بڑھا ہوا پیٹ کیوں اور کیسے کم ہو
تحریر: ڈاکٹر طارق مرزا۔ آسٹریلیا
بڑھے ہوئے پیٹ، اور موٹی گردن سے انسان نہ صرف یہ کہ بے ڈھنگا سا نظر آتا ہے بلکہ بڑھا ہوا پیٹ یا تو کسی اندرونی بیماری کی ظاہری علامت ہوسکتا ہے اور یا پیچیدہ بلکہ جان لیوا قسم کی بیماریوں کو جنم دینے کا باعث ۔ بسا اوقات دونوں قسم کا عمل ایک ساتھ بھی چل رہا ہوتا ہے۔
اس لیئے پیٹ کو کم کرنے سے پہلے ہمیشہ اپنے ڈاکٹرسے مشورہ کرنا ضروری ہے کہ کہیں کسی اندرونی بیماری کی وجہ سے تو پیٹ نہیں بڑھا ہوا،کیونکہ ایسی صورتحال میں اس بیماری کا علاج کرانے سے ہی پیٹ کاحجم کم ہوجاتاہے۔
لیکن اگر پیٹ (حمل ، یا) کسی بیماری کی وجہ سے نہیں محض موٹاپے اورتہہ درتہہ اندرونی اور بیرونی چربی چڑھنے کی وجہ سے بڑھا ہوا ہے تو پھراس کے لیئے دیگر تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔
ان تدابیرکا تعارفی ذکرکرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہوگا کہ بڑھا ہوا پیٹ کہتے کسے ہیں۔ کیونکہ کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے تئیں قطعی طور پر سمجھتے ہیں کہ ان کا پیٹ بڑھا ہوا ہے اور وہ اس خیال کی وجہ سے ڈپریشن میں بھی مبتلاہورہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا جسم ہر لحاظ سے صحتمند اور پیٹ بالکل بھی بڑھا ہوا نہیں ہوتا۔ایسے افراد کوماہرین نفسیات کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
بڑھے ہوئے پیٹ کا تعین کرنے کا سب سے معروف طریق کمر اور کولہوں کے قطرکی پیمائش کرکے ان کےآپس کے تناسب کا حساب لگانا ہے۔ یہ کوئی پیچیدہ سائنس نہیں۔ فیتہ لے کر پہلے ناف اور کمر کے گرداگرد پیمائش لی جاتی ہے،پھر کولہوں کے گرداگرد ان کی پیمائش کی جاتی ہے۔اس کے بعد کمر کی پیمائش کو کولہوں کی پیمائش سے تقسیم کریں تو مطلوبہ شرح تناسب معلوم ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی کی کمر کی پیمائش 46 سنٹی میٹراورکولہوں کی 38 سنٹی میٹرہے،تو (46/38=1.21) یہ تناسب ایک اعشاریہ دوایک کا بنتا ہے اور یہ صحتمند شمار نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ پیٹ کی پیمائش لیتے وقت قصداً یا لاشعوری طورپرناف اندر کی طرف نہ کھینچ رکھی ہو،ورنہ یہ خود کو دھوکہ دینے والی بات ہوگی۔
ماہرین کے مطابق مردوں میں یہ تناسب زیادہ سے زیادہ صفر اعشاریہ نوصفر (0.90) اور خواتین میں صفر اعشاریہ آٹھ پانچ (0.85) ہونا چاہیئے۔ یعنی کمراور پیٹ کا سائزکولہوں سے چھوٹا ہونا چاہیئے۔ ورنہ جان لیوا امراض خصوصاً دل کا مرض اور شوگرلاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ جتنی زیادہ چربی جلد کے نیچے جمع ہوئی ہو،خون میں کولیسٹرول کی صورت اور شریانوں کے اندر باہراورخاص کر دل،جگر،لبلبے (Pancreas) وغیرہ پر بھی عام حالت سےزیادہ چڑھ چکی ہوتی ہے۔ اور اس سے چھٹکاراحاصل کرنا نہایت ضروری ہوجاتا ہے۔
جہاں تک گردن کی موٹائی کا تعلق ہے توگردن کے گرداگرد فیتے سے اس جگہ کی پیمائش لی جاتی ہے جہاں ٹائی باندھی جاتی ہے۔ مردوں میں یہ پیمائش 37 سنٹی میٹر تک ہو تو صحتمند سمجھا جاتا ہے جبکہ خواتین میں 34 سنٹی میٹرتک یا اس سے کم۔
موٹی گردن والوں میں خراٹے لینے، سوتے میں سانس رک جانے اور کم خوابی کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔ کم خوابی کی وجہ سے دن بھر تھکاوٹ، چڑچڑاپن اوراونگھتے رہنا بھی عام ہے۔ ایسے افراد کی ڈرائیونگ بھی متاثر ہوسکتی ہے اور ازدواجی زندگی بھی۔ امریکہ سے شائع ہونے ایک سروے کے مطابق بعض خواتین زوردار خراٹے لینے والے شوہروں سے جلد ازجلد طلاق حاصل کرنےکو ترجیح دے رہی تھیں۔ کیونکہ خراٹے لینے والا تو ظاہر ہے خود سورہا ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھی کی نیند باربار ڈسٹرب ہورہی ہوتی ہے۔ اس بے خوابی کی وجہ سے وہ بھی سارا دن تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا شکارہوجاتا ہے۔
لیکن ان ‘مشکلات’ سے سمجھوتا کرنے کی ضرورت ہے نہ طلاق کی ، کیونکہ زوردارخراٹوں کا ڈاکٹری علاج بھی دستیاب ہے خواہ وہ موٹاپے کی وجہ سے ہوں یا ناک،گلے اور نرخرے کے نقائص کی وجہ سے۔
جگر کے اندر اور باہرچربی کی بہتات ہو تو اسے فیٹی لیور(Fatty Liver) کہا جاتا ہے۔اگر اس طرف توجہ نہ کی جائے تو جگرکے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لبلبے (Pancreas) کے اندر اور باہر چربی چڑھی ہو(Pancreatic Steatosis) تو وہ بھی کام کرنا بند کرسکتا ہے اور انسولین کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ غرضیکہ اگر شراب ام الخبائث ہے تو موٹاپا ابوالامراض !۔ ایک زمانہ تھا جب موٹی گردن اور توند والے افراد کو لوگ عزت اوررشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن آج کل انہیں عزت اورتشویش کی نگاہ سے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دو اعشاریہ 8 ملین (2,800,000) افراد محض موٹاپے کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں۔ یعنی ان کے مرنے کی بنیاد موٹاپاہوتا ہے ۔ وہ اپنے ہی وزن تلے آکر مرجاتے ہیں۔ جس سے مراد یہ ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے وہ ہائی شوگر،ہائی بلڈ پریشر،سانس، دل،گردوں یا جگر کی پیچیدگیوں کا شکارہو چکے ہوتے ہیں۔
تاہم یہاں پر دو اہم نکات بیان کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ایک تو یہ کہ جہاں تک کولیسٹرول کا تعلق ہے تو یہ دبلے پتلے اور بغیرموٹی توند والے افراد میں بھی زیادہ ہو سکتا ہے اس لیئے عمر کے ایک خاص حصے میں آکران کا بلڈ ٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہوتا ہے،خاص کراگر خاندان میں دل کا مرض موروثی طور پرچل رہا ہو۔
دوسرے یہ کہ ممکن ہے کسی کا کولیسٹرول بھی نارمل ہو اور کمر اور کولہوں کا تناسب بھی “نارمل” ہی ہولیکن قد کے لحاظ سے مجموعی وزن زیادہ ہو جس کی شرح کو اصطلاحاً “بی- ایم- آئی ” (BMI: Body Mass Index) کہا جاتا ہے، تو وہ بھی خطرے کی گھنٹی تصور ہوتی ہے۔ بی ایم آئی کے چارٹ اور کیلکولیٹربہت سی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔ بہتر ہے اپنے ذاتی معالج (جی پی) سے چیک کروا لیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ پیٹ کو کم کرنے کے لیئے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، اس سے جسم کامجموعی وزن ،اور نتیجتاً بی۔ایم۔آئی (BMI) کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ باڈی بلڈرز افراد کو بی ایم آئی کم کرنے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آتی کہ ان کے جسم پر فالتو چربی نہیں ہوتی اور وزن محض ہڈیوں اورکسرتی پٹھوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
مندرجہ بالااہم نکات کے بعد اب آتے ہیں بڑھے ہوئے پیٹ کے علاج کی طرف تو بنیادی حقیقت یا اصول جو دماغ میں بٹھانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ تقریباً اسی فیصد (80٪)علاج کا تعلق خوراک اور اس کی مقدارسے ہوتا ہے اور لگ بھگ بیس فیصد (٪20) یا اس سے بھی کم ، ورزش سے۔ اور پھر یہ کہ ان دونوں پر دوام اختیار کرنا،یہ بہت ہی اہم بات ہے۔
بعض افراد ہفتہ دو ہفتے یا مہینہ ڈیڑھ خوب جوش وخروش سے کئی کئی گھنٹے روزانہ ورزش کریں گے لیکن ورزش کے بعد اچھی طرح پیٹ بھر کر نہایت پرتکلف کھانے بھی کھائیں گے۔ایسے افراد کا نہ تو پیٹ کم ہو سکتاہے اور نہ ہی وزن۔اکثر اس طبع کے افراد اپنے معالج سے شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ہم نے تو پورا مہینہ یا پورا سال جان ماری لیکن ایک انچ یاایک اونس کابھی فرق نہیں پڑا۔
جب تک کھانے کی مقدار(Portion) کو بتدریج کم نہیں کریں گے اور بالخصوص چینی، میٹھے پکوانوں اور چربی والے یا مرغن کھانوں سےسال کے بیشترحصہ میں خیر باد نہیں کہیں گے، چاہے سارا دن ساری رات اچھل کود کرتے رہیں، موٹاپا جان نہیں چھوڑے گا۔
یہ بات پڑھ یا سن کر بعض افراد طویل یا قلیل مدت کے فاقے (Intermittent Fasting) کرنا شروع کردیتے ہیں،یا مارکیٹ میں دستیاب ڈائیٹنگ کے لیئے دستیاب شیک (Shakes)، یا مختلف قسم کے ڈائیٹنگ پلان،مثلاً کیٹو(Keto) ڈائیٹ ،فلاں ہالی وڈ سیلبریٹی ڈائیٹ ، میڈیٹیرینین (Mediterranian) ڈائیٹ وغیرہ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے افراد کوسال چھ مہینوں کے اندر اندر بظاہر خوش کن اورتسلی بخش نتائج تو مل جاتے ہیں لیکن عرصہ دو ڈھائی یا تین چارسال بعد ان سے ملاقات ہو تو جسم پہلے سے بھی بھاری اور پیٹ پہلے سے بھی زیادہ بڑھا ہوا نظر آئے گا۔ دراصل زندگی کےدیگرشعبہ جات کی طرح یہ کام بھی اولوالعزمی، استقامت اور دوام کا محتاج ہے۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قدرتی طورپر ہرانسان کی اندرونی کیمسٹری کانظام بڑی باریکی اورحیرت انگیز جزیاتی تفصیل کے ساتھ “پروگرامڈ” ہو چکا ہوتا ہے،اس میں بڑا عمل دخل انسان کی جینیاتی ساخت اور پھر سالہا سال کی عادات اورمعمولات ہوتی ہیں جو پختہ ہوکرکسی جدید ائر کنڈیشنر کی طرح جسم کے ہرنظام کو آٹوپہ چلارہی ہوتی ہیں۔ ایسے ہی جیسے کسی ایئر کنڈیشنرکا تھرمو سٹیٹ “آٹوموڈ” میں ایک مخصوص ٹمپریچر پہ سیٹ ہو چکا ہو(Auto Mode) تو وہ اس تک پہنچ جانے کے بعد خود بخود بند یا ہلکا تو ہو جائے گا لیکن کمرے کا ٹمپریچرایک حد تک کم ہونے پر دوبارہ متحرک ہوکرماحول کواسی درجہ حرارت پہ لے آئے گا جس پہ وہ پہلے سے سیٹ ہو چکا تھا۔
لیکن ائر کنڈیشنر کا آٹو سسٹم تو بٹن دبا کرایک سیکنڈ میں بدلا جاسکتا ہے،انسانی جسم میں (فی الحال) یہ سہولت موجود نہیں۔ جتنی چربی انسان نے پچیس تیس یا چالیس پچاس برس میں اپنے اوپر چڑھا لی ہوتی ہے، اسے اتارنے میں وقت اور محنت تو درکار ہوگی ہی۔ لیکن سوال پیداہوتا ہے کہ آخر کیوں؟۔ ایسے کئی افراد دیکھے ہیں جنہوں نے اوزیپمک (Ozempic) وغیرہ کے ٹیکوں حتیٰ کہ سرجری کے ذریعہ اپنے دوتہائی معدے تک کٹوا لیئے لیکن ٹیکوں کے ختم ہوتے ہی، یا سرجری کے آٹھ دس سالوں بعد پھر سے جسم پراتنا ہی وزن چڑھا لیاجتنا پہلے تھا۔ لیکن اس سے بددل یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس پر بعد میں بات ہوگی۔
جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی چربی ایک لحاظ سے اپنے اندر’کینسرکی خصلت’ رکھتی ہے،اوراس میں خود کو پروان چڑھانے اور نشونما دلوانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔چنانچہ چربی ایک مخصوص قسم کا ہارمون خارج کرتی ہے جو جسم کو “ہل من مزید” کا پیغام دیتی ہے،جس کےنتیجے میں روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ چربی کے خلیات کے اندر پہنچ جاتا ہے اور وہ پھول کر کپا ہوتے رہتےہیں ۔ واضح رہے کہ ہر انسان کے اندرچربی کے خلیات (Fat Cells) کی تعداد ایک جیسی ہی ہوتی ہے،ان کاسائز البتہ چھوٹابڑا ہوتاہے۔
جب ایک موٹے شخص کی خوراک ہضم ہوکرزیادہ تر چربی میں ہی بدل رہی ہو تو جسم کے اعضاء رئیسہ اور پٹھے وغیرہ کمزوری محسوس کرتے ہیں اوربھوک لگنے کے عمل کو تیز کردیتے ہیں،اس لئے موٹے افراد کو بھوک بھی زیادہ لگتی ہے اورباربار لگنے لگتی ہے۔اور اس طرح سے ایک گھن چکر(Vicious Cycle) سا چل پڑتا ہے۔ جتنا کھاؤ کمزوری ختم نہیں ہوتی،جتنا کھاؤ بھوک ہی نہیں ختم ہوتی،پیٹ ہی نہیں بھرتا، تاہم موٹا ضرورہوتا رہتاہے۔
اس قسم کی بھوک کے بارہ میں ہماری ایک سابقہ محلے دارخالہ جی یہ کہا کرتی تھیں کہ اس قسم کی بھوک کسی کو لاحق ہوجائے تو سمجھ جاؤ کہ اس کے اندرجن گھساہوا ہے۔ ایسا شخص اپنے لیئے نہیں، جن کے کے لیئے کھا رہا ہوتا ہے۔
حد سے بڑھی ہوئی بھوک کیا ہے ؟ کسی جن کا نام ہے یا کچھ اور؟۔اس قسم کے افراد ، یا بعض افراد میں یہ ختم کیوں نہیں ہوتی ۔ اس کے لئے کسی “ڈنڈا پیر” کی ضرورت پڑتی ہے یا مبینہ طور پرکالےالوکی کلیجی کی؟۔ یہ گفتگو آئیندہ۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

