اعلیٰ عدلیہ تاریخ کے جھروکوں سےاسکا ماضی و حال

وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْ ۔(المائدة :43)

ترجمہ: اور اگر تُو فیصلہ کرے تو اُن کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔author

اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو عموماً اور خصوصاً صاحب اقتدار لوگوں کو عدل و انصاف کی تعلیم دیتاہے۔ حالیہ دنوں میں عدلیہ کے فیصلے اور وکلاء دہشت گردی کی مثال ان اسلامی تعلیمات کو پامال کر گئی۔جس سے ملک کا وقار دنیا میں مجروح ہوا۔ اس ضمن میں مشہور شاعر اکبر الہ آبادی کا شعر یاد آیا۔ 

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا

لو آج ہم بھی صاحبِ اولاد ہو گئے 

آنحضرتﷺ کے عملی نمونے نے اس متذ کرہ بالا آیت میں پنہاں حسن کو دوبالا کردیا ہے ۔ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے آپﷺ نے ایک مرتبہ ظالم قوموں کے انجام کے حوالے سے  یہ تنبیہ فرمائی۔ ترجمہ: تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب انکا کوئی بڑا اور بااثر آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا اس کو سزا دیتے۔ خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمدﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔

(صحیح بخاری احادیث انبیاء ، باب رحمت حدیث الغار روایت نمبر 3475)

اس معاملے میں قرآن کریم نے کسی بھی قسم کا کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ کوئی خونی یا ذاتی تعلق انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ حضرت نوح ؑ اور آپ کے بیٹے کا قصہ اس امر کی مزید وضاحت کرتا ہے۔ آپ کا بیٹا دیگر منکرین کے ساتھ ہی غرق ہو گیا تھا کیونکہ اس نے بھی آپ علیہ السلام  کا انکار کردیاتھا۔ تاریخ کا دوسرا واقعہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کے چچا کا ہے۔ ہجرت کے وقت تک مشرف بہ اسلام نہ ہونے کی وجہ سے غزوہ بدر میں قریشِ مکہ کے ساتھ تھےاور شکست کے بعد جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح باندھ دیا گیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ شدّتِ تکلیف سے کراہنے لگے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کراہنے کی آواز سن کر آنحضرتﷺ بے چین ہوگئے۔ آپﷺ کو نیند نہیں آرہی تھی اور مسلسل کروٹیں بدلتے جارہے تھے ۔ یہ تکلیف دیکھ کر قیدیوں کے نگران نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رسیاں ڈھیلی کردیں جس سے انکا کراہنا بند ہوگیا ۔ آپﷺ کے دریافت کرنے پر آپﷺ کو معلوم ہوا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رسیاں ڈھیلی کردی گئی ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر تمام قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کردو۔کیونکہ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ تم انکے ساتھ دیگر قیدیوں کی نسبت کوئی امتیازی سلوک روا رکھو۔

  (الطبقات الکبریٰ جلد4صفحہ 325 مؤلف محمد بن سعد بن منیع الزھری)

ان واقعات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کیا رشتہ دار اور غیر رشتہ دار، کیا دوست اور کیا دشمن۔ آپﷺ کا سلوک سب کے ساتھ عادلانہ اور یکساں تھا، آپﷺ ہمیشہ قرآن کریم کے اس حکم کی پیروی فرماتےتھے۔ کیاآج اور ماضی کے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان ایساعدل کرتے رہے ہیں؟ اور ان کو اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور جواب دینا ہوگا ۔ یاد رکھیں جہاں کہیں بھی عدل مطلق ناپید ہوگا وہاں شدید بدنظمی پیدا ہوجائے گی۔ علاوہ ازیں جہاں نظام عدل کی یہ حالت ہو کہ انسانی حقوق کے ادنیٰ تقاضے بھی پورے نہ ہو رہے ہوں وہاں اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے معاشرے میں ہم دیگر بنیادی حقوق کی حالت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔پس اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے کو ایک ادنیٰ ترین درجہ پر بھی عدل کے احکام کو پسِ پشت نہیں ڈالنا چاہئے۔ اب ہم اپنے اعلیٰ عدلیہ کے تاریخی فیصلوں ، ماضی و حال اور انکے کردار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ 

مشرف غدار یا محب وطن ۔اسکا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں اُسی طرح جس طرح نواز شریف نے فیصلہ آنے پر کہا ہم نے اس معاملے کو خدا پر چھوڑ دیا ہے ۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے اہم فیصلے زیادہ تر تنقید کا شکار رہے ہیں۔ 2008ء میں عدلیہ تحریک کی بحالی میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری مطلق العنان بن گئے۔ انہوں نے 110 ججز کو فارغ کردیا جبکہ مشرف نے 6 ججز کو فارغ کیا تھا۔ افتخار چودھری کو جیسے پاور ملی وہ خدائی فوجدار بن بیٹھے۔ درجنوں فیصلے ایسے صادر کئے جن سے نظر آتا  ہے کہ یہ فیصلے ان کے ذاتی عناد اور انتقامی کارروائی تھے۔ عدلیہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے یہاں تفصیل دینے کی ضرورت نہیں۔ علاوہ اس کے انہوں نے 110 ججز کو فارغ کرکے اپنی ذہنی تنگ نظری کے حامل افراد کو بھرتی کیا اور ترقیات دیں۔ ایسی سوچ کے حامل ایک وقار احمد سیٹھ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ہیں۔ جنہوں نے پرویز مشرف کو غدار، پھانسی اور اسلام آباد Dچوک پر انکی لاش کو تین دن تک لٹکانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جو آج تک نہ پاکستان کے قانون اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ملتا ہے ۔ اسلام میں لاش کی بے حرمتی کو منع کیا گیا ہے بلکہ رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں تو جانوروں کا بھی احترام کرنے کا حکم ہے۔ ایسا قانون تو طالبان اور داعش کے لیڈروں سے ملتاہے۔ ملّا عمر کہتا تھا چوک پر لٹکاؤ، پھانسی دواور ان کی لاشوں کو فٹ بال بنا کر کھیلو۔ موصوف جج وقار احمد سیٹھ کا ماضی تلاش کریں ، ان کے فیصلوں پر نظرڈالیں تو یہ شواہد ملتے ہیں۔

یاد رہے موصوف PTMاور TTPکے حلقوں میں ’’مسیحا‘‘ کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ غداری یا دہشت گردی کے جرم میں ملوث کو ئی شخص محض ان موصوف کی کورٹ کی دیوار یا دہلیز پر قدم رکھ دے تو رہا ہو جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں اب تک PTMکے 200 افراد کو ضمانتیں اور رہائی مل چکی ہے۔ یہ تمام غداری کے سنگین جرائم میں ملوّث تھے۔ مثلاً دشمن ایجنسیوں سے فنڈنگ، دہشت گردوں سے روابط، لوگوں کو پاکستان توڑنے ،ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جنگ کیلئے ابھارنا وغیرہ۔ چند سال قبل TTPاور داعش کے 102 مجرموں کو سزائیں ہوئیں۔ ان کے ایک قلم کی جنبش سے تمام کو معاف کر دیا گیا۔ اسی طرح آرمی عدالتوں سے سزائیں پانے والے 6 دہشت گردوں کی سزائیں معطل کردیں۔ فوجی ادارہ جب سپریم کورٹ گیا تو بمشکل اس پر عمل درآمد رکوایا۔ ورنہ موصوف جج نے تو بری کر دیا تھا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ’’دریا دل‘‘ موصوف جج نے پرویز مشرف کو اُسی شق کے تحت ’’غدار‘‘ قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی جو کہ اُس وقت آئین کا حصہ بھی نہیں تھی جس وقت پرویز مشرف ایمرجنسی لگا رہا تھا۔ 

راقم الحروف پرویز مشرف کا وکیل نہیں ہے لیکن حقائق کی روشنی میں اسکے دور میں جو اچھے کام اور فوائد اندرونی و بیرونی سطح پر دیکھے گئے ، بیان کردیتا ہوں۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ 

تاریخ لیڈروں کو نتائج سے جانتی ہے اور نتائج یہ کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو پھانسی دینی چاہئے۔ کیونکہ اس نے اپنے ملک کی کمان ان چند حالات کے پیشِ نظر سنبھالی ۔سری لنکا سے واپسی پر اس کے جہاز کو جس میں 100سے زائد افراد سوار تھے کہا گیا کہ انڈیا میں اتار  دیں۔ دشمنی جنرل سے تھی لیکن مسافروں کا کیا قصور تھا۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کسی ملک کی فوج کے سربراہ اور مسافروں کے ساتھ کوئی ملک ایسا رویہ روا نہیں رکھ سکتا ۔ بہر صورت جنرل مشرف نے ڈوبی ہوئی معیشت کو سہارا دیا۔ پاکستان دنیا بھر میں بینکاری  میں تیسرا منافع بخش ملک بن گیا۔ 1999ء میں ملکی معیشت دیوالیہ ہو رہی تھی۔ 2005ء کے اعدادو شمار کے مطابق مجموعی پیداوار GDP65 ارب سے بڑھ کر 125 ارب ہوگئی۔ ملک کا مجموعی قرض 39ارب سے کم ہوکر 32ارب پر آگیا۔ فی کس آمدنی 460ڈالر سے بڑھ کر 800ڈالر ہوئی۔ BBCکی 8جون2007ء کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2006/2007کے دوران ملک میں فی کس آمدنی 950ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ 

جنرل مشرف کو پھانسی دینی چاہئے کیونکہ اس کے دور میں غربت کی شرح میں 10فیصد کمی واقع ہوئی۔ ملکی و غیر ملکی ذخائر 700 ملین ڈالر سے بڑھ کر ایک ہزار 17ملین  ڈالر تک لے گئے۔ اس دور میں تمام میڈیا چینلز آزاد تھے اور بہت سے اعدادو شمار ان کے دور میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر اچھے رہے۔ جن میں آخری نکتہ یہ کہ 1999ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد IMFسے جو پہلے قرض لیا گیا وہ بخوبی ادا کر دیا گیا  اور آئندہ کیلئے کوئی قرضہ نہ لیا گیا۔ آئیے آپ کو ماضی اور حال کے فیصلے کرنے والوں سے متعلق کچھ آگاہی دیتے ہیں جن کے فیصلے بولتے ہیں اور پھر فیصلہ آپکو کرنا ہے۔ راقم تجزیہ کر سکتاہے۔ 

جسٹس نعیم حسن شاہ صاحب : آصف سعید کھوسہ سابق چیف جسٹس کے سسر ہیں۔ جس نے نوازشریف کو سپریم کورٹ حملہ کیس میں کلین چٹ دی تھی اور بھٹو کو پھانسی کی سزا دی تھی۔ نواز شریف کو جب آصف سعید کھوسہ کے سسر نے کلین چٹ دی تونواز شریف نے  اِنہیں خوش ہوکر وکیل سے اُٹھا کر جج بنا دیا۔ یہ کافی عرصہ نواز شریف کے ذاتی وکیل کی حیثیت سے کیس لڑتے رہے۔ 

ناصر سعید کھوسہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بھائی ہے۔ اسکو نواز شریف نے بیوروکریٹ لگایا تھا اور ابھی شہباز شریف نے اسکا نام بطور چیف الیکشن کمشنر کیلئے عمران خان کو  پیش کیا ہے کہ یہ غیر جانبدارہے۔ 

طارق سعید کھوسہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا دوسرا بھائی ہے جسے شہباز شریف نے DG-FIAلگایا تھا اور ان کی بیوی نرگس کھوسہ سے شادی کی تھی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل یہ کہا کہ ’’قابل رحم ہے وہ قوم جو مجرموں کو اپنا لیڈر مانتی ہے‘‘۔ راقم کا ذاتی تجزیہ ہے کہ قابل ترس ہیں وہ ’’عدالتیں ‘‘جو میگا کرپٹرز کو مفروضہ گراؤنڈ پر ضمانت دیتی ، رہا کرتی اور انکی اربوں کی کرپشن کے ’’حدیبیہ کیس‘‘ سالوں دبائے رکھتی ہیں اور قابل ملامت ہے وہ ’’الیکشن کمیشن‘‘جو اربوں کے حرام خوروں ، قاتلوں، لٹیروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر تا اور انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ کیا یہ قول و فعل کا تضاد نہیں؟ 

اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خرابیاں عدالتی نظام میں ہیں۔ سندھ کے لوگوں کا یہ اعتراض جائز ہے کہ نواز شریف کو پنجاب کی عدالتوں سے ریلیف مل جاتی ہے۔ یہ تاثرقومی یکجہتی کیلئے خطرناک ہے۔ اس کے علاوہ دیگر نواز شریف کے اہم عہدیداروں کے بھی پنجاب ہائی کورٹ میں رشتہ دار ہیں۔

حالیہ دنوںمیں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں لاہور ہائی کورٹ اور دیگر ججز کے ساتھ عدلیہ بحالی کے روح رواں لیڈر علی احمد کُرد دبئی میں رقص و سرود کی نجی محفل میں پائے گئے۔ ان ججز کا احتساب کون کرے گا۔ اکثر کے فیصلے ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔یہ ہے ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ کا نظام اور اس کا ماضی و حال۔ آئینہ دکھایا توبُرا مان گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *