Latestاردوقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

سانحہ ٹوپی کےپُرآشوب ایمان افروزواقعات

تحریر: امتہ القدوس خان۔ جرمنی

(قسط دوم)

چوتھے شہید ہماری ممانی صاحبہ کے بھانجے ایوب خان تھے۔  بہت خوبصورت طبیعت کے انسان تھے۔ یہ بھی فوجی ملازم تھےچھٹی لے کرآئے تھے۔ گھر آکر جیسے ہی حالات کا علم ہوا نئی نویلی دلہن کو گھر میں چھوڑکر، ادھر آکر ٹھرے رہے کہ جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے، میں یہیں رہونگا اور اس طرح شہادت کے بعد ان کی لاش ان کے گھر لےجائی گئی۔

 ماموں حمید کی بیٹی امتہ اللہ  نے ٹوپی میں ان زخمیوں کی مرہم پٹی کی تھی اور چند گھنٹے بعد یہ شہید ہو گئے تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب یہ زخمی ہوئے تو ہمارے مرد ان کی جگہ سنبھالنے چلے گئے اور امتہ اللہ باجی ان کی مرہم پٹی کرنے لگی، اس نے بتایا کہ ان کے زخم اتنے گہرےتھےاور اتنے پریشر سے بلیڈنگ ہو رہی تھی کہ وہ چارپائی پر ڈالنے والی چادر گول کر کے زخم کے اندر رکھ کر، دوسرے زخمی کی طرف جاتی اور جتنی دیر میں، وہ اس کے لئے زخم  میں اسی طرح چادر گول کر کے ڈالتی، اتنی دیر میں پہلے زخمی کی پٹی خون کے زور سے باہر گر جاتی اور میں تمام وقت پاگلوں کی طرح ایک سے دوسرے زخمی کی طرف دوڑتی۔ گھر کی ساری چادریں خون سے بھر گئیں۔ اتنے میں پولیس ان کو گھر سے یہ کہہ کر لے گئی کہ گاؤں کے اندر اب مقابلہ مشکل ہے بہترہے کہ آپ لوگوں کو کسی محفوظ مقام پر لے جائیں۔ وہ ان کو پشاور لے گئے۔

 اس واقعہ سے چند ماہ بعد امتہ اللہ باجی کی رخصتی ہوئی۔ جب کوئی ان کو میک اپ کرنے یا لپ سٹک لگانے کو کہتا، تو کہتی میں نے اپنے ہاتہوں سے ان سب کا خون صاف کیاہے۔ میں سرخ رنگ اپنے ہونٹوں پر نہیں لگا سکتی ۔

ایک بزرگ خاتون جس کا نام مرجان تھا۔ ہماری امی اور ماموؤں کی آیا تہیں۔ ساری ذندگی ہمارے ساتھ گذاری سب ان سے بہت پیار اور احترام سے پیش آتے۔ انکے رہنے کے لئے نانا جان نے قریب قریب گھر بنائے تھےکہ آنے جانے میں آسانی ہو۔ جلوس کے آنے سے پہلے ماموؤں نے سب غیر احمدیوں کو اپنے اپنے گھر بھیجا سوائے ان چند نوجوانوں اور گل میر بابا کے۔ جب جلوس آیا اور فائرنگ شروع ہوئی، تو یہ پریشان ہوکر گھر کے چھت پر چڑھ کر چلا چلا کر جلوس والوں کو لعن طعن کرنے لگی اور یہی کہتی جاتی کہ یہی تو صحیح مسلمان ہیں۔ ہم نے تو نماز اور قرآن  انہیں سے سیکھا ہے۔ پھر ماموں کو مخاطب کر کے منتیں کرتی “حمید ضد چھوڑدو آکر ان کے سامنے کلمہ پڑھ لو۔ ان کو بتاؤ کہ تم مسلمان ہو۔ مجھے   پتہ ہے کہ  تیرا کلمہ بھی یہی ہے۔ تم ان سے اچھے مسلمان ہو، آکر ان کو بتاؤ ان کو روکو اس ظلم سے مگر اس معصوم خاتون کو یہ پتہ نہ تھا کہ یہ لوگ بھی یہ سب کچھ جانتے تھے۔ لیکن اس وقت یہ پوری طرح شیطان کی چنگل میں تھے۔ یہ اسی طرح اپنے چھت پر بیقرار ایک سرے سے دوسرے سرے تک چیختی چلاتی، اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہی تھی اس ظلم کو روکنے کی، کہ صدمے سے گر کر فوت ہوگئیں۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق اس کا دل پھٹ گیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

جس خاتون کا ذکر شروع میں کیا تھا کہ امی نے اسے گھر جانے کو کہا مگر رستے بند ہونے کی وجہ سے صبح کی نکلی رات گئے گھر پہنچی، ان ماں بیٹی نے ساری رات اداسی اور پریشانی میں دعائیں کرتے گذاری اس کی والدہ صبح تہجد سے فارغ ہوئیں اور سلام  پھیرا تو ایک نظارہ دیکھا مگر اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تو بیٹی کو جگا کر پوچھا کہ جو میں دیکھ رہی ہوں کیا وہ تمہیں بھی نظر آرہا ہے اس نے کہا ہاں۔ اس نے دیکھا کہ ان کی دیوار کے ساتھ پوری قطار میں سفید لباس میں ملبوس مردوں نے ہاتہوں میں تلواریں پکڑی ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ بےفکر ہوکر سو جاؤ، وہ سب زندہ ہیں اور ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جب بیٹی نے بھی تصدیق کی اس نظارے کی تو اسے تسلی ہوئی اور صبح دن چڑھنے کا انتظار کرنے لگی اور صبح ہوتے ہی ہمارے سب خیر خواہوں کے پاس جا کر یہ حال سنایا اور سب کو تسلی دی کہ کہ وہ لوگ خدا کے فضل سے جہاں بھی ہیں، خیریت سے ہیں۔

ہمارے گھر میں جب جلوس گھر کے قریب پہنچا تو کافی دیر باہر کی دیوار توڑنے کی کوشش کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہوئے اباجان صبح گیارہ بجے سے رات کے ساڑھے گیارہ بجے تک مقابلہ کرتے رہے جب اباجان کو انداذہ ہوا کہ ان کے پاس اب مذید اتنا بارود بھی نہیں ہے اور دشمن گھر تک پہنچ گیا ہے تو انھوں نے میرے بھائیوں کو کہا کہ عقلمندی کا تقضا یہ ہے کہ اور گھر کے اندر رہ کر مقابلہ نہ کریں بہتر ہوگا کہ باہر نکل کر آمنے سامنے لڑا جائے اور میرے کزنز سے کہا کہ اب صرف میں اور میرے بیٹے باہر جاکر مقابلہ کرتے ہوئے جلوس کو اپنی طرف متوجہ کریں گے اس دوران تم سب نکل کر اپنے اپنے گھر کے لئے نکل جانا اباجان نے سب سے کہا کہ میں چھوٹے گیٹ پر جاکر موقع کا انتظار کرتا ہوں تم سب اکھٹے ہو کر ادھر آجانا اباجان گیٹ پر کھڑے تھے کہ کچھ ہی لمحے بعد ایک شخص دروازہ توڑنے میں کامیاب ہو کر گیراج سے اندر آیا اور سب سے پہلے نذیر محمد بھائی کو شہید کیا اور گھر کے اندر دوڑتا ہوا اس طرف چلا گیا جہاں ابا جان سب کا انتظار کر رہے تھے اباجان سمجھے گھر والوں میں سے کوئی ہے مگر اس کو اباجان نظر نہیں آئے اور آگے دوڑتا گیا جب وہ اباجان سے آگے نکل کر گھر کے پچھلے حصہ کی طرف گیا تو اباجان سمجھ گئے کہ کوئی باہر کا آدمی ہے جسے میری یہاں موجودگی کا پتہ نہیں اباجان نے فائر کرکے اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔ اتنے میں اعجاز بھائی نے آکر بتایا کہ نذیر محمد لالا کو ایک شخص نے چاقو سے وار کرکے شہید کردیا اور خود اس طرف دوڑ کر آیا ہے اباجان نے اسے تسلی دی کہ اب وہ نہیں رہا۔ کافی دنوں بعد پتہ چلا کہ دور کسی پہاڑی علاقے کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے ایک سر کاٹ کر لے گئے کہ صوبیدار صاحب کا سر کاٹ کر لاۓ ہیں۔ نعرے مارتے گاؤں پہنچے تو صبح ہوچکی تھی روشنی میں جو دیکھا تو وہ اس گاؤں کا رہنے والا تھا اور وہی شخص تھا جس نے نذیر محمد لالا کو شہید کیا تھا۔ گھر والوں نے ہنگامہ کھڑا کیا کہ اب باقی دھڑ بھی لے کر آؤ، تو یہ پریشان کیونکہ انھوں نے سر کاٹ کر باقی دھڑ آگ میں ڈال دیا تھا دراصل یہ شخص جسامت میں بھی اباجان کی طرح تھا اور گٹ اپ بھی اتفاقاً اباجان ہی کی طرح تھا، لوگ اسے اباجان سمجھ کر جتنا ظلم کر سکتے تھے کرچکے تھے۔

کچھ دنوں بعد ہمارے ایک چھوٹے چچا جو احمدیت کے سخت مخالف تھے۔ ہمارے پاس چونیاں آئے پتہ لگانے کہ لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ کہ ہم سب زندہ ہیں۔ اور ہمیں خود ہی بتایا کہ میں دو بار اس گیٹ سے واپس گیا۔ کیونکہ اس گھر سے ہنسی خوشی بولنے کی آوازیں آ رہی تہیں۔ اتنی رونق لگ رہی تھی کہ یقین نہ آیا کہ یہ احمد بھائی کا گھر ہوگا۔ کیونکہ اگر آپ سب زندہ نکل بھی آئے تو وہ گھر جس میں آپ لوگ رہتے تھے، جب میں ایک ہفتہ بعد اسے دیکھنے گیا، تو اس میں آگ سلگ رہی تھی۔ جس گھر کی ابھی آگ بھی نہیں بجھی ہو اس کے رہنے والے اس طرح خوش کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ سوچ کر میں پھر واپس گیا اور گیٹ پر گارڈ کو کہا کہ میرے ساتھ چل کر مجھے   کرنل احمد خان کا گھر دکھاؤ اور وہ مجھے   پھر اسی گیٹ پر چھوڑگیا۔ پھر امی سے پوچھا “بھابھی مجھے   یہ راز بتائیں کہ یہ کیسے ممکن ہے، آپ کے گھر میں ابھی تک آگ سلگ رہی ہے اور آپ لوگ ایسے آرام سے  ہنسی خوشی بول رہے ہیں۔ آپکی جگہ ہم ہوتے تو اگر ہمارے گھر سے کوئی معمولی سی چوری بھی ہوئی ہوتی، تو خدا جانے ہم کب تک روتے پیٹتے۔ امی نے کہا فتح محمد یہ سب کچھ دیا ہوا کس کا تھا؟ اللہ تعالىٰ نے دیا تھا ہماری خوش قسمتی کہ اس نے توفیق دی کہ اس کی راہ میں قربان بھی کر دیں۔ اب اس میں رونے پیٹنے والی کیا بات ہے؟ تو حیران رہ گئے۔

  پھر بتایا کہ گاؤں میں سب کا خیال تھا کہ بھائی جان (اباجان) بہت بہادرہیں۔ تو ان کی وجہ سے سب خاندان احمدیت پر قائم ہے اگر (خدانخواستہ) ان کو کچھ ہو گیا، تو یہ لوگ احمدیت چھوڑدیں گے مگر اب تو سارا گاؤں آپ کے بچوں پر آفرین کہتا ہے، خاص طور پر اعجاز تو بہت بہادر نکلا حالانکہ سب کا خیال اس کے بارے میں مختلف تھا کہ اس نے ساری ذندگی شہر میں گذاری ہے مگر وہ تو شیر نکلا۔ کہتے ہیں مرد تو مرد ان کی تو عورتیں اتنی بہادر تہیں، کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ کبھی ڈر کر احمدیت چھوڑدینگے۔ (اللہ تعالىٰ ہم سب احمدیوں پر فضل فرمائے اور ایسے امتحانوں سے بچائے اور ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین) جن غیر احمدی رشتہ داروں نے اسوقت ہماری مدد کی اور جانوں کی قربانیاں دیں۔ اللہ تعالىٰ نے ان پر اتنے فضل فرمائے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ اچھی ذندگی گزار رہےہیں۔

اس واقعہ کے دو تین ھفتے  بعد اعجاز احمد اور نثار محمد بھائی کو پشاور جانا پڑا۔ تو بس میں ہمارے گاؤں کا ایک شخص ملا۔ جس کی اباجان اور میرے ماموں وغیرہ اکثر مدد کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کمانڈوز میں بھرتی کرایا۔ 9 جون کو ماموں کے پاس آکر بتایا کہ خدمت بتائیں تو ماموں نے اسے بندوق دیکر ڈیوٹی دی مگر جیسے ہی جلوس آیا، یہ ان کے ساتھ مل کر لوٹ مار اور توڑ پہوڑ میں شامل ہو گیا۔ ادھر سے جلوس کے ساتھ ہماری طرف آیا۔ یہ سب اس نے اعجاز بھائی کو بھری بس میں بتایا اور کہا کہ تم لوگ ابھی تک زندہ ہو؟ تمارے والد کو تو میں نے قتل کیا تھا، اعجازبھائی نے کہا کہ میرا باپ تو خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہے جاکر پتہ کرو کس کو قتل کیا ہے۔ تو اسے یقین نہیں آرہا تھا اور یہی کہتا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے خود اسے مارا ہے۔ اعجاز بھائی کو غصہ آ رہا تھا۔ اس کی احسان فراموشی اور دیدہ دلیری پر مگر نثاربھائی نے اسے روک لیا کہ اب یہ جان بوجھ کر تمہیں غصہ دلا رہا ہے۔ یہ بھری بس میں اپنے جرم کا اقرار کر رہا ہے اسے کوئی بھی برا نہیں کہہ رہا لیکن تمہاری ذرا سی غلطی تمہیں بہت نقصان پہنچائے گی۔ اس لئے صبر سے کام لو تو اعجاز بھائی چپ ہو گئے ۔

اباجان نے بتایا کہ فیض محمد بھائی کے زخمی ہونے کے کچھ  دیر بعد اعجاز بھائی نے کہا بابا مجھے   سینے پر گولی لگی ہے تو میں اداس ہوا مگر کسی پہ ظاہر کئے بغیر اعجاز سے کہا کہ ہمت کر کے چک کرو کہ گولی زخم بنا کر اندر گئی ہے یا باہر سے چہو کر گذری ہے اور دل میں خدا سے دعا کی کہ اے اللہ تونے پہلی گولی پر مجھ سے فیض محمد لے لیا میں نے صبر کیا اب اس کو گولی لگی یہی دو میرے بازو تھےامتیاز تو بچہ ہے اگر تو مجھ سے یہ دونوں جوان لے لےگا تو بے شک تو ہی سب کچھ کرنے والا ہے مگر انسان کے لئے یہ سہارے بھی تونے ہی بنائے ہیں آج تو مجھ پر فضل فرما اور میرا یہ بیٹا مجھے   سہارے کے طور پر واپس عطا فرما اباجان کہتے ہیں کہ اتنے میں اعجاز نے آکر دکھایا کہ بابا گولی اندر ہے تو میں نے دعا کرتے ہوئے ہاتھ سے دبا کر گولی کو نکالا وہ زیادہ اندر نہیں گئی تھی خدا کا شکر ادا کیا اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے دوبارہ مورچے پر بھیجا۔ اوروہ آخر تک خدا کے فضل سے بڑی بہادری سے مقابلہ کرتا رہا۔

اعجاز بھائی کے ہاتھ اور پاؤں پر بھی زخم تھےاور ٹھیک نہیں ہو رہے تھےتقریباً تین ھفتہ بعد اعجاز بھائی نے کرسی پر پاؤں اوپر کر کے رکھا تو باجی کو اس کے زخم میں کالا ساکچھ نظر آیا۔ اس نے اعجاز بھائی سے کہا کہ شائد یہ بم کے ٹکڑے ہوں۔ تو اعجاز بھائی نے مزاق میں کہا کہ بم کے ٹکڑے نہیں باجی پورا بم ہوگا، جب ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے واقعی پانچ چھ  ٹکڑے اس سے نکالے اور اس کے بعد خدا کے فضل  سے آہستہ آہستہ زخم سوکھنا شروع ہوا۔ الحمدللہ

امتیاز احمد ہر وقت خاموش اور اداس رہتا، سب اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔ اتنی چھوٹی عمر میں یہ سب حالات اس کے لئے بہت زیادہ تھے، اکثر بتاتا کہ جب گھر سے نکلتے وقت میں بابا وغیرہ سے پیچے رہ گیا تو نثار بھائی نے کہا کہ اب ان لوگوں میں مکس ہو کر باہر نکلنے کی کوشش کرو تو میں واپس آپ کے بیڈ روم میں گیا وہاں لوگ آپ کی الماریوں سے سامان نکال نکال اپنی چادروں میں باندھ  رہے تھےتو اس میں وہ جوتے بھی تھےجو چند دن پہلے آپ لوگوں نے خریدے تھے۔ میں نے چیخ کر کہا کہ یہ تو باجیوں نے ابھی پہنے بھی نہیں تو وہ میری طرف دوڑے کہ یہ تو کوئی قادیانی تھا میں جلدی سے کمرے سے باہر نکلا، باہر آ کر دیکھا کہ میری نئی سائیکل ایک شخص اٹھا کر جارہاتھا، مجھے   بہت دکھ ہوا اتنے میں ایک اور شخص نے آکر اسے قتل کیا اور سائیکل اس نے اٹھا لی میں حیران ہوا مگر وہ ابھی چند قدم ہی آگے گیا ہوگا کہ اتنے میں ایک تیسرے شخص نے آکر اسے گولی مار کر سائیکل اس سے چھین لی تو میرا دل بہت برا ہوا کہ ایک سائیکل کےلئے اتنی جانیں چلی گئیں۔ جب چند ماہ بعد چچا جان کی ڈی۔ آئی۔ خان پوسٹنگ ہوئی، توہم  بھی چچا جان کے ساتھ گئے۔ وہاں کمرے میں داخل ہوتے ہی  یہ پریشان ہو کر واپس باہر آیا، ہم نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اندر انگیٹھی کا رنگ خون کی طرح سرخ ہے۔ اسے دیکھ کرمجھے   فیض محمد بھائی کا خون یاد آیا۔ کافی دنوں تک وہ اس وجہ سے بہت پریشان رہا، کیونکہ سب کمروں میں ایسا تھا مگر گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے پر جب اسے سکول میں داخل کیا تو سکول شروع ہونے پر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت بحال ہوئی۔ الحمد للہ

 حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اباجان کو ربوہ بلا کر افسر حفاظت کی ڈیوٹی دی۔ اور چاہتے تھےکہ ہم بھی ربوہ آ جائیں اور ازراہِ شفقت ہمیں قصر خلافت میں ایک کوٹھی دی۔ کچھ عرصہ ربوہ رہ کر اباجان نے حضور سے اجازت لے کر منڈی بہاؤالدین شوگر مل میں ملازمت کرلی کیونکہ ایک افسر حفاظت وہاں پہلے سے موجود تھےاس لئے اباجان نے زیادہ دیرجماعت پر بوجھ بننا پسند نہ کیا اور ہم منڈی بہاؤالدین آگئے۔

جب 1947ء میں اباجان ربوہ میں تھےاور امی اور ہم گاؤں میں تھے۔ اباجان بتاتے ہیں کہ میں اکثر اسوجہ سے اداس اور پریشان ہوتا کہ پتہ نہیں میری بیوی بچے کس حال میں ہوں گے۔ ایک بار حضور کے گھر سے بہت اچھا کھانا آیا۔ جسے دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بہت دعا کی کہ اے خدا میرے بچوں کا کیا حال ہوگا؟ میرے آگے تو اتنا اچھا کھانا ہے اور نہ معلوم انہوں نے کیا کھایا ہوگا؟ کھانا کھائے بغیر سو گیا تو خواب دیکھا کہ کوئی مجھے   کہتا ہے کہ تم کھانا کھا لو میں نے تمہاری فیملی کے لئے کھانا بھیج دیا ہے۔ جب اٹھا تو بہت تسلی ہوئی کھانا کھایا یقین تھا کہ اللہ تعالىٰ ضرور فضل فرمائے گا۔ اکثر جب گھر میں کوئی نیا پھل آتا یا اچھا کھانا بنتا تو اباجان کہتے بیٹا یہ کھا کر دو نفل ادا کر کے خدا کا شکر ادا کرو۔ یہ خلیفۃ المسیح کی دعاؤں اور خدمت کی برکت سے اللہ تعالىٰ نے عطا کیا ہے اور ہم یہ سن کر خوشی خوشی وضو کر کے نفل پڑھ  لیتے۔

اباجان طبیعت کے بہت نرم اور پیارکرنے والی تھی۔ ہم اکثر رات کو ان سے کہانی سننے کی فرمائیش کرتے۔ تو بڑے پیار سے کہتے، بیٹا جب میں جہوٹی کہانی سناؤں تو مجھے   بخار ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں تم  لوگوں کو حضور (خلیفۃ المسیح الثانی) کی یا قادیان  کی سچی کہانی سناتا ہوں۔ یاپھرجنگ عظیم  کے واقعات، یا احمدیت کی وجہ سے انکے ساتھ ہونے والے مخالفت کے واقعات اور اللہ تعالىٰ سے دعائیں مانگنے کے نتیجہ میں مخالفین کا انجام سناتے اور ہم بہن بھائی یہ واقعات روزانہ بڑے شوق سے سنتے۔ بلکہ جب بھی ہمارے خاندان میں یا جاننے والوں میں سے کوئی پریشان یا دکھی ہوتا تو اباجان کے پاس آتے اور ان سے مزے مزے کی باتیں اور ایمان افروز واقعات سن کر سارا غم بھول جاتے۔

اباجان کو اکثر محض احمدیت کے مخالفت میں تنگ کرنے کے لئے ان پر جہوٹے مقدمے کئے۔ اباجان ہمیں حالات بتا کر دعا کرنے کےلئے کہتے کہ مل کر دعائیں کرو کہ اللہ تعالىٰ ہم پر فضل فرمائے اور جہوٹوں کو سزا ملے۔ پھر جیسے ہی اللہ تعالىٰ فضل فرماتا، سب کو خوشخبری سنا کر کہتے اللہ میاں نے آپ کی دعائیں سن لیں، اب سب مل کر شکرانہ کے نفل پڑھ لو۔ امی سے کہہ کر اچھا کھانا پکواتے، یا پھر بازار سے پھل یا مٹھائی ہمارے لئے لے آتے۔

اباجان، امی جان کو رات کے وقت کسی کام کے لئے نہ جگاتے۔ ہمیں بھی یہی کہتے کہ تمھاری ماں سارا دن کام کر کے تھک جاتی ہے۔ اس لئے اسے رات کو نہ جگاؤ۔ خود ہمیں  پانی یا دوائی جو بھی ضرورت ہوتی، دے دیتے۔ ساری رات بار بار آکر ہم سے پوچھتے کہ ہمیں کچھ چاہئے تو نہیں؟ رات کو گرمی لگتی تو پنکھے کا رخ ہماری طرف کر دیتے۔  مچھردانی لگا کر اکثر رات کو اٹھ کر اس پر پانی  چھڑکتے کہ ہمیں گرمی نہ لگے مگر امی کو جگانا مناسب نہ سمجھتے۔ ایک بار جب ہماری نانی ہم سے ملنے لارنسپور آئیں۔ تو صبح اٹھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعا دی کہ اس سے اچھی بات کیا ہوگی۔ جب ایک باپ رات کو اپنے بچوں کی خدمت کرے اور بیوی کو چہوٹے چہوٹے کاموں کے لئے  نہ جگائے۔

امی اور اباجان بہت غریب پرور اور مہربان تھے۔ اگر کوئی کام کرنے والی بیمار ہوتی تو خود بھی اس کی خدمت کرتیں ہمیں بھی کہتیں کہ جاکر ان کے پیر دباؤ دوا یا خوراک دے دو۔ اگر گھر میں کسی دن کام زیادہ ہوا تو ہمیں ان کے پیر دبانے کا کہتیں ہم بھی خوشی خوشی یہ سب کرتے۔

امی اور اباجان بچپن ہی سے تہجد گذار تھے۔ ہم نے بچپن میں اکثر دیکھا کہ رات کو دروازے پہ دستک ہوتی اباجان اٹھ کر دیکھتے تو کوئی نہیں ہوتا، اباجان گھڑی دیکھتے تو تہجد کا ٹائم ہوتا۔ اٹھ کر تہجد پڑھ لیتے۔ امی جان بتاتی تہیں جب وہ لنڈن آئیں تو ڈیڑھ سال تک ان کو باقاعدہ پانچوں وقت آذان کی آواز آتی تھی یہ تمام عرصہ انہوں نے آذان سن کر نماز ادا کی۔

اباجان اور امی کافی بیمار تھے۔ تو 1984ء میں اعجاز احمد نے ان کو انگلنڈ بلایا۔ اباجان نے ملاقات کے دوران حضور کی خدمت میں دعا کی درخاست کی کہ حضور میں بیمار ہوں۔ جسم میں طاقت نہیں، پورا جسم کانپتا ہے۔ میری صحت کے لئے دعا کریں۔ حضور نے ہنس کر فرمایا، آپ بالکل ٹھیک ہیں، اپنی ڈیوٹی پر آجائیں۔ تو اباجان نے بتایا کہ حضور اب سکیورٹی کی ڈیوٹی تو میں نہیں دے سکتا اگر کوئی اور خدمت ہو، تو میں تیار ہوں۔ پھر اباجان کچن میں مدد کروا لیا کرتے تھےاور خدا کے فضل سے بہت اچھا محسوس کرنے لگے۔ جتنی دیر (تقریباً ڈیڑھ دوسال) انگلنڈ رہے تو باقاعدہ مسجد جاتے رہے۔

 ابا جان 2014ء جنوری میں فوت ہوئے اور امی جان کی وفات 2014ء دسمبر میں ہوئی اور تینوں بھائی  بمع فیملی کے امریکہ میں ہیں۔ امۃالنصیر ربوہ  میں اور میں اور میری بڑی بہن جرمنی میں رہتے ہیں خدا کے فضل سے سب اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں ۔ الحمد للہ

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *