مسرّت قدیم کے مطابق ’شروع سے ہی دیکھ لیں کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے امیدوار گئے تو تو ڈی آر اوز نے کاغذات نہیں لیے، کئی جگہوں پر انھیں روکا گیا اور ان سے کاغذات نامزدگی تک چھینے گئے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اب یہ ایک پیٹرن بن چکا ہے کیونکہ ماضی میں ن لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے۔‘

ان کے خیال میں اس وقت بظاہر تحریک انصاف کو انتقام کا سامنا ہے، کبھی ان سے بلا چھین لیا جاتا ہے اور نہ انھیں کھیلنے دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق باقی آزاد امیدواروں کے ساتھ جو ہو گا وہ آٹھ فروری کو ہی پتا چل سکے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس بار ایسے حربے زیادہ کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ یہ 2024 ہے اور اب ہر کچھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی بدولت عوام تک پہنچ جاتا ہے۔

ماہر انتخابی امور سرور باری نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے احتساب کی ضرورت ہے۔

ان کی رائے میں اتنی بڑی تعداد میں امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ملک میں ایک انتخابات کے باوجود افراتفری رہے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف الیکشن کمیشن ٹرن آؤٹ بڑھانے کی حکمت عملی بنا رہا ہے اور دوسری طرف ایک پوری جماعت کو بغیر کسی منطق کے انتخابی عمل سے ہی باہر دھکیلا جا رہا ہے۔

سرور باری کے خیال میں الیکشن کمیشن کی یہ کوشش ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواران میدان میں نہ ہوں۔

ان کے مطابق مختص نشستوں کی سکروٹنی کی تاریخ 31 دسمبر سے بڑھا کر 13 جنوری کر دی گئی ہے تا کہ بلا نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کو ان نشستوں سے بھی محروم رکھا جا سکے۔

خیال رہے کہ ہر جماعت کو انتخابات میں جتنی نشستیں ملتی ہیں اس تناسب سے ہی اس کے حصے میں مخصوص نشستیں آتی ہیں۔ مگر جب کسی جماعت کو انتخابی نشان نہ مل سکے تو پھر اسے مخصوص نشستوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں کیونکہ اس جماعت کے آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدواران مخصوص نشستوں کے اعتبار سے جماعت کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔

سرور باری کے مطابق الیکشن ٹریبیونلز کے متعدد ججز بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں جو قبل از وقت دھاندلی کی بدترین مثال ہے۔

ان کی رائے میں الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی کوشش ہے کہ تحریک انصاف کسی صورت انتخابی عمل میں آگے نہ نکل سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بے نظیر کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے آئی جے آئی بنائی گئی، نواز شریف کو ملک سے باہر نکال دیا گیا تھا مگر ایسی تمام کوششیں بے سود رہیں۔ ان کے مطابق آخری دن بھی تحریک انصاف اعلان کر سکتی ہے کہ کس امیدوار کو ووٹ دیے جائیں اور پھر ایسے امیدواران کو ووٹ مل سکیں گے۔