کورونا وائرس: اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

تحریر : جیمز گیلیگر

نامہ نگار برائے سائنس اور صحت

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدیدفکرمیں مبتلا کرنے والا وائرس جو چین سے شروع ہوا تھا اب 100 سے زیادہ ممالم تک پھیل چکا ہے۔ دنیا میں اب تک کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 3600 سے زائد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں تاحال اس کے 18 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

یہ بظاہر بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔

ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے۔لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔

اس وائرس سے متاثر ہونے والے 44000 مریضوں کے ڈیٹا کے جائزہ کے بعد عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 81 فیصد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوئیں۔

14 فیصد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں۔پانچ فیصد لوگ شدید بیمار پڑ گئے۔

اس بیماری جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا سے مرنے والوں کی شرح ایک سے دو فیصد رہی لیکن ان اعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ہزاروں افراد کا علاج اب بھی جاری ہے اور شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی غیر واضح ہے کہ ہلکی پھلکی علامات والے کتنے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے، اس صورت میں شرح اموات کم بھی ہو سکتی ہے۔

ہر سال ایک ارب افراد انفلواینزا کا شکار ہوتے ہیں اور دو لاکھ نوے ہزار سے چھ لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ فلو کی شدت ہر سال بدلتی ہے۔

کیا کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے؟

تاحال اس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے، تاوقت کہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔

تاہم اس کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔

ہسپتالوں میں وائرس کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال شروع کر رکھا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کے آیا ان کا کوئی اثر ہے۔

ہم خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے:

اپنے ہاتھ ایسے صابن یا جیل سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔

کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، بہتر ہوگا کہ ٹشو سے، اور اس کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔

کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔

اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔

یہ کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے؟

ہر روز ہزاروں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ اس سے کہیں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہوسکتا ہے کم سے کم اس سے 10 گنا زیادہ جتنا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بتایا جا رہا ہے۔

یہ اب تک جنوبی کوریا، اٹلی، ایران میں پھیل چکا ہے جس کے بعد یہ خدشہ ہے کہ یہ عالمی وبا بن جائے گی۔ کسی بھی انفیکشن کو عالمی وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب وہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل کر خطرہ بن جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ اس تعداد کے حوالےسے فکر مند ہیں خصوصاً ایسے کیسز کے بارے میں جن کا بلاواسطہ تعلق چین سے ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’وائرس کے موجود ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ‘

موسم سرما میں سردی اور فلو کی وجہ سے یہ زیادہ تیزی سے پھیلا، امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس وبا کے پھیلائو کو روکنے میں مدد دے گی۔

تاہم کورونا وائرس کی طرح کا ایک وائرس ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ گرمیوں میں سعودی عرب پھیلتا ہے۔ اس لیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ گرمیاں اس وبا کو روک دیں گی۔

یہ سب شروع کیسے ہوا؟

یہ وائرس خود کوئی ’نیا نہیں‘ ہے۔ یہ صرف انسانوں میں نیا ہے۔ یہ ایک مخلوق سے دوسری میں آیا ہے۔

کئی ابتدائی کیسز چین میں ووہان کے ایسے بازار سے جوڑی گئے جہاں جانوروں کا گوشت ملتا تھا۔

چین میں کئی لوگ جانوروں سے بہت قریب ہوتے ہیں جس سے یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ اور گنجان آباد شہروں میں یہ بیماریاں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔

سارس نامی بیماری بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور سیوٹ کیٹ سے ہوتی ہوئی انسانوں تک پہنچی تھی۔

سارس کی وبا نے چین میں سال 2002 کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا جبکہ آٹھ ہزار سے زائد اس سے متاثر ہوئے۔

حالیہ وائرس کورونا وائرس کی یہ ساتویں قسم ہے اور اب تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن جب حالات سنبھل جائیں گے تو سائنسدان اس کا قریبی جائزہ لیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *