قیامِ بنگلہ دیش اور انڈیا کے فوجی آپریشن ’جیک پاٹ‘ کی کہانی

تحرير: ريحان فضل

يکم اگست 1971 کو 20 ہزار شائقين سے بھرے نيويارک کے ميڈيسن سکوائر گارڈن ميں جب بيٹلز کے جارج ہيريسن نے بنگلہ ديش کي صورتحال کے متعلق اپنا گيت گايا تو نہ صرف پورا سٹيڈيم جھوم اٹھا بلکہ اس نغمے نے پوري دنيا کي توجہ مشرقي پاکستان کے حالات اور وہاں سے لاکھوں کي تعداد ميں انڈيا آنے والے پناہ گزينوں کي طرف مبذول کيا۔

ليکن مارچ 1971 سے اپنے ہي عوام کے خلاف پاکستاني فوج کي جانب سے ’کريک ڈاؤن‘ کي خبريں ملک سے باہر جانے لگي تھيں۔

اسي وقت فرانس کے پانيوں ميں مشق کر رہي پاکستاني آب دوز ’پي اين ايس مانگرو‘ کے آٹھ بنگالي اہلکاروں نے آبدوز چھوڑ کر بنگلہ ديش کي آزادي کي تحريک ميں شامل ہونے کا فيصلہ کيا۔

’آپريشن ايکس: دي ان ٹولڈ سٹوري آف انڈياز کوورٹ نيول وار ان ايسٹ پاکستان، 1971‘ کے مصنف اور انڈيا ٹوڈے ميگزين کے ايگزيکٹو ايڈيٹر سنديپ انيتھن بتاتے ہيں کہ ‘31 مارچ 1971کو سپين کے دارالحکومت ميڈرڈ ميں واقع انڈين سفارتخانے کے دروازے پر فرانس سے بھاگ کر آنے والے پاکستاني بحريہ کے ان اہلکاروں نے دستک دي۔

’1964 ميں وہاں تعينات کے انڈين سول سروس کے اہلکار گرديپ بيدي نے ان کے پاسپورٹس کا معائنہ کيا اور انھيں قريب ہي ايک سستے ہوٹل ميں ٹھہرا ديا۔ انھوں نے ان کے بارے ميں دلي سے صلاح مشورہ کيا تو وہاں سے يہ حکم آيا کہ ان اہلکاروں کو فوراً دلي بھيجے جانے کا انتظام کيا جائے۔‘

انھوں نے مزيد کہا: ’ان آٹھ اہلکاروں کے نقلي ہندو نام رکھے گئے اور ہندوستاني شہري بتاکر دلي جانے والے طيارے ميں بٹھا ديا گيا۔ انھيں پہلے ميڈرڈ سے روم بھيجا گيا۔ ليکن اس سے پہلے کہ وہ دلي پہنچتے ان کي خبر ميڈيا ميں ليک ہو گئي اور روم ميں واقع پاکستاني سفارتخانے کے اہلکاروں کو بھي اس کي خبر ہو گئي۔

’پاکستاني سفارتخانے کے اہلکار ان آٹھ اہلکاروں کو منانے کے ليے ايئرپورٹ پہنچے۔ ان ميں اور ان اہلکاروں کے درميان جھڑپ بھي ہوئي ليکن ان اہلکاروں کے ليڈر عبدالوحيد چودھري نے سفارتي عملے سے واضح الفاظ ميں کہا کہ وہ بنگلہ ديش کي آزادي کے ليے لڑنے جا رہے ہيں۔‘

پلاسي کي جنگ کے ميدان ميں خفيہ ٹريننگ کيمپ

ان آٹھ آبدوز اہلکاروں کے انڈيا پہنچنے کے بعد انھيں دلي ميں انڈين خفيہ ادے ’را‘ کے ايک محفوظ ٹھکانے پر ٹھہرايا گيا۔ اس وقت انڈين بحريہ کے ڈائريکٹر نيول انٹيليجنس کپتان ايم کے ميکي رائے کو خيال آيا کہ پاکستان سے بھاگ کر آنے والے بحريہ کے ان اہلکاروں کا استعمال مشرقي پاکستان ميں پاکستاني جہازوں کو ڈبونے اور نقصان پہنچانے ميں کيا جائے۔

اس طرح آپريشن ’جيک پاٹ‘ کا آغاز ہوا اور کمانڈر ايم اين آر سامنت کو اس کي ذمہ داري سونپي گئي۔ انڈيا اور مشرقي پاکستان کي سرحد کے قريب جہاں پلاسي کي جنگ ہوئي تھي وہاں بنگلہ ديش کي آزادي کے ليے لڑنے والے ’مکتي واہني‘ کے جنگجوؤں کو تربيت دينے کے ليے کيمپ لگايا گيا اور اس کو ’کيمپ ٹو پلاسي‘ يا ’سي ٹو پي‘ کا ايک کوڈ نام ديا گيا۔

اس کميپ ميں دن کا آغاز بنگلہ ديش کے قومي ترانے ’امار شونار بنگلہ ديش‘ سے ہوتا تھا اور وہاں موجود سبھي لوگ بنگلہ ديش کے سبز اور نارنجي رنگ کے پرچم کو سلامي ديتے تھے۔

اس کيمپ کي قيادت کرنے والے کمانڈر وجے کپل ياد کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ ’وہاں بجلي اور پاني کچھ بھي نہيں تھا۔ رات کو ہم لوگ لالٹين جلاتے تھے، پاني ہينڈ پمپ سے آتا تھا۔ کُل نو ٹينٹ لگائے گئے تھے۔ ہم لوگ صبح پانچ بجے اٹھ جاتے تھے۔ پي ٹي يا صبح کي ورزش کے بعد انھيں کھيتوں ميں ننگے پاؤں دوڑايا جاتا تھا۔

’پھر انھيں بھارتي بحريہ کے کمانڈو خفيہ طريقے سے بم نصب کرنے کا طريقہ بتاتے تھے۔ مانگرو سے بھاگ کر آنے والے بنگالي سب مرينرز ہندي ميں دي جانے والے اس تربيت کو سمجھيں، اس کے ليے بنگلہ زبان ميں ترجمہ کيا جاتا تھا۔ اس کے بعد انھيں تيرنا سکھايا جاتا تھا۔ تب تک دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا تھا۔‘

’ڈيڑھ گھنٹے کے آرام کے بعد انھيں انسانوں کے قد کے برابر مجسموں پر گولياں چلانے کي ٹريننگ دي جاتي تھي۔ سورج ڈوبنے کے بعد جب يہ لوگ بري طرح تھک جاتے تھے انھيں پھر سے رات ميں تيرنے کي تربيت دي جاتي تھي۔ کل ملا کر يہ لوگ ايک دن ميں تقريبا چھ گھنٹے پاني ميں گزارتے تھے۔‘

’اس دوران ان کے پيٹ ميں کپڑے کے سہارے دو اينٹيں باندھ دي جاتي تاکہ انھيں وزن کے ساتھ تيرنے کي تربيت مل سکے۔‘

کھانے پينے کي عادات ميں تبديلي

کميپ ميں تربيت حاصل کرنے والے لوگوں کا انتخاب مشرقي پاکستان سے آنے والے مہاجرين ميں سے کيا گيا تھا۔ ان کو صحيح سے کھانا کھائے ہوئے ہفتوں گزر گئے تھے۔ ابتدا ميں انھيں چاول کھانے کا اتنا شوق اور لالچ ہوتا تھا کہ وہ چاول ابلنے سے پہلے ہي ان پر ٹوٹ پڑتے تھے۔

تربيت دينے والے اہلکاروں نے طے کيا کہ اگر ان لوگوں کا صحيح استمعال کرنا ہے تو ان کے کھانے پينے کے طريقے ميں خاصي تبديلي کرني ہوگي۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہيں: ’جب يہ لوگ انڈيا آئے اس وقت وہ خوراک کي کمي کا شکار تھے۔ ان کي ہڈياں نکلي ہوئي تھيں۔ ان پر پاکستاني فوج نے بہت مظالم ڈھائے تھے۔ انھوں نے اپني آنکھوں سے خواتين کے ريپ ديکھے تھے اور پاکستاني فوج کے مظالم کو برداشت کيا تھا۔

’ان کو تربيت دينے والے بحريہ کے کمانڈوز نے محسوس کيا کہ يہ لوگ بہت جلدي تھک جاتے ہيں اور دور تک تيرنا ہو تو بہت زيادہ غلطياں کرتے ہيں۔ کلکتہ کے فورٹ وليم ميں کمانڈر سامنت کے پاس يہ پيغام بھيجا گيا کہ ان کے ليے بہتر کھانے کا انتظام کيا جائے۔

’اس کے بعد سے ہر دن ايک جنگجو کو روزانہ دو انڈے، 120گرام دودھ، ايک ليموں اور 80گرام پھل ديے جانے لگيں۔ اس کا بہت جلد اثر دکھائي دينے لگا اور ان لوگوں صورت بدلنے لگي۔‘

لمپيٹ مائن کے استمعال کي تربيت

ان لوگوں کو تين ہفتوں تک جنگي جہازوں کو نقصان پہنچانے کي اہم تربيت دي گئي اور لمپيٹ مائن کا استعمال سکھايا گيا اور يہ بھي سکھايا گيا کہ کس وقت حملہ کرنا ہے۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہيں: ‘پاني کے اندر دھماکہ کرنے کے ليے لمپيٹ مائن کا استعمال کيا جاتا ہے۔ انڈين بحريہ کے پاس يہ بہت بڑي تعداد ميں موجود نہيں تھے۔ بيروني کرنسي کي کمي کي وجہ سے ہم انھيں بيروني ممالک سے نہيں منگوا سکتے تھے۔

’اگر بيروني ممالک سے ان کي سپلائي کا آرڈر ديا بھي جاتا تو پاکستان کو اس کي فوراً اطلاع مل جاتي۔ اس ليے ہم نے انھيں بھارت ميں ہي آرڈيننس فيکٹريوں ميں بنوانے کا فيصلہ کيا۔ يہ ايک طرح کا ٹائم بم بوتا تھا جس ميں مقناطيس لگا ہوا ہوتا تھا۔ تيراک انھيں جہاز ميں لگا کر بھاگ نکلتے تھے اور اس ميں تھوڑي دير بعد دھماکہ ہوجاتا تھا۔‘

کنڈوم کا استعمال

دلچسپ بات يہ ہے کہ اس پورے آپريشن کے دوران بڑي تعداد ميں کونڈومز کا بھي انتظام کيا گيا تھا۔

جب اس کا مطالبہ فورٹ وليم پہنچا تو کمانڈر سامنت کي بھويں چڑھ گئيں ليکن انھيں کمانڈر مارٹس نے ہنستے ہوئے بتايا کہ اس کا استعمال جو آپ سوچ رہے ہيں اس کے ليے نہيں ہوگا۔

سنديپ انيتھين نے کہا: ’دراصل يہ جو لمپيٹ مائن تھي اس ميں ايک طرح کا فيوز لگا ہوا ہوتا تھا جو کہ ايک گھلنے والے پلگ کي طرح کام کرتا تھا۔ تيس منٹ ميں گھل جاتا تھا جب کہ غوطہ خور کو اپنا آپريشن مکمل کرنے کے ليے کم سے کم ايک گھنٹہ لگتا تھا۔

’اس کا يہ حل نکالا گيا کہ فيوز کے اوپر کنڈوم پہنا ديا جائے۔ غوطہ خور پاکستاني بحري جہاز ميں لمپيٹ مائن چپکانے سے پہلے اس کے فيوز پر لگے کنڈوم کو اتار ديتے تھے اور وہاں سے تيزي سے تيرتے ہوئے دور چلے جاتے تھے۔‘

آرتي مکھرجي کا نغمہ کوڈ بنا

150 سے زيادہ بنگالي کمانڈوز کو مشرقي پاکستان کي سرحد کے اندر پہنچايا گيا اور نيول انٹيليجنس کے چيف اور کمانڈر سامنت نے فيصلہ کيا کہ پاکستان کي چار بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں پر ايک ساتھ حملہ کيا جائے۔

سبھي کمانڈوز کو ايک ايک لمپيٹ مائن، نيشنل پيناسونک کا ايک ريڈيو اور50 پاکستاني روپے ديے گئے۔

سنديپ انيتھن بتاتے ہيں: ’ان سے رابطہ کرنے کے ليے واکي-ٹاکي ايک متبادل تھا ليکن اس کا استعمال صرف 10 سے 12 کلوميٹر کي دوري تک ہي کيا جاسکتا تھا تو اس ليے يہ فيصلہ کيا گيا کہ ان کمانڈوز تک پيغام پہنچانے کے ليے انڈيا کے سرکاري ريڈيو سٹيشن ’آکاش واني‘ کا استعمال کيا جائے۔

’دوسري جنگ عظيم ميں بھي اس طرح کے خفيہ پيغامات بھيجنے کے ليے دونوں جانب سے ريڈيو کا استعمال کيا گيا تھا۔ اس ليے سب لوگوں سے لگاتار ريڈيو سننے کے ليے کہا گيا۔ يہ فيصلہ کيا گيا کہ جب آکاش واني کے کلکتہ سٹيشن ’بي کيندر‘ سے آرتي مکھرجي کا گايا ہوا يہ نغمہ ’امار پوتول آج کے پرتھم جابے سوسر باڑي‘ بجے گا تو اس کا مطلب يہ ہوگا کہ حملہ کرنے کے ليے 48 گھنٹے کا وقت بچا ہے۔‘

ٹويوٹا پک اپ ٹرک کا انتظام

14 اگست سنہ 1971 کي صبح چھ بجے آکاش واني کے کلکتہ سٹيشن سے ہيمنت کمار کا ايک نغمہ سنوايا گيا ’آمي تومائي جوتو شونيے چھي چھي ليم گان‘۔

يہ بھي ايک طرح کا کوڈ تھا جس کا مطلب تھا کہ جنگجوؤں کو اس رات چٹ گاؤں سميت چار بندرگاہوں پر حملہ کرنا تھا۔

سنديپ انيتھين بتاتے ہيں: ’ان دنوں چٹ گاؤں ميں سينکڑوں بسيں اور تين پہيوں والے آٹو رکشا چلا کرتے تھے۔ وہاں نجي کاريں بہت کم تھيں۔ ايسي کاريں تو بہت کم تھيں جو کسي کي توجہ کا مرکز بنے بغير شہر ميں گھوم سکتي تھيں۔ اس مشن کو انجام دينے کے ليے مکتي واہيني کے جنگجوؤں کو شہر کے باہر جانا تھا۔

’مکتي واہني کے ايک کارکن خورشيد نے اس کا حل نکال ليا۔ اس نے کہيں سے ’واٹر اينڈ پاور ڈيولپمنٹ اتھارٹي‘ کے ايک ٹويوٹا پک اپ ٹرک کا انتظام کيا۔ اس ميں پہلے لمپيٹ مائن رکھ کر اوپر سے سازوان کي پھليوں يعني ڈرم سٹکس سے ڈھانپ ديا۔

’اس ٹرک کو انوارا نامي گاؤں لے جايا گيا جہاں ايک محفوظ گھر ميں ان لمپيٹ مائنز ميں ڈيٹونيٹر فٹ کيے گئے اور ان کے پاني ميں گھلنے والے پلگوں پر کنڈوم چڑھائے گئے۔‘

ايک ساتھ چار بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں پر حملہ

مشرقي پاکستان ميں 14 اگست سنہ 1971 کي آدھي رات کو 100 سے زيادہ بنگالي جنگجوؤں نے اپنے کپڑے اتار کر تيرنے والے ٹرنک اور پيروں ميں ربڑ کے ’ فن‘ پہنے۔ انھوں نے لمپيٹ مائن کو گمچھے (باريک توليے) کي مدد سے اپنے سينے پر باندھا۔

دوسري جانب بحريہ کے دلي ميں واقع ہيڈکواٹر ميں کپتان مکي رائے اپنے سامنے رکھے فون ميں سے ايک خاص فون کے بجنے کا انتظار کررہے تھے۔

کلکتہ ميں فورٹ وليم ميں اس پورے آپريشن کي قيادت کرنے والے کپتان سامنت اپني رپورٹ لکھتے وقت وہي کوڈيڈ نغمہ سن رہے تھے جسے صبح آکاش واني کے کلکتہ سٹيشن سے بجوايا گيا تھا۔

اس پورے مشن ميں کپتان سامنت کا اہم کردار تھا۔ اس وقت فرانس ميں رہائش پزير ان کي بيٹي اججولا سامنت ياد کرتي ہوئي کہتي ہيں: ’1971 ميں وہ 22 ماہ کے ليےگھر سے باہر تھے۔ شروع ميں ہميں معلوم ہي نہيں تھا کہ وہ کہاں گئے ہيں۔ پھر ايک دن وہ ’ فرلو‘ لے کر وشاکھاپٹنم ميں ہمارے گھر آئے تھے۔‘

’جب انھوں نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹايا تو ميں انھيں پہچان نہيں سکي تھيں۔ ان کي داڑھي بڑھي ہوئي تھي۔ وہ اپني باتيں کسي کو نہيں بتاتے تھے۔‘

’يہ تو جب ميري والدہ بنگلہ ديش گئيں تو انھوں نے مجھے بتايا کہ تمہارے والد نے بنگلہ ديش کي آزادي کي لڑائي ميں بہت کام کيا تھا۔‘

شاہ عالم نے پہلي چھلانگ لگائي

14 اگست سنہ 1971 کي آدھي رات کو چٹ گاؤں ميں مکتي واہيني کے جنگجو شاہ عالم نے سب سے پہلے پاني ميں چھلانگ لگائي اور وہ ايک کلوميٹر تيرتے ہوئے وہاں کھڑے پاکستاني جہاز کي طرف گئے۔ اس پورے آپريشن کو فرانس ميں پي اين ايس مانگرو سے بھاگ کر آنے والے عبدالواحد کنٹرول کررہے تھے۔

سنديپ انيتھين بتاتے ہيں: ’ان کو تربيت دي گئي تھي کہ ندي ميں پاني کے بہاؤ کے ساتھ تيرتے وہاں کھڑے جہازوں تک جائيں گے۔ وہاں جاکر جہازوں کي تلي پر لگي ہوئي کاہي کو چاقو کي مدد سے صاف کريں گے اور لمپيٹ مائن چپکا کر واپس تيرتے ہوئے سمندر کے دوسرے ساحل تک پہنچ جائيں گے۔

’آدھي رات کا وقت اس ليے مقرر کيا گيا کيونکہ يہ ندي کي لہروں ميں تيزي کا وقت تھا اور دوسري وجہ يہ کہ اس وقت جہاز کي شفٹ بھي بدلتي تھي۔ تيز لہروں کي وجہ سے شاہ عالم صرف 10 منٹ ميں جہاز کے نيچے پہنچ گئے۔ انھوں نے اپنے سينے ميں بندھي لمپيٹ مائن نکالي۔ گمچھے اور کنڈوم کو دور پھينکا‘۔

’جيسے ہي مائن کا مقناطيس جہازسے چپکا شاہ عالم نے واپس تيرنا شروع کيا۔ انھوں نے اپنے ’ فن‘ تيرنے والے ٹرنک اور چاقو پھينکا اور واپس اپني دھوتي پہن لي‘۔

زوردار دھماکے

ٹھيک آدھے گھنٹے بعد رات ايک بج کر 40 منٹ پر پورے چٹ گاؤں کي بندرگاہ ميں پاني کے اندر دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستاني بحري جہاز ‘ العباس’ دھماکے کا سب سے پہلے نشانہ بنا اور پاني ميں ڈوبنے لگا۔

وہاں اچانک افراتفري پھيل گئي۔ وہاں موجود فوجيوں نے دہشت ميں آکر پاني ميں اندھادھند فائرنگ شروع کردي۔ دھماکے جاري رہے۔ ديکھتے ہي ديکھتے لمپيٹ مائن سے کيے گئے سوراخوں سے ’العباس‘، ’اورينٹ بارج نمبر 6‘ اور ’ اورمازد‘ جہازوں ميں پاني بھرنے لگا اور تھوڑي دير ميں يہ تينوں جہاز پاني ميں ڈوب گئے۔

اس رات نارائن گنج، چاندپور، چالنا اور مونگلا ميں بھي کئي زوردار دھماکے سنے گئے۔ اس پورے آپريشن ميں پاکستاني بحريہ کے 500، 44 ٹن وزن کے جہاز ڈبوئے گئے اور 14000 ٹن وزن کے جہازوں کو نقصان پہنچايا گيا۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہيں: ’پاکستاني نے تب تک مشرقي پاکستان ميں اپني تين ڈويژن فوج جھونک دي تھي۔ وہ مکتي واہني کے جنگجوؤں کو بھگاتے ہوئے بھارتي سرحد تک لے آئے تھے۔

’ان دھماکوں کي وجہ سے نيازي کو اپنے فوجي وہاں سے ہٹانے پڑے اور مکتي واہني کے جنگجوؤں پر سے اچانک دباؤ کم ہوگيا اور سب سے بڑي بات کہ آزادي کي جنگ لڑنے والے مکتي واہني کے جنگجوؤں کا حوصلہ اچانک بڑھ گيا۔‘

کپتان سامنت کي گھر واپسي تين دسمبر 1971کو انڈيا اور پاکستان کے درميان لڑائي شروع ہوئي اور 16 دسمبر 1971 کو پاکستان کے 93000 فوجيوں نے بھارتي فوج کے سامنے ہتھيار ڈال ديے۔

22 ماہ تک اپنے گھر سے دور رہنے والے کپتان اپنے وشاکھاپٹنم ميں واقع گھر واپس آئے، ليکن صرف چند دنوں کے ليے ہي۔ ان کي بيٹي اججولا کو وہ دن ابھي تک ياد ہے’وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ ايسا لگ رہا تھا کہ جيسے وہ کئي روز سے سوئے نہيں ہيں۔ ڈاکٹر نے انھيں ديکھ کر کہا تھا کہ انھيں جتنا سونے ديا جائے اتنا اچھا ہے۔ ايک بات ميں نے غور کي وہ بہت خاموش ہو گئے تھے۔

’ميري والدہ نے ان کي پسند کے کھانے بنائے تھے۔ مچھلي کا سالن، کڑھي اور چاول۔ ہمارے ليے تو سارے تہوار اسي دن ہو گئے تھے۔ ہم نے اپني ماں کے چہرے پر جو خوشي ديکھي تھي ہم وہ کبھي نہيں بھول سکتے ہيں۔ خوشي سے بڑھ کر ہم يہ اطمينان ہوا تھا کہ وہ زندہ ہيں۔

’ليکن ہمارے والد بہت دن تک ہمارے پاس نہيں رکے تھے۔ انھيں فوراً بنگلہ ديش جانا پڑا تھا۔ وہاں کي فوج کے قيام ميں مدد کے ليے وہ وہاں گئے تھے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *