عبدالسلام اور چین

ميں پيدائشی پا کستانی تھا اور پاکستانی کی حيثيت ميں دنيا سے جاؤں گا

از قلم : پروفیسرڈاکٹر پرویز ہودبھائی لاہور،  ترجمہ زکریاورک ٹورنٹو

پا کستان کے اسا طيري نظري طبيعات دان عبد السلام ميں پبلک کي دل چسپي پوري دنيا ميں نيٹ فلکس پر ريليز ہونے والي ڈاکو منٹري “سلام ، دي فرسٹ ۔۔۔نو بل لا رئيٹ” ميں موج زن ہوئي ہے۔ اگرچہ ڈاکو منٹري ان کے سائنسي کارناموں پر تفصيل سے روشني ڈالتي ہے ،بلکہ ان کي ذاتي تلخيوں پر اس سے بھي زيادہ ، مگر اس ميں بڑي خامي يہ ہے کہ ان کے چين مشنز کو بالکل نظر انداز کر ديا گيا ہے۔ اس خامي کے لئے فلم بنانے والوں کو موردالزا م قرار نہيں ديا جا سکتا۔ عبد السلام کي زندگي کا يہ پہلو عام طور پر پردہ اخفا ميں رہا حتکہ ان کے رفقائے کا ر سے بھي جو ان سے بہت اچھي طرح شناسا تھے۔ 

تا ہم دو چيني سائنسدانوں  ِجنگ ہان سنJinghan Sun اور ايگزآو ڈانگ ينXiaodong Yin  نے اس مخفي پہلو سے پردہ اٹھا يا ہے۔ ان کا مقالہ عبد السلام اينڈ چائنا : چين کي سائنسي ڈيويلپمنٹ پر سلام کا انفلوئينس ان کي چھ چين ياترا پرايک نگاہ ۔ بيجنگ سے مارچ2019 ميں ايک چيني زبان کے رسالے ميں منظر عام پرآيا ہے۔ اس مقالے کي بنياد ان اجلاسوں کي کاروائي کي رپورٹيں ہيں جو چائينز اکيڈيمي آف سا ئنسز ميں منعقد ہوئي تھيں۔ ميرے چيني طبيعات دان دوستوں نے اس کے کچھ حصوں کا انگلش ميں ترجمہ کيا ہے جس کي تفصيل پيش کي جاتي ہے ۔ 

ان دو چيني سائنسدانوں کے مقالے سے يہ پتہ چلتا کہ سلام نے پاکستان کے جوہري ہتھياروں کے حاصل کر نے کيلئے چين کي مدد حاصل کر نے کي کوشش کي تھي۔يہ امر کسي حد تک اس سوال کا جواب حاصل کرنے ميں مدد کر تا: پا کستان کے بمب پروجيکٹ ميں سلام کا کيا کردار تھا۔ ؟  سلام کے اعداء کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئي رول ادانہيں کيا تھا جبکہ کچھ لو گ کہتے کہ انہوں نے پا کستان کے نيو کلئير راز امريکہ، اسرائيل اور بھارت کو دے دئے تھے۔ اس کے بر عکس ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ سلام امن پسند انسان تھے جو جوہري ہتھيار کبھي بھي حاصل نہيں کرنا چاہتے تھے ۔

 تو پھر کس بات ميں صداقت ہے ۔ ؟

حقائق اب طشت ا ز بام ہوکر ہمارے سامنے ہيں۔ پروفيسرسلام1950کي دہائي ميں اکيڈيمک سپر سٹاربن چکے تھے ۔ وہ چھ دفعہ چين گئے اور چين کے اعلي افسران سے ملاقاتيں کيں۔ پہلي بار وہ چين 1958 ميں گئے جب وہ صدر ايوب خاں کے ہمراہ سائنسي مشير کے طور پر گئے تھے اور وزير اعظم زاؤ اين لائي سے تنہا شرف ملاقات حاصل کيا تھا۔ دونوں کے درميان پرجوش ذاتي تعلق قائم ہو گيا۔پھر وزير اعظم زاؤ اين لائي کي دعوت پر1959 ميں سلام چين ايک کانفرنس ميں شرکت کے لئے گئے۔ اس وقت تک چين نيوکلئير پاور نہيں بنا تھا اور صدر ايوب خاں کو جوہري ہتھياروں ميں کوئي دل چسپي نہيں تھي۔ 

حالات ميں زبردست تبديلي مشرقي پا کستان کي عليحدگي کے بعد 16 دسمبر1971کو آئي۔ اس کے محض چھ ہفتوں بعد صدر پا کستان ذوالفقار علي بھٹو نے 20جنوري 1972کو ملتان ميں پاکستاني سا ئنسدانوں کي ميٹنگ کا اہتمام کيا۔ جذباتي بھٹو نے ان سائنسدانوں کو تلقين کي کہ وہ ايٹم بمب بنائيں ، اس خواہش کا اظہار اس نے پہلي بار1965ميںکيا تھا۔ سلام بھي اس وقت وہاں موجود تھے اوراظہار خيال کيا تھا۔  

سن اور ين Sun-Yinکي رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد بھٹو نے سلام کو1972ميں چين بھيجا تا جوہري ہتھياروں کي ٹيکنالوجي حاصل کر نے ميںچين کا تعاون حاصل کيا جا سکے۔ رپورٹ کے صفحہ120 پر مصنفين رقم طراز ہيں کہ سلام نے اپني تيسري وزٹ کو غير معمولي وزٹnot an ordinary visit  قرار ديا تھا ۔ وزير اعظم زاؤ سے5ستمبر1972 کي شام کو ہونے والي ميٹنگ ميں سلام نے نيو کلئير تعاون کي درخواست خدمت گزار کي۔ 

وزير اعظم کاجواب مدبرانہ تھا: “چائينيز اکيڈيمي آف سا ئنسز نے اس پر بڑي احتياط سے غور و فکر کرنا ہے اور اس کے مطابق تيارياں کر ني ہيں۔ ہم تمہارے يہاں تجربے اور ٹيکنالوجي کيلئے چند افراد بھيج ديں گے”۔ يہ بات صاف نہيں کہ آيا مصنفين اپني رائے کا اظہار کر رہے ہيں جب وہ لکھتے ہيں: “سلام اپنا مقصد حاصل نہيں کر سکے، اگرچہ چائنا ان کے ساتھ روادار تو تھا مگر اس کے ساتھ حد درجہ محتاط بھي”۔ 

ليکن حال ہي ميں شائع ہونيوالے ايک اور مضمون جو امريکہ کي کارنيل يو نيورسٹي کے ڈاکٹر ينگ ينگ چينگ Dr. Yangyang Cheng نے ضبط تحرير ميں لا يا ہے اس کے مطابق سلام کي چين وزٹ کے دو مہينے بعد ايک چائنيز ٹيم جس کے سربراہ جيانگ شين جيJiang Shenjie تھا اس ٹيم نے کانوپ KANUPP (کراچي  نيوکلئير پاور پلانٹ) جو کينيڈين حکومت نے تحفہ ميں ديا تھا ، اس کي افتتا حي تقريب ميں شرکت کي ۔ جيانگ پيشہ کے لحاظ سے کيمسٹ اور نيو کلئير انجنئير تھاجس نے چين کے جو ہري ہتھياروں کے پروگرام ميں بنيادي رول ادا کيا تھا ،نيز وہ بيجنگ کے اٹامک انرجي انسٹي ٹيوٹ کا ڈپٹي ڈائريکٹر تھا۔ 

سلام نے بمب پر اجيکٹ کي ذمہ داري توقبول کر لي ليکن انہوں نے بمب ڈيزائن کي تفصيل ميں شرکت نہيں کي ۔ نيوکلئير ايمپلو ژن اب فرسودہ ہو چکا تھا اور وہ بڑے بڑے اہم ترين کاموں ميں مصروف تھے۔ چنانچہ انہوں نے ستمبر1972 ميں اپنے سابق شاگردرشيدڈاکٹر رياض الدين (وفات2013) کو ٹريسٹ (اٹلي) ميںبمب ڈيزائن کے لئے اپنے آفس ميں مدعو کيا ۔ رياض الدين ميرے سينئير رفيق کار نے قائد اعظم يو نيورسٹي اسلام آباد ميں فزکس ڈي پارٹمنٹ کي داغ بيل رکھي تھي اور ذہني استعداد کے مطابق وہ اس کام کيلئے بالکل موزوں شخص تھے۔ 

سلام نے رياض الدين کو ہدايت کي کہ وہ نيو کلئير امپلو ژن کي فزکس کا درک حاصل کر نے کے لئے تھيوري ٹيشنز کا گروپ تشکيل دے۔ پا کستان اٹامک انرجي کميشن کے چئير مين منير احمد خاں جس کے ساتھ سلام کے دوستانہ مراسم تھے ،نے اس سمجھوتے کي منظوري دے دي۔ رياض الدين جس کو عزت و وقار کا حامل تمغہ ہلال پا کستان 1998 کے نيو کلئير ٹيسٹ کے بعد تفويض کيا گيا تھا اس نے فرض سمجھتے ہوئے حکم کي اطاعت کي۔ يہ سارا کام کس طرح رنگ ميں پايہ تکميل کو پہنچا ، وہ رياض الدين کي سوانح ميں ديکھا جا سکتا ہے جو عنقريب منصہ شہود پر آنے والي ہے۔ 

سوال پيدا ہوتا ہے کيا رياض الدين گروپ کا معلوماتي ذخيرہ اس ضمن ميں اہم تھا ؟ امريکنوں کا کہنا تھا کہ پا کستان کے پاس جوہري ہتھياروں کے اس ٹيسٹ کے تفصيلي  بليو پرنٹ تھے جو چين نے 1960ميں کيا تھا۔ ان بليو پرنٹس کا ايک پلندہ بحري جہاز BBC Cargo سے ضبط کياگيا تھا جو ليبيا کي جانب روانہ تھا۔ مزيد جوہري مواد جو ڈاکٹر عبد القدير خاں نے بيچا تھا وہ بھي پکڑا گيا تھا۔ اس کے بعد صدر پاکستان جنرل پرويزمشرف نے ڈاکٹر عبد القدير خاں کو حکم ديا تھا کہ وہ پي ٹي وي پر آکر اظہار ندامت کريں۔ 

بالفرض محال پا کستان کے پاس بليو پرنٹس ہوتے تب بھي وہ بالکل بے سود تھے جب تک کہ بمب بنانے ميں کارفرما تھيورٹيکل پرنسپلز کي سوجھ بوجھ نہ ہو۔ ليبيا کے پاس يہي بليو پرنٹس تھے مگروہ کچھ نہ کر سکے۔ پا کستان کے لئے فزکس کے علم کے ساتھ ڈئزائن ٹمپليٹ کے ہونے سے مزعومہ کام سہل ہوگيا۔يوں کسي ايٹم بمب کي طاقت ميں کمي بيشي کرنا قدرے آسان ہوگيا اور ا س کے ساتھ ساتھ بموں کے ڈيز ائن ميں رد و بدل کرنے کي صلاحيت حاصل کر نا بھي ممکن ہو گيا۔ 

يہ بات کہ سلام نے جوہري راز دوسرے ملکوں کوفريب سے فروخت کر دئے سراسر بے بنياد جھوٹ ہے ان لوگوں کا سا ختہ جھوٹ جو خود اس کالے دھندے ميں ملوث تھے اور اس کے بعدان کا کچا چھٹا کھل گيا۔  سلام بمب کے ڈيويلپمنٹ کام ميں شامل نہيں تھے ما سوا عمومي طور پر نيز وہ ٹيکنيکل رازوں سے قطعي طور پربے بہرہ تھے ۔ 

تا ہم سلام کے لئے بہت بڑا ذ  ہني صدمہ آنيوالا تھا ۔1974نے ان کي زندگي کو اتھل پتھل کرديا۔ سلام غم سے نڈھال ہوگئے جب بھٹو کي حکومت نے ان کي احمديہ کميونٹي کو نان مسلم قرارد ے ديا ۔ اس سے قبل احمدي ہونے کے ساتھ پا کستاني قوم پرست ہو نا ممکن تھا۔ اگرچہ سلام نے شجا عت کے ساتھ احمدي اور قوم پرست ہونے کي کوشش کي مگر اٹامک بمب کي طرف ان کا رجحان رفتہ رفتہ تبديل ہوتا گيا۔ بالآ خر کار انہوں نے اٹامک بمب کو انسانيت کي بقا ء کے لئے خطرہ جان ليا۔ 

اختتاميہ

ميري زندگي کے بے شمار چھوٹے يا بڑے تا سفات ميں سے ايک يہ ہے کہ ميں کبھي جرات نہ کر سکا کہ سلام کے ساتھ بمب کے مسئلے پر گفت و شنيد کروں۔ 1984سے لے کر ان کي وفات سے دو يا تين ماہ قبل 1996تک انہوں نے اور ميں نے گوناگوںمسائل جيسے سوشل، پو ليٹيکل اور سا ئنٹفک پر بحث کي ، ليکن اس موضوع پر کبھي نہيں۔ کيا ان کواپني گزشتہ کوششوں پر کوئي تاسف تھا ؟ ان کو يہ معلوم تھا کہ ميں نے جوہري ہتھياروں کے خلاف اکثر لکھا اور بولا ہے (بشمول پا کستان کے)۔ اگرچہ مجھے شک ہے کہ سلام کے احساسات ميں تبديلي آگئي تھي مگر ميں نے خود کو جو نئير سمجھا کہ يہ سوال ان کے گزارش کروں۔

(بہ شکريہ روزنامہ ڈان 30 نومبر2019) 

https://www.dawn.com/news/1519654/abdus-salam-in-china

نوٹ: اس مضمون کے ترجمہ نگار کي ملاقات پر وفيسر عبد السلام سے ميڈيسن وسکانسن ميں1982ميں ہوئي تھي جب آپ وہاں يو نيورسٹي ميں ليکچر دينے کيلئے آئے تھے۔ آپ نے راقم کو اس کي اطلاع خط کے ذريعہ دي تھي۔ ان دنوں امريکي اخبارات (نيو يارک ٹائمز ، اور انڈيا ابراڈ) ميں متعدد مضامين پا کستان کے نيوکلئرپروگرام کے بارے ميں شائع ہوئے تھے۔ ملاقات کے دوران جب راقم نے سوال کيا کہ کيا آپ نے اس ضمن ميں پا کستان کي مدد کي ہے جيسا کہ اخبارات کہہ رہے ہيں تو آ پ نے فر مايا تھا: 

It’s a double edge sword يہ واقعہ راقم آثم کي کتاب ”ڈاکٹر عبد السلام،مسلمانوں کا نيوٹن“ ميں 307 پر درج ہے جو2003 ميں شائع ہوئي تھي۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *