صرف زمین نہیں، ملکیت بھی گردش میں ہے

تحریر: محمد اظہار الحق

پجارو تھي يا لينڈ کروزر! جو بھي تھي فاخرہ سواري تھي! اور بالکل نئي نويلي! نئي نويلي گاڑي رواں دواں تھي، قصبوں، قريوں اور بستيوں کے درميان، فراٹے بھرتي، ڈرائيور چلا رہا تھا، مالک گاڑي کا نشست پر يوں بيٹھا تھا جيسے گاڑي ہي کا نہيں، کرۂ ارض کا بھي مالک وہي ہو، لباس اس کا سفيد لٹھے کي شلوار قميض تھي، کلف سے کھڑ کھڑاتي ہوئي، انگليوں ميں سونے کي اور چاندي کي اور عقيق کي انگوٹھياں پہنے تھے۔ گردن اس کي تني ہوئي تھي۔

راستے ميں ايک شخص نے گاڑي کو ہاتھ ديا۔ ڈرائيور نے گاڑي روک لي، عجيب آدمي تھا يہ گاڑي کو روکنے والا، قلاش، مفلس، سرپر چارخانے کا چيتھڑا نما رومال لپيٹے، پاؤں ميں ٹوٹي ہوئي چپليں، ايک بوسيدہ تھيلا ہاتھ ميں! ڈرائيور نے شيشہ نيچے کيا تو کہنے لگا، کيا مجھے فلاں بستي تک لے جا سکتے ہيں؟ ڈرائيور نے سواليہ نظروں سے مالک کي طرف ديکھا، سچ تو يہ ہے کہ مالک کو ڈرائيور کي يہ حرکت قطعاً پسند نہيں آئي تھي کہ وہ کسي کے ہاتھ لہرانے سے گاڑي روک لے، مگر نہ جانے اس کے دماغ ميں کيا لہر اٹھي کہ اس بدحال راہگير کو گاڑي ميں بيٹھنے کي اجازت دے دي تکبر سے پوچھا کيا کرتے ہو؟

اس نے مختصر جواب ديا، جي، بستي بستي گاؤں گاؤں پھر کر سيپارے بيچتا ہوں! پھر وہ زير لب ذکر اذکار ميں مشغول ہو گيا۔ مالک کي گردن پھر تن گئي، گاڑي پھر فراٹے بھرنے لگي۔ جس گاؤں ميں سيپارے بيچنے والے مفلس نے اترنا تھا، اتر گيا، سفر رواں دواں رہا۔ يہاں تک کہ وہ قصبہ آ گيا جو اس خوشحال شخص کي منزل تھي۔ رات اس نے اپنے ميزبان کے ہاں قيام کيا۔ الميہ يہ ہوا کہ صبح اٹھا تو گاڑي غائب تھي۔ فوراً پوليس رپورٹ کرائي گئي۔

يہ آسودہ حال لوگ مضبوط روابط رکھتے تھے۔ کيا ڈپٹي کمشنر اور کيا پوليس افسران، سب سے واقفيت تھي۔ ہر سطح پر کوشش ہوئي، گاڑي نہ ملنا تھي، نہ ملي! کسي نے رائے دي کہ پوليس تو تلاش کر ہي رہي ہے، اس قصبے ميں ايک بزرگ ہيں۔ اللہ والے بے لوث! تشہير اور پي آر سے يکسر بے نياز! انہيں بھي مل ليا جائے تو کيا عجب، دعا بھي شاملِ حال ہو جائے۔ خوشحال شخص بزرگ کي خدمت ميں حاضر ہوا! کيا ملائمت تھي بزرگ کے نرم ہاتھوں ميں!

يوں لگتا تھا روشني کا ہالہ وجود کے گرد حصار باندھے ہے۔ پہلا سوال ہي بزرگ کا يہ تھا کہ راستے ميں کون سوار ہوا تھا؟ اس نے بتايا کہ پھٹے پرانے کپڑوں ميں ملبوس، پنج سورے فروخت کرنے والا ايک غريب شخص، فلاں بستي ميں اتر گيا تھا۔ بزرگ نے سر اپنے گريبان ميں جھکا ليا۔ آنکھيں بند کر کے سوچتے رہے۔ زير لب ذکر جاري رکھا، پھر آنکھيں کھوليں اور خوشحال شخص سے مخاطب ہوئے ……..”اللہ کي مصلحتيں اسي کو معلوم ہيں، خدا کرے تمہارے نقصان کا ازالہ ہو جائے۔

مگر بظاہر جس مقصد کے ليے گاڑي تمہيں عطا کي گئي تھي وہ مقصد پورا ہو گيا۔ گاڑي واپس لے لي گئي! ”“ ميں سمجھا نہيں ”خوشحال شخص نے استفہاميہ انداز ميں کہا! بزرگ مسکرائے! “ اُس مفلس کو قدرتِ الٰہي نے تمہاري گاڑي کے ذريعے فلاں بستي تک پہنچانا تھا۔ سو پہنچا ديا! پھر قدرت نے يہ انتظام واپس لے ليا۔ مگر قدرت تمہارے نقصان کا ازالہ ضرور کرے گي!مطمئن رہو!” پس جو جانتا ہے وہ تو جانتا ہے، جو نہيں جانتا جان لے کہ خلاقِ عالم، صرف خلاق نہيں، مدبر الامر بھي ہے۔وہ تدبيريں کرتا ہے، پھر ان تدبيروں کے لحاظ سے واقعات رونما ہوتے ہيں، بظاہر الگ الگ واقعات! مگر اندر ايک دوسرے سے جڑے ہوئے، ايک دوسرے سے پيوستہ! کوئي يہ نہ سمجھے کہ دولت و ثروت اسے محنت سے ملي ہے اور اس کي اپني ہے۔ يہ تو کسي مقصد کے ليے ملي ہے۔ مقصد پورا ہو گيا تو واپس لے لي جائے گي۔ کوئي يہ نہ سمجھے کہ افلاس اس کي بدنصيبي ہے۔ يہ کسي مقصد کے ليے ملا ہے۔ مقصد پورا ہو گيا تو افلاس دُور ہو جائے گا۔

کتنے ہي مفلس اور قلاش ہيں جن کے بچے پڑھ لکھ کر، ہنر سيکھ کر، ثروت مند ہوئے اور ستاروں کي طرح چمکے! يہ افلاس کے باعث ہوا۔ کتنے ہي آسودہ حال ہيں جن کي اولاد بگڑي اور ذلت کا باعث بني! ماں باپ کو يہ سزا دينے کے ليے ہي تو آسودگي دي گئي تھي۔ وہ جو سمندر کي گہرائيوں ميں پڑے ايک ايک موتي کو ديکھتا ہے اور بطن کے ظلمات ميں گوشت کے لوتھڑے کو جسم بنا کر زندگي بخشتا ہے، اپنا حساب کتاب رکھتا ہے اور بالکل ٹھيک ٹھيک رکھتا ہے۔

زمين اس کي مُٹھي ميں ہے اور آسمان اُس کے دائيں ہاتھ ميں لپٹے ہوئے ہيں۔ محتسب ايسا کہ سارے حساب رکھتا ہے، منتقم ايسا کہ ظلم بھُولتا نہيں۔ کيا کيا تدبيريں ہيں، يہ وہي مدبر الامر جانتا ہے! جس کشتي کو بيگار سے بچانا ہو، اس کے پيندے ميں سوراخ ہو جاتا ہے، جس کھنڈر ميں يتيموں کا مال چھپا ہو، اس پر ديوار تعمير ہو جاتي ہے۔ جو بڑا ہو کر فساد کا باعث بنے، اسے پہلے ہي ہلاک کر ديا جاتا ہے جو چيز بري لگے وہ خير کا باعث نکلتي ہے، جو اچھي لگے وہ آخر ميں شر کا سبب بن سکتي ہے۔

يہاں کوئي صورت آخري نہيں، کوئي حرف، حرفِ آخر نہيں، ترکستان ميں ايک بے يارو مددگار لڑکا فروخت ہوتا ہے۔ کئي ہاتھوں ميں بکتا، وسط ايشيا سے نيشاپور جا پہنچتا ہے جہاں ايک صاحب قاضي فخر الدين اسے خريد ليتے ہيں اور اپنے گھر ميں اولاد کي طرح پالتے اور پڑھاتے ہيں۔ اُن کا کوئي بيٹا اسے پھر منڈي ميں لا کر بيچ ديتا ہے۔ اب کے خريدنے والا غوري خاندان تھا۔ ايک دن وہ غلام اصطبل کا انچارج بن جاتا ہے۔ غوريوں اور خوارزم کے بادشاہ کے درميان لڑائي ہوتي ہے تو خوارزم کي فوج اصطبل کے اس انچارج کو گرفتار کر کے لوہے کے پنجرے ميں بند کر ديتي ہے۔

غوريوں نے فتح پائي اور اپنے ملازم کو پنجرے ميں ديکھا تو رہا کر کے منصب دار بنا ديا۔ کس کو معلوم تھا کہ ترکستان ميں خريدا اور بيچا جانے والا يہ غلام سلطنتِ دہلي کا پہلا بادشاہ بنے گا۔ قطب الدين ايبک کي قائم کي ہوئي سلطنت 1208 ء سے لے کر 1857 ء تک زندہ رہي۔ قطب مينار اُس نے بنوايا جو آج بھي دہلي کا لينڈ مارک ہے، وقت وقت کي بات ہے۔ جس قطب الدين ايبک کے جرنيل بختيار خلجي نے اٹھارہ گھوڑ سواروں کے ساتھ بنگال کے دارالحکومت کو زير کر ليا تھا، وہ ايبک آج انار کلي بازار کے ايک نيم خوابيدہ کوچے ميں مدفون ہے۔

لاہور کے کتنے باشندوں کو معلوم ہے کہ يہاں کون دفن ہے۔ پولو کھيلتے ہوئے گرا، زين کا نوکيلا حصہ چھاتي ميں پيوست ہو گيا۔ کيا موت تھي جو بسترِ مرگ پر نہ آئي کھيل کے ميدان ميں آئي۔ فرشتے حيران ہوتے ہيں اور خندہ کرتے ہيں جب ديکھتے ہيں کہ لوگ دولت کو اپني دولت اور محل کو اپنا محل کہہ کر بات کرتے ہيں۔ پہلي بات وہي ہے جو آخري ہے اور وہ يہ ہے کہ زمين کے ساتھ ملکيت بھي گردش کر رہي ہے! اور کرتي رہے گي۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *