Pakistan

جبلِ نور القرآن کوئٹہ پاکستان

تحریر:شیمار صدیقی

کوئٹہ چھوٹا لیکن خوبصورت شہر ہے اور یہاں کئی تاریخی اور تفریحی حوالے موجود ہیں۔ یہاں پہنچ کر جب ہم نے مقامی افراد سے پوچھا کہ کہاں کہاں جائیں تو ہر ایک کی زبان پر پہلا نام ‘جبل نورالقرآن’ کا تھا۔ پھر فیصلہ ہوگیا کہ اس سفر کا پہلا پڑاؤ جبل نورالقرآن ہی ہوگا، اور اس کے بعد ہی آگے کی خاک چھانیں گے۔

یہ مقام کوئٹہ کے مضافات میں چلتن پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جہاں پہاڑوں میں سرنگ کھود کر قرآن کریم کے ضعیف اور مخدوش نسخے اور دیگر مذہبی کتب اور ان کے اوراق رکھے جا رہے ہیں تاکہ انہیں بے حرمتی سے بچایا جائے۔ مقامی آبادی بھی جبل نورالقرآن پر فخر کرتی ہے کہ یہ ناصرف پاکستان بلکہ دنیا میں واحد مقام ہے جہاں قرآن پاک اور مذہبی کتب کے ضعیف صفحات کو پورے احترام کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔

1992ء میں جبل نور فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا اور میر عبد الصمد لہڑی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا جسے ان کے بھائی میر عبد الرشید لہڑی نے آگے بڑھایا۔ اب اس کام کو لہڑی خاندان کی دوسری اور تیسری نسل کررہی ہے۔

ابتدا میں خیال تھا کہ دینی اوراق جو ضعیف اور بوسیدہ ہوجاتے ہیں انہیں بے حرمتی سے بچایا جائے۔ اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے ایک پہاڑی میں سرنگ کھودی گئی اور ضعیف صفحات کو وہاں محفوظ کردیا گیا۔ 30 سال پہلے ایک سرنگ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج 100 سے زیادہ سرنگوں تک جا پہنچا ہے۔

جبل نورالقرآن کوئٹہ کے مضافات میں چلتن پہاڑی سلسلے میں واقع ہے

لہڑی خاندان کی دوسری اور تیسری نسل اب اس کا انتظام دیکھ رہی ہے

ہمارے ساتھ کوئٹہ کے رہائشی گل احمد تھے جن کی وجہ سے ہمیں ہر جگہ آسانی رہی۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم جبل نور کی اہمیت اور کام سے واقف تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ یہاں موجود قرآن میوزیم کے ساتھ ساتھ سرنگ کو بھی دیکھیں، اس لیے ہم نے صبح تازہ دم ہوکر جانے کا فیصلہ کیا۔

ہمارا ہوٹل شہر کے وسط میں تھا لہٰذا ہم نے جبل نور کے لیے گاڑی گھمائی اور مغربی بائی پاس پر حاجی کیمپ کی طرف رخ موڑ لیا جہاں بروری روڈ پر جبل نورالقرآن واقع ہے۔ یہاں پہنچے تو محسوس ہوا کہ یہ علاقہ کوئٹہ شہر سے ذرا ہٹ کر ہے۔ گل احمد سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ علاقے کی غالب اکثریت پشون ہے۔ یہاں دیوبند مکتبہ فکر کے کئی پرانے دینی مدارس بھی قائم ہیں۔

پورے کوئٹہ شہر میں ہی عوامی سواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ راستے میں خواتین اور بچوں کو اندورن شہر جانے والی بسوں کے انتظار میں دیکھا۔ حیرت کی بات یہ لگی کہ مردوں کے لیے سفر کرنا مشکل ہے تو خواتین کیسے سفر کرتی ہوں گی؟

چلیں ہم واپس جبل نورالقرآن کی طرف آتے ہیں۔ یہ پہاڑ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ گاڑی پارک کرکے ہم داخلی دروازے سے احاطے میں داخل ہوئے اور دو قدم ہی چلے تھے کہ ہمارے ہاتھوں میں کیمرہ دیکھ کر سیکیورٹی اسٹاف نے اشتہاری بورڈ کی طرف اشارہ کیا کہ تصاویر اور ویڈیو کی اجازت نہیں۔ ہم نے ان کی بات پر سر ہلا دیا اور کیمرا اندر رکھ لیا۔ ہمارا تو یہ اصول ہے کہ کہیں بھی کیمرا ہاتھ میں نہ ہو، لیکن عاصلہ سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ راستے میں تصاویر لیتے ہوئی آئیں تھیں اس لیے وہ کیمرہ ہاتھ میں لے کر اتر گئیں۔ بہرحال تصاویر تو ہمیں لینا تھیں لیکن اجازت لے کر۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پارسل وصول ہونے کے بعد سب سے پہلے اسے چھانٹنے کے عمل سے گزارا جاسکتا ہے۔ یہاں خادم القرآن بوری کھول کر قیمتی اور نایاب نسخوں کو الگ کرنے کے ساتھ ضعیف اور مخدوش کتب کو جبل نور میں دفن کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ اس کے بعد جن کتب اور قرآن کریم کی جلد سازی کرکے بہتر کیا جاسکتا ہے انہیں دوسرے سیکشن میں لے جاتے ہیں جہاں جلد سازی کرکے انہیں دوبارہ پڑھنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ یہ جلد شدہ قرآن شریف دینی مدارس کے لیے بھیج دیے جاتے ہیں یا پھر یہاں آنے والے تحفے میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں‘۔

یہاں اب تک اندازاً ڈھائی سے 3 کروڑ قرآن پاک اور دینی کتب آچکی ہیں۔ہر سرنگ میں 35 ہزار بوریاں آتی ہیں اور ہر بوری میں 35 سے 45 ضعیف قرآن پاک اور کتب آتی ہیں-یہاں اب ایسی 100 سے زائد سرنگیں موجود ہیں-

محمد اجمل نے بتایا کہ میوزیم بنانے کا خیال جبل نورالقرآن فاؤنڈیشن کو اس وقت آیا جب قدیم اور قلمی نسخے ان کے ہاتھ لگے۔ ان میں سے چند نسخے تو 600 سے 700 سال پرانے ہیں اور کچھ 300 سال پرانے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے پاس سب سے قیمتی اور نایاب زمرد سے تیار کردہ سیاہی سے مزین قرآن پاک کا قلمی نسخہ بھی ہے جس کے رنگوں کی آب و تاب آج بھی برقرار ہے۔

یہاں حضرت عثمان غنیؓ کے رسم الخط کا قرآن پاک بھی ہے جو دہلی میں 1861ء میں چھپا۔ یہاں مذاق العارفین کا ترجمہ احیا علوم، مصنف محمد احسن صدیقی، مطبع منشی نول کشور، لکھنو کا سن 1912ء کا چھپا ہوا قدیم مخطوطہ بھی ہے۔

جبل نورالقرآن میں جہاں نادر و نایاب قرآنی نسخے اور مذہبی کتب موجود ہیں وہیں ان کے پاس عدسے (Lens) کی مدد سے پڑھا جانے والا 300 سال پرانا انتہائی چھوٹا قلمی نسخہ بھی ہے۔ اس کی لمبائی ساڑھے 9 سینٹی میٹر اور چوڑائی ساڑھے 5 سینٹی میٹر ہے۔ یہاں ایک اور مائیکرو قرآن بھی ہے جس کی لمبائی 12 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔

خادم قرآن محمد اجمل نے قرآن اور قدیم دینی کتب کے بارے میں بتایا کہ ‘ہماری کوشش ہے کہ حاصل ہونے والی کتب پر ان کا نام، مصنف کا نام اور سن اشاعت لکھ دیں’۔

اتنی نایاب دینی کتب کو دیکھ کر ہم نے بے ساختہ پوچھ ہی لیا کہ آخر اتنے سال پرانے، قدیم اور قلمی نسخے محفوظ کیسے رہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘پہلے قیمتی کتب کو محفوظ کرنے کے لیے چمڑے کی جلد کردی جاتی تھی جس کی وجہ سے یہ آج ہمارے ہاتھوں تک پہنچے۔ ان میں سے اکثر کے صفحات ضعیف ہوچکے تھے جنہیں ہم نے درست کیا اور محفوظ بنایا جبکہ چند کتب کے شروع اور آخر کے صفحات ضائع ہوچکے ہیں اسی لیے ہمیں مصنف، کتابت اور اشاعت کی تفصیل نہیں مل سکی۔

تیونس کا القرآن العظیم، انڈونیشا کے عربی اور رومن زبان کے قرآن کریم کے آخری 10 پارے بھی یہاں محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کے پاس قرآن پاک کا سنہالی زبان میں ترجمہ بھی موجود ہے۔ اس کا متن عربی میں ہے اور اسے مورا اسلامک کلچر ہوم، سری لنکا نے شائع کیا ہے۔

نایاب نسخوں میں بلوچی زبان کا قدیمی نسخہ، حضرت علامہ قاضی عبدالصمد سربازی و حضرت مولانا خیر محمد صاحب ندوی الحمقہ المرکزیہ الدعوۃ اسلامیہ، پنجگور، مکران و جامعہ النصاریہ تربت کا لکھا ہوا ہے۔ قرآن الکریم مترجم بزبان بروہی ترجمہ مولوی محمد عمر پندانی، طباعت ہندوستان، اسٹیم پریس لاہور، 1914ء کی شائع کردہ ہے۔ پھر کوئٹہ کی مقبول شخصیت جو نانا صاحب کہلاتے تھے، ان کے ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی سپارے بمعہ ترجمہ بھی اس میوزیم کا حصہ ہے۔

یہاں کتاب درود سلام کا 500 سال پرانا قدیم قلمی نسخہ بھی ہے، جس کے کاتب و سن تحریر نہیں۔ حدیث اور دینی مسائل پر فارسی زبان میں کتب کے ساتھ قرآن پاک بھی موجود ہے۔ یہاں کتاب فقہ کا 400 سے 500 سال پرانا مجلد لیکن قدیم نسخہ ہے۔

یہاں ایک دو گھنٹے گزارنے کے بعد ہم نے باہر نکل کر پہاڑ کی جانب چڑھنا شروع کیا۔ اوپر پہنچ کر کوئٹہ شہر کا نظارہ ہی کچھ الگ تھا۔ جبل نورالقرآن سے جڑے احاطے میں نیچے قبریں تھیں اور ایک کھیل کا میدان بھی نظر آیا۔ یہاں کچھ بچے بھی تھے جو ہم سے شرما کر بھاگ گئے۔ ذرا اور اوپر گئے تو یہاں ہماری ملاقات سرنگ کھود کر واپس آنے والے نوجوان ریاض سے ہوئی اور وہ ہمیں سرنگ کے اندر لے جانے کے لیے تیار ہوگئے۔

سرنگ کے داخلی دروازے پر باقاعدہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ سرنگ کا تالہ ریاض نے ہی کھولا اور ہم ابھی ایک دو منٹ ہی چلے تھے کہ یکایک تیز روشنی سے اندھیرے میں آگئے۔ سب نے فوراً موبائل سے روشنی کرنے کی کوشش کی۔ یہ ناکافی روشنی ہمیں راستہ دکھانے کے قابل تو نہیں تھی لیکن ہم جوش میں پیچھے پیچھے چلتے رہے۔

پہاڑ چڑھے تو ہماری ملاقات سرنگ کھودنے والے ریاض سے ہوئی-اس پہاڑ کے احاطے میں ایک قبرستان اور کھیل کا میدان بھی موجود ہے۔

چلتے چلتے ریاض نے بتایا کہ ایک سرنگ 6 فٹ چوڑی ہوتی ہے اور انہیں ایک فٹ کھدائی کے ایک ہزار روپے مزدوری ملتی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ہزار فٹ سرنگ کھودی ہے جسے کھودنے میں انہیں تقریباً ایک سال لگا ہے۔ وہ یہاں صبح 8 بجے سے پہلے آجاتے ہیں اور شام کے 4 بجے تک کام کو جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مزدوری زیادہ سخت تھی کیونکہ کھدائی کا کام ہاتھ سے کرتے تھے لیکن اب ڈرل مشین نے کسی حد تک ان کے کام کو آسان کردیا ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *