دوستو دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی
اس جنگ کے دوران دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات شروع ہوے، موجودہ روس میں ہونے والے اس مزاکرات میں سوویت یونین کے اسٹالن ، برطانوی وزیر اعظم چرچل ، اور امریکی صدر روزویلٹ شریک تھے، مزاکرات کے دوران امریکی صدر روزویلٹ نے کاغذ کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کچھ لکھا اور چرچل کے حوالے کردیا،
چرچل نے پڑھنے کے بعد اس کاغذ کے ٹکرے کو سیگریٹ کے زریعہ جلا کرایش ٹرے میں پھنک دیا اور جواب میں ایک اور کاغذ کے ٹکرے پر کچھ تحریر کر کے روزویلٹ کے حوالے کردیا ، روز ویلٹ نے وہ جواب پڑھا اور کاغذ کے ٹکرے کو ایش ٹرے میں ویسے ھی پھنک دیا، کیوں کے روز ویلٹ سموکنگ نہیں کرتا تھا اس لیےوہ اس ٹکرے کو جلا نا سکا،
جیسے ہی یہ سب مذاکرات کی میز سے اٹھے سوویت انٹلیجنس سروس کے کارندوں نے جا کر اس کاغذ کو تحویل میں لے لیا جو جل نا پایا تھا، جب سویت ایجنسیوں نے چرچل کے لکھے کاغذ کو پڑھا تو اس پر کوڈ ورڈ میں یہ جملہ لکھا ہوا تھا،
ڈرنے کی ضرورت نہیں کسی بھی صورت میں پرانا عقاب گھونسلے سے نہیں اڑ سکتا”
سوویت انٹلیجنس سروس نے ان الفاظ کا تجزیہ شروع کر دیا اور آخر کار نتیجہ نکالا گیا کے یہ ہمارے کسی بوڑھے شخص کو قتل کرنے کے بارے میں بات ھو رہی تھی، اور وہ بوڑھا کوئی اور نہیں ہمارا صدر اسٹالن ھی ہے،
انہوں نے اس کوڈ کا مطلب سمجھنے کے لیے مذہبی کتاب بائبل، ،مغرب کے مشھور مصنف شیکسپیئر سمیت مختلف لوگوں کی کتابوں سے بھی مدد لی کے آخر اس جملے کا مطلب کیا ھو سکتا ہے،
یہ بات تو روسیوں پر وازضح ھو گئی تھی یہ سویت صدر کو قتل سے مطلق بات چیت ہے اور اس جملے میں پرانا عقاب اسٹالن ہے ، اور گھوںسلا سویت یونین ہے۔
احتیاطی تدابیر شروع کر دی گئیں، صدر کے گارڈ کو تبدیل کیا گیا، خفیہ ایجنٹ بڑھا دئے گئے، اور اس کے علاوہ تمام ضروری سامان اور گولہ بارود کے ذخائر کی حفاظت کا بھی دوبارہ نیے سرے سے بندوبست کیا گیا،
مزاکرات ختم ھو گے تمام رہنما خاموشی سے اپنے ممالک کی طرف روانہ ہوگئے لیکن کچھ نا ہوا،
ان مزاکرات کے کے کئی سال بعد ایک سوویت یونین سے تعلق رکھنے والا مترجم جو مزاکرات میں شریک تھا اور اس سارے قصے کو جانتا تھا اتفاق سے چرچل کو کسی تقریب میں ملا اور باتوں باتوں میں چرچل سے اس کے لکھے مبہم اور خطرناک جملے کا مطلب پوچھ بیٹھا جس پر قہقہ لگاتے ہوے چرچل نے جواب دیا بھائی اس دن جب مزاکرات ھو رہے تھے روزویلٹ نے مجھے ایک پرچی دی جس پر لکھا تھا کے مسٹر چرچل ، آپ کی پتلون کی زپ کھلی ہے مہربانی کر کے بند کر لیں” میں نے وہ پرچی پڑھی اور پھر ایش ٹرے میں جلا دی اور دوسری پرچی پر میں نے جواب لکھا کے بھائی ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ پرانا عقاب ہے اپنے گھونسلے سے اڑ نہیں سکے گا!”
نتیجہ:
دوستو اپنے آپ کو سیاسی اور مذہبی تجزیوں میں بہت زیادہ غرق نہ کیا کریں اور ان سازشوں کے تانے بانے نا بنا کریں کیوں کے جو نظر آتا ہے اکثر ویسا بلکل بھی نہیں ہوتا جیسا اپ فرض کے کے بیٹھ جاتے

