بے حسی کا حساب

تحرير: ابن قدسيؔ

قوموں کا عروج وزوال ايک بہت ہي دلچسپ اور معلوماتي موضوع ہے ۔ قوم کے عروج اور زوال کے کچھ  ظاہري اسباب ہوتے ہيں جن کو تاريخ دان کھوج کر Ibne Qudsiنکالتے اور ان کو دنيا کے سامنے پيش کرتے ہيں ۔ عروج وزوال  کے ظاہري اسباب ميں سب سے پہلے اہم چيز سوچ کي يکسانيت ہے ۔قوم کي اکثريت ارادہ کرتي ہے کہ انہوں نے ترقي کرني ہے اور اس کے ليے ہر قسم کي قرباني سے گريز نہيں کرنا تو کاميابي قدم چومتي ہے ۔ ليکن معاملہ الٹ ہو اور  اکثريت ذہني پستي کا شکار ہو تو انحطاط لازمي ہے ۔

ذہني پستي کے کئي ايک عوامل ہيں ۔ان ميں سے ايک اخلاقي قدروں کي نايابي ہے جو قومي سوچ ميں بداخلاقي راسخ کر ديتي ہے ۔اگر قومي سطح پر اخلاق کي درستي نہ کي جائے تو مجموعي طور پر معاشرہ بداخلاق کہلائے گا اور يہي بداخلاقياں قوم کا تعارف بن کر اس کي رسوائي کا موجب بن جاتي ہيں ۔انحطاط کا سفر آہستہ آہستہ اس قوم کو بے تعارف بنا ديتا ہے ۔حال ميں صرف ايک ناپسنديدہ قوم اور ماضي ميں عبرت کے طور پرياد  رہتا ہے ۔اس انحطاط کي وجہ سے اس قوم سے تعلق رکھنے والے افراد مايوسي کا شکار ہوتے ہيں اور وہ قوم بے حيثيت مجموعي اپنا تشخص کھو ديتي ہے ۔

قومي تشخص مفقود ہوجائے تو افراد ميں خود غرضي پيدا ہوتي ہے ۔يہ خود غرضي انسان کي سوچ کو بہت محدود کرديتي ہے اور وہ صرف اپنے آپ کا سوچتا ہے۔ اور دوسرے افراد کے حوالے سے اس کے اندر بے حسي پيدا ہوجاتي ہے ۔بے حسي اپني ذات ميں شايد اتني خطرناک نہ ہو ليکن اس کا دائرہ وسيع ہوجائے اور اکثريت بے حس ہوجائے تو يہ انتہائي خطرنا ک بات ہے ۔

معاشرتي زندگي ميں احساس بہت اہميت رکھتا ہے ۔يہ احساس کہ  دوسروں کا خيال رکھنا ہے ۔معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق ادا کرنا ہيں۔ دوسرے کي زندگي کو نقصان نہ پہنچے ۔معاشرتي قوانين کي مکمل پابندي کي جائے ۔جب تک يہ احساس پيدا نہ ہو معاشرہ پرسکون نہيں ہوتا ۔ليکن يہ احساس اجتماعي سوچ کے نتيجہ ميں پيدا ہوتا ہے ۔جب تک اکثريت ميں يہ احساس ہوگا اس وقت تک معاشرتي حيثيت قائم رہے گي ۔

يہ احساس اجتماعي سوچ کے نتيجہ ميں معاشرہ ميں قائم رہتا ہے يا قانون کے ذريعہ اس احساس کو لاگو کيا جاتا ہے ۔سڑک پر چلتے ہوئے گاڑي اس رفتار کے ساتھ چلانا جو دوسرے کے نقصان کا باعث نہ ہو ۔يہ احساس سوچ سے پيدا ہوگا يا قانون اس پر عمل درآمدکے نتيجہ ميں ۔اسي طرح معاشرہ ميں ترقي يا تنزلي کا احساس انہيں دو امور سے ہوگا يا تو معاشرہ ميں اجتماعي سوچ پيدا ہوگي يا قانون معاشرہ کو ايک خاص نہج پر ڈالے گا ۔

معاشرہ ميں احساس ختم ہوجائے تو يہ بے حسي کسي عذاب سے کم نہيں ہوتي۔ کوئي بيمار ہوجائے تو اس کا احساس نہ کياجائے ۔سڑک پر ايکسيڈنٹ کي وجہ سے کوئي مر رہا تو اس کو اٹھانے کا احساس تک پيدا نہ ہو ۔معاشرہ کا کوئي فرد کسي مصيبت ميں تو اس دور کرنے والے موجود ہوں ليکن وہ بے حسي کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے نہ بڑھيں ۔کسي کے گھر چور آئے تو بجائے احساس کرنے  کے بے حسي سے لاتعلق رہيں تو جان ليں وہ چور کل آپ کے گھر ميں بھي گھس جائے گا ۔کسي پر ظلم ہوتا ديکھ کر بے حسي دکھانا ظالم کو آپ کے گريبان تک پہنچا دے گا ۔معاشرہ ميں پيدا ہونے والے مسائل کو اپنے مسائل نہ سمجھنا ان مسائل کو اور بڑھا ديتا ہے اور آخر کار سارا معاشرہ ہي ان مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس ليے بے حسي معاشرہ کے ليے ايک عذاب سے کم نہيں ہوتي ۔

اللہ تعاليٰ قرآن کريم ميں فرماتا ہے کہ واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منکم خاصة واعلموا ان اللہ شديد العقاب(انفال آيت 25)اور تم ايسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہي لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم ميں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہيں اور يہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دينے والا ہے ۔

معاشرتي ماحول ميں گناہ کرنے والے مجرموں اور غير مجرموں دونوں پر عذاب نازل ہوتا ہےکيونکہ معاشرہ اس گناہ کے ارتکاب کے وقت بے حسي دکھاتے ہيں ۔

حضور صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ 

 ’’من رايٰ منکم منکرا فليغرہ بيدہ وان لم يستطع فبلسانہ وان لم يستطع فبقلبہ وذٰلک اضعف الايمان‘‘

’’جو تم ميں سے برائي ديکھے وہ ہاتھ سے روک دے (جو کہ اربا ب اختيار کے ذمہ ہے )اگر يہ طاقت نہ رکھے تو زبان سے روک دے (جو کہ داعي اليٰ اللہ کے ذمہ ہے )اگر يہ بھي طاقت نہ ہو تو کم ازکم دل سے برا جانے اور اس کا دل برائي محسوس کرے۔ مشکوٰة شريف صفحہ 436‘‘حديث پاک ميں ہے اللہ تعاليٰ نے جبرائيل عليہ السلام کو حکم فرمايافلاں بستي کو الٹ دو جبرائيل عليہ السلام نے عرض کيا کہ اے اللہ اس ميں ايک نيک آدمي بھي رہتاہے تو اللہ تعاليٰ نے فرماياکہ اس کوبھي الٹ دو کہ ميرا حکم توڑا جاتا تھا اور اس کے ماتھے پر بل بھي نہيں آتا تھا۔ مشکوٰة شريف صفحہ 439ايسے ہي ايک جماعت بيت اللہ پر حملہ کرنے کے لئے اٹھي تواس جماعت کو شہر سميت دھنسا ديا جائے گا حضرت عائشہ ؓ نے عرض کياکہ اس شہر ميں ايسے لوگ بھي ہوں گے جو کہ اس جرم ميں شريک نہ تھے تو فرماياکہ يبعثون عليٰ نياتہم۔ کہ آخرت ميں اپني اپني نيت پر اٹھائے جائيں گے۔

عذاب ضروري نہيں کسي قدرتي آفت کي صورت ميں آئے بلکہ آپس ميں ہونے والے اختلافات اور لڑائياں بھي عذاب کي ہي ايک صورت ہے ۔

قُلۡ ھُوَ  الۡقَادِرُ عَلٰۤي  اَنۡ يَّبۡعَثَ عَلَيۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ يَلۡبِسَکُمۡ شِيَعًا وَّ يُذِيۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ اُنۡظُرۡ کَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّہُمۡ يَفۡقَہُوۡنَ ﴿سورة الانعام:65﴾

  آپ کہيے کہ اس پر بھي وہي قادر ہے کہ تم پر کوئي عذاب تمہارے  اوپر سے بھيج دے يا تو تمہارے پاؤں تلے سے يا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ايک کو دوسرے کي لڑائي چکھا دے  آپ ديکھئے تو سہي ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بيان کرتے ہيں ۔ شايد وہ سمجھ جائيں ۔

ظلم کي کئي اقسام ہيں ۔

٭… اقتدار سے ناجائز فائدہ حاصل کرکے اپنے مخالف بے گناہوں کو مارنا۔ 

٭… برائے تاوان اغوا کرکے تکليف پہنچانا يا ماردينا۔ 

٭… جھوٹے مقدمے بنا کر بے گناہوں کو پابند سلاسل کرنا۔ 

٭… رشوت ليکر عدالتوں سے بے گناہوں کو سزا دينا اور مجرم کو چھوڑ دينا۔ 

٭… قاتلوں کو اسلامي سزايعني قصاص ميں قتل نہ کرنا۔ 

٭… قومي ذمہ داري بغير رشوت پوري نہ کرنا يعني جو قومي خدمت پر مامور تنخواہ دار ملازم ہيں وہ عوام کا کام رشوت لئے بغير نہيں کرتے۔ 

٭… جرائم عامہ زنا ، چوري ، ڈاکہ ، فحش کاري ، فحش گانے، شراب خوري عام ہوجائے تو يہ بھي قوم پر ظلم ہے‘ اس سے معاشرے ميں بگاڑ پھيلتا ہے۔

٭… نا اہل کو حکومت دينا بھي قوم پر ظلم ہے۔ 

٭… طاقت کے زور پر دوسرے کي آزادئ رائے کو کچل دينا۔ 

٭… زميندار، کارخانہ دار، سرمايہ دارکا غريبوں کا خون پينا اور ان کي غربت سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور پوري مزدوري نہ دينا بھي ظلم کي نوع ميں داخل ہے۔ 

٭… تنخواہ پوري لينا اور کا م ادھورا کرنا بھي ظلم ہے۔ 

٭… سرمايہ داروں کا ذخيرہ اندوزي کرنا اور مخلوق کو قحط ميں مبتلا کرکے گراں فروشي کرنا۔ 

٭… امانت ميں خيانت کرنا او ر حق والے کو حق نہ دينا۔ 

٭… بم دھماکوں ، خود کش حملوں کے ذريعے معصوم عوام کو مارنا۔ 

٭… مذہب کا نام لے کر دوسروں کو قتل کرنا ۔

٭… معاشرہ ميں پڑھے لکھے طبقے بھي جہالت کا مظاہرہ کريں ۔

ان ظلموں پر خاموشي اختيار کرنا اور بے حسي کا مظاہرہ کرنا بھي ايک ظلم ہے۔ معاشرہ کے دو انتہائي اہم  شعبہ جات ۔ ايک انساني جان کي خدمت کرنے والے ڈاکٹر ز اور دوسرے قانون کا مطالعہ کرنے والے وکيل۔تخت ِلاہور ميں انسانيت سوز واقعہ رونما ہوا ۔يہ دونوں پڑھے لکھے طبقوں نے اپني جہالت کا مظاہرہ کيا۔ ايک مريض کے چيک اپ سے جھگڑا شروع ہوا ۔پہلے ہسپتال ميں مريض کو لے کر آنے والے وکيلوں کو مارا گيا ۔جب معاملہ خراب ہوا يا خراب کيا گيا ۔پھر وکيلوں ايک لشکر نے انسانيت کو شرمندہ کرتے ہوئے ہسپتا ل پر حملہ کر ديا ۔ڈاکٹر تو بچ گئے ليکن ان دو پڑھے لکھے جاہلوں کي لڑائي کي قيمت مريضوں کو ادا کرني پڑي ۔صحيح طريق پر علاج نہ ملنے کي وجہ سے کئي مريض جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ۔ جن کا کوئي پرسان حال نہيں ۔ايک دو دن تک ميڈيا پر خبر رہنے کے بعد يہ قصہ بھي ماضي کا حصہ بن جائے گا ۔معاشرہ اس انسانيت سوز واقعہ کو بھول کر نئے واقعات ميں مگن ہوجائے گا۔يہ بے حسي کيا کسي عذاب سے کم ہے ۔ جس بات پر معاشرہ فيصلہ کن مرحلے طے کرتے ہيں اور وہ اس نتيجہ تک پہنچتے ہيں کہ انہوں نے کيا کرنا اور کيا نہيں کرنا ۔وہاں پر اس معاشرہ ميں چند تک”شغل ميلہ‘‘ ہوگا اور پھر کوئي نيا موضوع خبروں کي زينت بن جائے گا۔ اس طرح کي بے حسي آخر کار قوموں کو تباہ کر ديتي ہے ۔

اللہ تعاليٰ ہمارے معاشرہ کو اس بے حسي کے عذاب سے بچائے ۔آمين

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *