Latestاردو ادبقومی

مکالمے کا جنازہ

Share your Love

تحریر: آصف امین

مکالمہ انسانی تاریخ کا وہ روشن چراغ ہے جس نے تہذیبوں کو روشنی بخشی، قوموں کو فکری جمود سے نکالا اور معاشروں کو وسعتِ قلبی عطا کی۔ یہ محض الفاظ کا لین دین نہیں بلکہ شعور کی بالیدگی اور فکروں کا تصادم ہے، جو بالآخر کسی نئی راہ کو جنم دیتا ہے۔ مکالمہ انسان کو یہ سلیقہ دیتا ہے کہ وہ اختلاف کو گالی نہ سمجھے بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کرے، مخالف کے نقطۂ نظر کو سن کر اپنی سوچ کو مزید سنوارے اور اپنی رائے کو مہذب اور شائستہ انداز میں پیش کرے۔ یہی مکالمے کا کمال ہے کہ وہ دلوں میں نرمی اور عقلوں میں روشنی پیدا کرتا ہے۔

مگر افسوس، ہمارے ہاں یہ روایت دم توڑ چکی ہے۔ تقریر کو مناظرے میں بدل دیا گیا اور گفتگو کو الزام تراشی اور جذباتیت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جہاں مکالمہ ہونا تھا وہاں خطاب اور مناظرے کی گونج سنائی دینے لگی۔ مکالمہ عقل اور دلیل کی راہ دکھاتا ہے، مگر مناظرہ محض برتری کی جنگ ہے۔ مکالمہ سننے اور سمجھنے کا نام ہے جبکہ خطاب صرف سنانے اور سنوانے کی ضد۔ اسی رویے کو ریاستی سطح پر فروغ دیا گیا، اور اس کا اثر یہ ہوا کہ معاشرے میں عدم برداشت رچ بس گئی۔ ہر شخص نے اپنی سوچ کو حرفِ آخر سمجھا اور اپنے بیانیے کو مقدس و برحق قرار دے دیا۔

بات اگر صرف یہیں تک رہتی کہ میرا بیانیہ میرا سچ ہے تو شاید صورتِ حال کچھ مختلف ہوتی، مگر ہم نے اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنا اپنا فرضِ عین بنا لیا۔ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے ہم نے مخالف کو زیر کرنے کو مقصدِ حیات ٹھہرا دیا۔ تلوار ہو یا بندوق، نعرہ ہو یا فتویٰ—سب ہمارے بیانیے کے محافظ بن گئے۔ ہم نے اس نکتہ کو بھلا دیا کہ مہذب معاشرے اختلاف رائے کو طاقت سے نہیں، بلکہ دلیل کی روشنی سے سلجھاتے ہیں۔

یہی رویہ معاشرتی زوال کی بنیاد بنا۔ اختلاف کرنے والے کو باغی، تنقید کرنے والے کو غدار اور سوال کرنے والے کو گستاخ کہا گیا۔ ہم نے اپنے کان بند کر لیے اور عقل کو قید کر ڈالا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ جھوٹے اور سچے بیانیوں کے ہجوم میں بٹ گیا۔ آج مختلف جھتے اپنے اپنے بیانیے کے علَم لیے پھر رہے ہیں۔ کوئی مذہب کے نام پر بیانیہ تراشتا ہے، کوئی سیاست کی آڑ میں، کوئی قومیت کے پردے میں۔ ان سب بیانیوں نے حقیقت کو مسخ کر دیا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی لکیر مٹ چکی ہے اور طاقتور بیانیہ ہی سچ قرار پاتا ہے، چاہے وہ حقیقت سے کوسوں دور ہو۔

کسی بھی معاشرے کی زندگی برداشت پر قائم ہوتی ہے۔ برداشت محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ معاشرتی بقا کی شرط ہے۔ اگر ہم دوسروں کی بات سننے کے روادار نہ ہوں، اگر ہم اختلاف کو دشمنی کا نام دے ڈالیں تو معاشرہ بدنظمی اور انتشار میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ تعلیمی ادارے سوال کرنے سے خالی ہو گئے، منبر اختلاف کی گنجائش سے محروم ہو گئے، سیاسی جلسے مخالفین کے لیے گالیوں کے منڈپ بن گئے۔ ہم نے ہر اس زبان کو کاٹ ڈالا جو سوال کرنے کی جرأت کرے اور ہر اس قلم کو توڑ دیا جو تنقید کی ہمت کرے۔

یہ المیہ صرف سماجی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی مزاج کا حصہ بن گیا۔ آج ہم دلیل کو سننے کے بجائے نعرہ سننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہماری آنکھوں کو حقیقت کی بجائے خطابت کی چمک بھلی لگتی ہے۔ ہمارے کانوں کو سوال کی بجائے مناظرے کی للکار مرغوب ہے۔ ہم نے شعور کی روشنی کو خود اپنے ہاتھوں سے بجھا دیا اور تعصب و جذبات کے اندھیروں میں قید ہو گئے۔

اگر ہم واقعی مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں مکالمے کی روایت زندہ کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنی سوچ کو حرفِ آخر قرار دینے کی بجائے اسے محض ایک رائے سمجھنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کی بات سننے کی عادت ڈالنی ہوگی اور اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ شعور کا نیا دروازہ سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری بات مکمل سچ نہیں بلکہ سچائی کا ایک حصہ ہے، اور مکمل تصویر تبھی بنتی ہے جب مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

ریاست کو بھی اپنی پالیسیوں میں یہ تبدیلی لانی ہوگی کہ وہ مکالمے کو فروغ دے، میڈیا کو اختلاف برداشت کرنے کی تربیت دے، تعلیمی اداروں کو سوال اٹھانے کی جرات دے اور مذہبی اداروں کو مکالمے کے آداب سکھائے۔ بصورتِ دیگر یہ بیانیوں کا ہجوم ہمیں مزید انتشار، مزید جھوٹ اور مزید تاریکی میں دھکیل دے گا۔

مکالمہ دراصل انسانی تہذیب کی سانس ہے۔ اس کے بغیر معاشرہ زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔ مکالمے کی موت دراصل سوچ کی موت ہے، اور سوچ کی موت کا مطلب ہے کہ قوم اندھیروں میں بھٹکنے لگے۔ اگر آج بھی ہم نے اختلاف کو سننے کی روایت اپنائی، اگر ہم نے سوال کو گالی کے بجائے فکر کی بنیاد سمجھا تو شاید ہم اپنی کھوئی ہوئی روشنی کو پھر سے پا سکیں۔ لیکن اگر ہم اسی طرح اپنے بیانیے کے قیدی رہے، تو کل کا مورخ لکھے گا کہ یہ قوم بیانیوں کے ہجوم میں ڈوب گئی، اور مکالمے کی موت کے ساتھ ہی اس کی فکری زندگی کا چراغ بھی ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *