيموں کے ذريعے اپنا محاسبہ خود کر ليں گے، يہ بات غلط ثابت ہوئي، روزانہ لوگوں کي پگڑياں اچھالي جاتي ہيں، جھوٹے اسکينڈلز کے ذريعے کردار کشي کي جاتي ہے مگر کبھي يہ نہيں سنا کہ کسي ميڈيا تنظيم نے فلاں اينکر يا صحافي پر پابندي لگا دي ہو۔

اب ميڈيا يہي سوال وکلا تنظيموں سے کر رہا ہے کہ کيا آپ ان مجرمان کا لائسنس منسوخ کريں تو جواب مجھ سے سُن ليں کہ کسي کا اجازت نامہ منسوخ نہيں ہوگا۔ ايک غلط فہمي يہ بھي ہے کہ يہ لوگ پڑھے لکھے ہيں،جس شخص کو تعليم کے نتيجے ميں شعور نہيں مل سکا يا اس ميں تنقيدي سوچ پروان نہيں چڑھ سکي، وہ چاہے لنکنز اِن سے بيرسٹر ہي کيوں نہ بن جائے کوئي فرق نہيں پڑتا۔

کبھي کبھي تو مجھے يوں لگتا ہے جيسے پوري قوم پاگل ہو چکي ہے اور اِس قوم کا علاج کم ازکم ہماري زندگيوں ميں تو ممکن نہيں، جس ملک ميں لوگ مذاق مذاق ميں کسي کي جان لے ليں، آئل ٹينکر سے بہتا ہوا تيل چرانے کے ليے زندہ جل جائيں، گيس سلنڈر کي بداحتياطي سے چلتي ٹرين ميں دھماکے کر ديں اور جس ملک ميں خاتون اسسٹنٹ کمشنر پوري ضلعي انتظاميہ اور پوليس کي موجودگي کے باوجود بے بسي اور خوف کے عالم ميں اپنے عقيدے کي وضاحت دينے پر مجبور ہو وہاں يہي کچھ ہوگا ۔

خاطر جمع رکھيں، اگلا واقعہ اس سے بھي زيادہ خوفناک ہوگا، اب کوئي جي دار اپني توہين پر مريضوں کو آئي سي يو سے نکال کر سڑک پر تيل چھڑک کر آگ لگائے گا اور ہم ايسے ہي سينہ کوبي کرکے چُپ ہو جائيں گے۔

جس روز ہم اپنے نوعمر بچے کو بغير لائسنس کے موٹر سائيکل دے کر سڑک پر بھيجتے ہيں اُس روز دراصل ہم اس کے دماغ ميں يہ راسخ کر ديتے ہيں کہ اِس رياست کے قانون کي کوئي وقعت نہيں، لاہور ميں يہي ہوا، آئندہ بھي يہي ہوگا کيونکہ رياست کے آئين اور قانون کو ہم نے لونڈي بنا رکھا ہے، اس کے ساتھ جيسا دل کرتا ہے ويسا سلوک کرتے ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *