تہذیبسیاستقومیمتفرقمعاشرہ

ہم قوم ہیں یا ہجوم؟

تحریر: صادق راہی برگیڈیر (ر)

 اگر قیادت سادگی کی بات کرے مگر خود شاہانہ طرز زندگی اختیار کرے تو پیغام کمزور ہو جاتا ہے۔ عوام سے قانون کی پابندی کا مطالبہ ہو مگر طاقتور افراد قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے دکھائی دیں تو قانون پسندی کی تربیت مشکل ہو جاتی ہے۔

کبھی ہماری پہچان ہماری دولت، عمارتوں، لباس یا عہدوں سے نہیں بلکہ ہمارے رویوں سے ہوتی تھی۔ بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، سچ بولنا، وعدہ نبھانا، ضرورت مند کی مدد کرنا، خواتین اور بزرگوں کے لیے جگہ چھوڑ دینا، معذور کو راستہ دینا، مہمان کا احترام کرنا اور اجتماعی وسائل کو امانت سمجھنا ہماری معاشرتی تربیت کا حصہ تھا۔ماں باپ بچوں کو صرف پڑھاتے نہیں تھے، تربیت بھی کرتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہوئے نصیحت ہوتی تھی کہ بڑوں کے سامنے آواز پست رکھنا، راستے میں کسی بزرگ کو دیکھو تو پہلے گزرنے دینا، بس یا ٹرین میں بزرگ یا خاتون کھڑی ہو تو اپنی نشست چھوڑ دینا۔ کسی کے گھر جاؤ تو سلام کرنا، کسی سے وعدہ کرو تو اسے نبھانا اور کسی کی ضرورت دیکھو تو حتی المقدور مدد کرنا اخلاق کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ آج صورت حال بدل رہی ہے۔آپ کسی دروازے سے گزرنے لگیں تو بعض اوقات نئی نسل کا کوئی فرد آپ کو ایک طرف کرتے ہوئے خود پہلے گزر جاتا ہے۔ عوامی جگہ پر بزرگ کھڑے ہوں اور نوجوان آرام سے بیٹھے رہیں تو کسی کو عجیب نہیں لگتا۔

سڑک پر معمولی بات پر گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ اختلاف رائے، مکالمے کے بجائے دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر زبان اور لہجے کی جو بے احتیاطی دکھائی دیتی ہے، وہ ہمارے اجتماعی مزاج کی ایک تلخ تصویر ہے۔یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر قوموں کے اخلاق اور اقدار کی پہچان انہی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟شاید ہمیں یہ تلخ سوال خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم ایک قوم کے بجائے صرف ایک بڑا ہجوم تو نہیں بن گئے؟ اقدار کہاں سے آتی ہیں ؟ بطور طالب علمِ عمرانیات یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ معاشرے صرف حکومتوں، مذہبی اداروں یا معاشی نظاموں سے نہیں بنتے۔ معاشرتی کردار کی تشکیل معاشرتی اداروں، خاندان، تعلیم، مذہب، ثقافت، رسم و رواج، اخلاقی اصولوں اور روزمرہ کے اجتماعی رویوں سے ہوتی ہے۔ہر معاشرہ اپنی اگلی نسل کو اپنے عمل سے یہ سکھاتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔بچہ اپنے والد کو دیکھ کر سیکھتا ہے۔ استاد سے رویہ دیکھ کر سیکھتا ہے۔ اپنے محلے، بازار، دفتر، مسجد، مدرسے، تعلیمی ادارے، عدالت، پولیس اسٹیشن اور سیاسی قیادت کو دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ قانون اور اخلاق کی اصل حیثیت کیا ہے۔اسی لیے قوموں کا کردار صرف نصیحتوں سے نہیں بنتا، مثالوں سے بنتا ہے۔
اگر گھر میں بچے کو سچ بولنے کا درس دیا جائے مگر وہ والد کو معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولتے دیکھے تو اس کے ذہن میں نصیحت نہیں، عمل محفوظ ہوگا۔اگر استاد دیانت داری پڑھائے مگر ادارے میں سفارش اور رشوت کو کامیابی کا ذریعہ بنتے دیکھے تو کتاب کا سبق کمزور پڑ جائے گا۔اگر ریاست شہری سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کرے مگر بااثر افراد کے لیے قانون مختلف دکھائی دے تو قانون کا احترام کمزور ہوگا۔یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقی بحران جنم لیتا ہے۔ وہ پاکستان جو ہمیں یاد ہے ہماری پچھلی نسلوں میں وسائل شاید آج کے مقابلے میں کم تھے، مگر کفایت شعاری اور احساسِ ذمہ داری زیادہ نمایاں تھا۔بجلی کا استعمال اس احتیاط سے کیا جاتا تھا کہ جس کمرے سے لوگ اٹھتے، بتی خود بند کر دی جاتی۔ ایک ہی کمرے میں کام ہو سکتا ہو تو پورے گھر کی بتیاں جلانے کو فضول سمجھا جاتا۔ یہ صرف بجلی بچانے کا عمل نہیں تھا اس کے پیچھے ایک سوچ تھی کہ نعمت ضائع نہیں کرنی۔آج بجلی کے بحران، مہنگائی اور توانائی کی کمی کے باوجود ہمارے گھروں، دکانوں، دفاتر اور سرکاری عمارتوں میں غیر ضروری روشنیاں اور پنکھے چلتے رہتے ہیں۔مسئلہ صرف بجلی کا نہیں، اجتماعی ذمہ داری کے احساس کا ہے۔یہی رویہ پانی کے استعمال میں بھی نظر آتا ہے۔ روزانہ بے شمار مقدار میں پانی ایسی سرگرمیوں میں ضائع ہوتا ہے جہاں احتیاط سے کام لیا جا سکتا ہے۔ سرکاری سطح پر بھی وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری ہمیشہ ترجیح نہیں بنتی۔

ہم دوسروں سے کفایت شعاری کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں، مگر اپنے حصے کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بھوک صرف پیٹ کی نہیں، طمع کی بھی ہے۔ ہمارے معاشرتی زوال کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ضرورت اور حرص کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔شادیوں میں بعض اوقات اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور خوشحال لوگ کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کئی دنوں سے بھوکے ہوں۔ پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈالنا اور پھر اسے ضائع کر دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔حرمین شریفین میں بھی بعض مواقع پر مفت کھانے یا مشروبات کے حصول کے لیے غیر ضروری افراتفری دیکھنے کو ملتی ہے۔ مسئلہ مفت چیز حاصل کرنا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اگر انسان اپنی ضرورت سے زیادہ لے کر اسے ضائع بھی کر دے تو یہ رویہ ہماری تربیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

بازار میں کوئی چیز کم ہو جائے تو ہم اجتماعی طور پر اس کی طلب کم کرنے کے بجائے اسے زیادہ سے زیادہ خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ رویہ صرف معیشت کو متاثر نہیں کرتا۔ یہ قناعت، احساس اور اجتماعی شعور کے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔دوسرے کا مال، اپنا حق؟اخلاقی زوال کی ایک زیادہ سنگین شکل یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مال اور حق کو اپنے فائدے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔قدرتی آفات کے مواقع پر جہاں پاکستانیوں نے بے مثال خدمت، امداد اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، وہیں ایسے واقعات بھی سامنے آئے جب متاثرین کی املاک، امدادی سامان یا حتیٰ کہ مرنے والوں کے سامان تک کو لوٹنے کی شکایات سامنے آئیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔کئی بار قدرتی آفات میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے جب عام شہریوں نے ملبے سے ملنے والی قیمتی اشیا پوری دیانت داری سے ان کے مالکان تک پہنچائیں۔یہ مثال ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔

تعلیم کا بحران دراصل تربیت کا بحران ہے۔ پاکستان کو بنے تقریباً آٹھ دہائیاں ہونے کو ہیں، مگر ہم آج تک تعلیم کے مقصد، معیار اور سمت پر مستقل اتفاق پیدا نہیں کر سکے۔ نصاب بدلتے رہے، امتحانی نظام بدلتے رہے، ذریعۂ تعلیم پر بحث ہوتی رہی، مگر ایک بنیادی سوال اکثر پس منظر میں چلا گیا۔ہم تعلیم یافتہ انسان پیدا کر رہے ہیں یا صرف سند یافتہ افراد؟ تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں۔ تعلیم انسان کو دلیل، برداشت، ذمہ داری، تحقیق، دیانت اور اختلافِ رائے کا سلیقہ بھی دیتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معمولی اختلاف پر لوگ ایک دوسرے کی تذلیل شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی اختلاف دشمنی بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ہمیں دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا سیکھنا ہوگا۔ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں سب ایک جیسا سوچیں، مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ مختلف سوچ کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں۔

قانون صرف کمزور کے لیے نہیں: اخلاقی بحران کا ایک بڑا سبب قانون کی غیر مساوی عمل داری کا تاثر بھی ہے۔ اگر ایک غریب شہری معمولی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کا سامنا کرے، جبکہ بااثر شخص اپنی طاقت کے ذریعے قانون سے بچ نکلے، تو عام آدمی کے ذہن میں قانون کی حرمت کمزور ہوتی ہے۔ اسی طرح جب اداروں کے اندر ذاتی مفاد، سفارش یا رشوت میرٹ اور دیانت پر غالب آ جائے تو اچھا کام کرنے والا شخص خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک معاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر اپنا کام کرے، ہر شہری قانون کی پابندی کرے اور طاقتور و کمزور کے لیے قانون کا بنیادی اصول یکساں ہو۔

اگر قیادت سادگی کی بات کرے مگر خود شاہانہ طرز زندگی اختیار کرے تو پیغام کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر عوام سے قانون کی پابندی کا مطالبہ ہو مگر طاقتور افراد قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے دکھائی دیں تو قانون پسندی کی تربیت مشکل ہو جاتی ہے۔اگر حکمران کفایت شعاری کا درس دیں مگر سرکاری وسائل کے استعمال میں خود مثال قائم نہ کریں تو عوام کے لیے قربانی کی اپیل اثر کھو دیتی ہے۔ اسی لیے اصلاح ہمیشہ اوپر سے بھی شروع ہونی چاہیے۔ جو شخص قوم کو نظم و ضبط سکھانا چاہتا ہے، اسے پہلے خود نظم و ضبط کی مثال بننا ہوگا۔

پاکستان کی خوب صورتی اس کے تنوع میں ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ، کشمیری، گلگتی، سرائیکی اور دیگر شناختیں ہماری ثقافتی دولت ہیں۔ مسئلہ شناخت نہیں،مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علاقائی یا لسانی شناخت قومی شناخت پر غالب آ جائے۔ ہمیں اپنی تمام شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایک وسیع تر شناخت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اندر اجتماعی خیر کا مادہ ابھی موجود ہے۔ ہمیں صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں منتقل کرنا ہے۔ مسئلہ صرف حکمران نہیں، ہم بھی ہیں ۔ہر خرابی کا الزام حکمرانوں، سیاست دانوں، اشرافیہ یا اداروں پر ڈال دینا آسان ہے۔

اگر ہم اپنی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں اس نظام کا حصہ ہیں۔سڑک پر ٹریفک قانون توڑنے والا بھی معاشرے کا حصہ ہے۔ سرکاری پانی اور بجلی ضائع کرنے والا بھی اسی قوم کا شہری ہے۔ قطار توڑنے والا، جھوٹا حلف دینے والا، سفارش تلاش کرنے والا، ملاوٹ کرنے والا، ٹیکس چوری کرنے والا، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والا اور دوسروں کا حق مارنے والا بھی اسی اجتماعی کردار کا حصہ ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اخلاقی کرپشن بھی کرپشن ہے۔ ہر غلط کام کے لیے عدالت کی گرفت ضروری نہیں ہوتی۔ انسان کا ضمیر بھی ایک عدالت ہے۔ پھر امید کہاں ہے؟امید ابھی باقی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی ایسے والدین ہیں جو بچوں کو سچ، احترام اور خدمت سکھاتے ہیں۔ ایسے استاد موجود ہیں جو اپنے طلبہ کے کردار کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایسے افسر موجود ہیں جو دباؤ کے باوجود اصول پر قائم رہتے ہیں۔ ایسے تاجر موجود ہیں جو دیانت کو کاروبار کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ ایسے نوجوان موجود ہیں جو رضاکارانہ خدمت کرتے ہیں۔اور مشکل وقت میں پاکستانی معاشرہ بارہا یہ ثابت کرتارہا ہے کہ اس کے اندر ہمدردی اور قربانی کی صلاحیت موجود ہے۔

زلزلے، سیلاب، قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں میں عام شہریوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھولے، امداد پہنچائی، جانیں بچائیں اور اپنے وسائل دوسروں پر خرچ کیے۔یہی ہماری اصل طاقت ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے بھی جئیں گے۔ہمیں ہجوم سے قوم بننے کا سفر دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔اگر ہم نے آج اپنے رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب اقدار گر رہی تھیں، جب اخلاق کمزور ہو رہا تھا اور جب قوم ہجوم میں بدل رہی تھی، تب آپ کہاں تھے۔؟

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *