مشرف کو سزائے موت دلوانے کے اہم کردار

لاہور انٹرنیشنل نیوز ڈیسک

اسلام آباد (طارق بٹ) پرويز مشرف کي جانب سے آئين کي خلاف ورزي کرنے پر ان کے خلاف سنگين غداري کيس بنانے کے تين اہم کردار ہيں۔

افتخار محمد چوہدري نے بطور چيف جسٹس آف پاکستان 31 جولائي 2009 کو فل کورٹ کي سربراہي کرتے ہوئے رولنگ دي تھي کہ مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ايمرجنسي نافذ کرکے آئين کي خلاف ورزي کي تھي اور ان پر سنگين غداري کا مقدمہ چلايا جائے۔

ناصرف يہ فيصلہ ديا گيا بلکہ بعد ميں يہ بھي کہا گيا کہ اس فيصلے پر من و عن عملدرآمد کيا جائے۔ پيپلز پارٹي کي حکومت نے کاميابي سے اس فيصلے کے نفاذ سے اپنے پاؤں کھينچ لئے اور مشرف کے خلاف سنگين غداري کي شکايت دائر نہيں کي۔

تاہم پيپلز پارٹي نے خصوصي عدالت کي جانب سے سابق آمر پر سزائے موت کے نفاذ کا خيرمقدم کيا۔ 2013 ميں نواز شريف کي حکومت کے چند ہي روز بعد چيف جسٹس نے حکومت پر زور دينا شروع کيا کہ فيصلے پر عملدرآمد کراتے ہوئے وہ سنگين غداري کے الزام ميں مشرف کا ٹرائل شروع کروائے۔ تاہم بظاہر وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھي جيسا کہ وہ کوئي بحران پيدا نہيں کرنا چاہتي تھي کيونکہ اس کي نئي مدت شروع ہي ہوئي تھي۔

افتخار چوہدري نے عملدرآمدي کارروائيوں کا آغاز کيا اور ايک موقع پر آخرکار دھمکي دي کہ وہ عدالتي ہدايت کي مسلسل حکم عدولي پر نواز شريف کے خلاف توہين عدالت کا عمل شروع کريں گے۔ آخرکار وزير اعظم کے پاس کوئي دوسرا راستہ نہيں بچا اور مشرف کا ٹرائل شروع کرنا پڑا۔ وزير اعظم نے اسمبلي ميں آکر خصوصي عدالت کي تشکيل کا اعلان کيا۔

مشرف کے خلاف ٹرائل شروع ہوگيا۔ يوں مشرف کو مجرم قرار دلوانے کے اہم کرداروں ميں سے ايک نواز شريف تھے جس کے باعث انہيں بھاري قيمت ادا کرنا پڑي۔ اس سے قبل اکتوبر 1999 ميں اسي آمر نے انہيں مارشل لاء لگا کر معزول کرديا تھا اور انہيں سعودي عرب جلاوطن کرديا تھا۔

ايک چيف جسٹس (افتخار چوہدري)، ايک وزير اعظم (نواز شريف) اور ايک وکيل (اکرم شيخ) کے علاوہ خصوصي عدالتوں کے دو جج يعني پشاور ہائي کورٹ کے چيف جسٹس وقار احمد سيٹھ اور لاہور ہائي کورٹ کے جسٹس شاہد کريم جنہوں نے مشرف کو سنگين غداري کا مرتکب قرار ديا، انہوں نے نہايت جرات مندانہ فيصلہ ديا جس سے ناصرف پاکستان بلکہ بيرون ملک بھي ارتعاش پيدا ہوگيا ہے۔

ايسا پاکستان کي تاريخ ميں پہلي مرتبہ ہوا ہے کہ آئين ميں آرٹيکل 6 کي شموليت سے اعليٰ دستاويز کي خلاف ورزي کرنے والے کے خلاف ہائي ٹرائل کيس شروع ہوا اور اسے مجرم قرار ديا گيا۔ تيسرا نڈر کردار ايڈوکيٹ اکرم شيخ کا ہے جنہوں نے خصوصي پراسيکيوٹر کي حيثيت سے کام کيا جن کي تقرري وفاقي حکومت نے کي تھي۔

خصوصي عدالت ميں بھرپور قوت سے اس کيس کي کارروائي کيلئے انہيں بہت سے مصائب اور نقصانات کو جھيلنا پڑا۔ يہ ان کي پيشہ وارانہ کوششوں کا نتيجہ ہے کہ مشرف کو سزا سنائي گئي۔ يہ فيصلہ شديد عليل سابق حکمران کيلئے کسي دھماکا خيز خبر سے کم نہيں۔ خصوصي ٹريبونل نے نئي تاريخ رقم کردي ہے۔

مشرف کے پاس سپريم کورٹ سے رجوع کا حق ہے جو وہ استعمال کرنے والے ہيں۔ تاہم سوال ايک مفرور کے حقوق کے بارے ميں اٹھے گا کيونکہ عام طور پر يہ دليل دي جاتي ہے کہ ايسے ملزم کو ان حقوق سے محروم کرديا جاتا ہے جو عام طور پر ديگر کيلئے دستياب ہوتے ہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *