Latestاردوسیاستقومی

پارلیمنٹ میں نہ پہلے مسائل حل ہوئے نہ آئندہ ہونگے

تحریر: نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی

شہید نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نواب زادہ جمیل اکبر بگٹی نے بلوچ یکجہتی کی احتجاج کرنیوالی خواتین بچوں اور بزرگوں پر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے تشدد اور ناروا اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں نہ پہلے ہمارے مسائل کو حل کیا ہے نہ آئندہ کریگی ہمارے عوامی نمائندوں کو اپنی بچیوں پر ہونیوالے مظالم اور تشدد نظر نہیں آرہا انہیں صرف کرسی کے حصول کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی فکر ہے کیونکہ اصل حکمرانی تو مقتدر قوتوں کی ہے جسکا ہمارے سابقہ اراکین پارلیمنٹ بھی برملا اظہار کرچکے ہیں۔اس لئے انتخابات میں حصہ لینے سے بلوچ قوم کو تحفظ ملے گا بلکہ کچھ لوگوں کو پیٹ بھرنے کا موقع ملے گا ”آن لائن” سے بات چیت کرتے ہوئے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ ہماری معصوم بچیاں اور بچے اپنے بزرگوں کے ہمراہ تربت سے لانگ مارچ کا آغاز کرکے انصاف کے حصول اور اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے اسلام آباد پہنچےجہاں پر ریاست کے نمائندوں اور آفیسران نے جسطرح ہماری بچیوں پر مظالم کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ناروا سلوک روا رکھا جو کسی بھی مہذب معاشرے مذہب میں ایسا برتاو نہیں کیا جاتا کیونکہ برشہری کو آئینی قانونی اور جمہوری طور پر پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے جان بوجھ کر انکو تشدد کا نشانہ بنانا ریاستی اور انتظامی امور چلانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے پہلے ہمیں پارلیمنٹ نے کونسے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنایا ہے

گزشتہ 75 سالوں سے پنجاب کے بالادست طبقے کے مظالم نا انصافیاں اور ناروا سلوک آج تک بھگت رہے ہیں جو آنیوالی پارلیمنٹ ہمیں ان مسائل اور مشکلات سے چھٹکارہ دلائیگی ہمارے نمائندوں کو اپنی بچیوں بچوں اور بزرگوں پر ہونیوالے تشدد اور ظلم نظر نہیں آرہے انہیں صرف اپنی پارلیمنٹ اور اقتدار کی کرسی نظر آرہی ہے انہیں اپنے لوگوں کے ساتھ جو برتاو ہورہا ہے وہ نظر نہیں آرہا کیونکہ ہر دور میں پارلیمنٹ میں نمائندگی ہونے کے باوجود انکی بات نہیں سنی جاتی جبکہ تمام ریاستی اور حکمرانی کے امور مقتدر قوتیں ہی چلاتی ہیں اور آئندہ بھی چلائینگی اس لئے بلوچ قوم پر ہونیوالے مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف ملکر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو اور انکے اہلخانہ کو انصاف مل سکے اگر آج ہم ان مظالم کے خلاف اکٹھے نہیں ہوئے تو آنیوالی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی اور جاری ظلم و جبر کی یہ روش برقرار رہیگی اس لئے میری بلوچ قوم سے یہی اپیل ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں کیونکہ اتنے عرصے میں پارلیمنٹ میں رہ کر کوئی شنوائی نہیں ہوگی صرف تقریریں ہوں گی جس سے بلوچ قوم کے ساتھ گزشتہ 75 سالوں میں ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکے گا اس لئے بلوچ قوم انتخابات میں حصہ نہ لے ۔

بشکریہ: بی بی سی اُردو

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *