درس قرآن کریم

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لَا تَسْفِکُوْنَ دِمَآءَ کُمْ وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ ۔ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآ ءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِھِمْز تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ط وَ اِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُھُمْطاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ جفَمَاجَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰو ةِ الدُّنْیَا وَ یَوْ مَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ  طوَمَااللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔

ترجمہ:اور جب ہم نے تمہارا میثاق لیا کہ تم (آپس میں ) اپنا خون نہیں بہاؤگےاور اپنے ہی لوگوں کو اپنی آبادیوں سے نہیں نکالو گےاس پر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ تھے۔ اس کے باوجودتم وہ ہو کہ اپنے ہی لوگوںکو قتل کرتے ہو اور تم اپنے میں سے ایک فریق کو اُن کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ تم گناہ اور ظُلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پُشت پناہی کرتے ہو اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو فدیہ لے کر اُن کو چھوڑدیتے ہو جبکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ پس کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟۔ پس تم میں سے جو ایسا کرے اس کی جزا دنیا کی زندگی میں سخت ذلّت کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ اور قیامت کے دن وہ سخت تر عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور اللہ اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

(سورة البقرةآیت نمبر 86-85)

تفسیر

وَ اَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ : تم نے اِس معاہدہ پر اپنی گواہیاں ثبت کردیں۔ اِ س سے آگے خداتعالیٰ فرماتا ہے پھر تم وہی ہو کہ اپنے لوگوں کو قتل کرانا اور جلا وطن بنانا چاہتے ہو اس طرح کہ تَظٰھَرُوْنَ عَلَیْھِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  ۔ بدکاری اور ظلم کیلئے ان کی پیٹھ بھرتے ہو۔ مدد دیتے ہو۔ قیدیوں کو تو چندہ دے کر چھڑاتے ہو مگر جو اس سے بُرا کام ہے جلا وطن کرانا اس سے باز نہیں آتے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان25فروری 1909ء)

اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ: یہ مرض آجکل بہت ساری ہے کہ ایک ہی کتاب کے بعض احکام کی تو تعمیل کی جاتی ہے بعض کی مطلق پرواہ نہیں کرتے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو نماز پڑھتے ہیں مگر زکٰوة کا خیال تک نہیں ۔ روزے رکھتے ہیں مگر نہیں سوچتے کہ کسی پر ظلم کرنا برا ہے۔ یوں تو تہجّد گذار ہیں مگر لڑکیوں کو میراث نہ دینے کی قَسم ہے۔ یہ بہت بری بات ہے اس سے بچو۔ ورنہ اس کی سزا جہنم ہے۔ 

وَمَااللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ: یہ ایک پیشگوئی تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔ (حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 185)

حدیث

یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّةِ کیشانِ نزول اور مہدی کی علامات

جب صحابہ رضوان اللہ علیھم نے دیکھا کہ ایک ماہِ رمضان کہ یہ عظمت اور شان ہے اور اس قُرب الہٰی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گذرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں و مہینوں میں بھی کوئی ایسے ہی اسرارِ مخفیہ اور قُربِ الہٰی کے ذرائع موجود ہوں وہ معلوم ہو جاویں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا حکم ہو جاوے۔ اسی لئے انہوں نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عباداتِ خاصہ بھی بتا دئے جاویں۔

ہلال اور قمر کا تفاوت: یہاں لفظ اَھِلَّةِ کا استعمال ہوا ہے جو کہ ہلال کی جمع ہے۔ بعض کے نزدیک تو پہلی دوسری اور تیسری کے چاند کو اور بعض کے نزدیک ساتویں کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد قمر کا لفظ اطلاق پاتا ہے ۔ احادیث میں جو مہدی کی علامات آئی ہیں ان میں سے مہدی کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ ایک ماہِ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔ وہاں چاند کیلئے آنحضرت ﷺ نے قمر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اعلیٰ درجہ کا قمر 13،14،15 تاریخ کو ہوتا ہے اور اس کے گرہن کی بھی یہی تاریخیں مقرر ہیں ۔ اس سے کم زیادہ نہیں ہو سکتا۔ اورایسے ہی سورج گرہن کے لئے بھی 27،28،29 تاریخ ماہِ قمری کی مقررہیں۔ غرض کہ قمر کا لفظ اپنے حقیقی معنوں کی رُو سے مہدی کی علامت تھی لیکن لوگوں نے تصرّف کر کے وہاں قمر کی بجائے ہلا ل کا لفظ ڈال دیا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے۔  

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 318 )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *