Latestتاریخقومیمتفرق

ستمبر 1965ء کی یاد میں

ارشد احمد شہباز۔ جرمنی

6ستمبر 1965 پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش دن ہے، جو قوم کے حوصلے، جذبے اور قربانی کی لازوال داستان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، لاہور پر قبضے کے خواب دیکھے، مگر پاکستانی سپاہیوں نے ثابت کر دیا کہ اپنی جان تو دی جا سکتی ہے، مگر وطن کی سرحدیں کبھی پامال نہیں ہونے دیں گے۔

اس دن پوری قوم ایک مضبوط اور متحد دیوار کی مانند سامنے آئی۔ فوج اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے، اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم زندہ، بیدار اور اپنی دھرتی کی محافظ ہے۔ وطن کی محبت میں ایک ایسا جذبہ تھا جو الفاظ میں بیان سے باہر ہے، مگر دلوں میں ہر لمحہ محسوس کیا جا سکتا تھا۔

“میں اپنی جان قربان کر دوں گا مگر دشمن کو اپنے وطن کی طرف بڑھنے نہیں دوں گا۔” میجر عزیز بھٹی شہید کے لازوال الفاظ آج بھی ہمیں ہر لمحہ یاد دلاتے ہیں

انہوں نے اپنی جان قربان کر کے یہ عہد حقیقت میں بدل دیا۔ اسی طرح بے شمار شہداء اور غازیوں نے اپنی زندگی کی قیمتی قربانیاں دے کر پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ اور آزاد رکھا۔ ان کی قربانیاں نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی علامت ہیں بلکہ یہ قوم کے حوصلے اور غیرت کی وہ مثالیں ہیں جو نسل در نسل یاد رکھی جائیں گی۔

اس جنگ میں کئی عظیم ہیروز نے اپنی قربانیاں دی، اور ان میں دواحمدی جرنیل تاریخ میں سنہری حروف سے یاد رکھے جائیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک نے چمب–جوریان سیکٹر میں آپریشن گرینڈ سلام کی قیادت کی اور دشمن کو پسپا کر کے پاکستان کو شاندار کامیابی دلائی۔ ان کی جرات، منصوبہ بندی اور قائدانہ صلاحیت نے پاکستان کی فتح کو یقینی بنایا۔

اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل عبدال علی ملک نے چونڈہ کے مقام پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینک جنگوں میں سے ایک کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں دشمن کی پیش قدمی نہ صرف روکی گئی بلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا گیا۔ ان کی بہادری اور غیرت آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔

6ستمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین، اس کے سپاہی اور عوام سب ایک جذبے کے تحت متحد ہیں۔ ہر شہری کی محبت، قربانی اور وابستگی نے اس دن کو تاریخ کا سنہری باب بنا دیا۔

یومِ دفاع کی یاد میں دل پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ چاہے ہم ہزاروں میل دور ہوں، مگر دل، دعائیں اور یادیں پاکستان کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔ نئی فضاؤں میں بیٹھ کر بھی وطن کی مٹی کی خوشبو، شہداء کی قربانیوں کی روشنی اور قومی یکجہتی کا جذبہ ہر لمحہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ محبتِ وطن صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ عمل، قربانی اور قربانی کی لازوال کہانیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

یہ قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت کبھی کم نہیں۔ پاکستان کے لیے دی گئی ہر جان، ہر قطرۂ خون اور ہر لمحے کا جذبۂ محبت اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قوم کی حفاظت، ترقی اور اتحاد ہر فرد کی ضمیر کی ذمہ داری ہے۔ 6 ستمبر کا دن ہر پاکستانی کے دل میں فخر، شجاعت اور وطن سے بے پناہ محبت کے جذبات کو تازہ کرتا ہے۔

شہداء کی لازوال قربانیاں، فوج کی بے مثال بہادری اور عوام کی بے لوث یکجہتی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی سرزمین نہ صرف مضبوط بلکہ ناقابلِ تسخیر ہے۔ ان قربانیوں کی روشنی میں قوم کا عزم کبھی مدھم نہیں پڑتا، اور آنے والی نسلیں انہی جانوں کی قیمتی قربانیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں، حوصلہ پاتی ہیں اور وطن کے لیے اپنی ذمہ داری کو سمجھتی ہیں۔

6ستمبر صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قومی روح کا آئینہ ہے، جو حبِ وطن، ایمان اور قربانی کے جذبات کو ہر دل میں زندہ رکھتا ہے۔ یہ دن یہ بھی باور کراتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف فریضہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے دل میں بسا ایک لازوال جذبہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے اور قوم کو مضبوط اور یکجہت رکھتا ہے۔

یہ دن یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی بقاء صرف زمین پر نہیں بلکہ دلوں میں ہے۔ یہ سرزمین، یہ عوام اور یہ قوم، شہداء کی قربانیوں کی روشنی میں ہمیشہ زندہ اور قائم رہیں گے، اور ہر دل میں وطن کے لیے محبت کی شمع روشن رہے گی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *