عالمی دن والدین کے لئے
تحریر:عیشا صائمہ
دنیا میں آنے کے بعد انسان کو جو سب سے پیارا رشتہ ملتا ہے وہ والدین ہیں
ایک بچہ اپنا بچپن اپنے والدین کے ساتھ گزارتا ہے اور کھانے پینے کے آداب ، گفتگو کا سلیقہ سب کچھ اپنے والدین سے سیکھتا ہے یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے بغیر ہماری ہر خوشی ادھوری اور نامکمل ہے سوچییے جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں ہر طرح سے اس کا خیال رکھتی ہے اس کی غذائی ضروریات کے ساتھ اس کی زہنی و روحانی تربیت کا بھی خیال رکھتی ہے اسے ہر پل اپنی اولاد کی فکر رہتی ہے کہ میرے بچوں کو زندگی میں کبھی بھی کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے – بلکہ وہ اپنی طرف سے جتنا سکھ اپنے بچوں کو دے سکتی ہے دیتی ہے اس کے لئے وہ اپنے آپ کو بھول جاتی ہے اپنی بے لوث اور سچی محبت سے اسے پالتی ہے اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے یہ سوچے بنا کہ اپنی اس محنت کا پھل اسے ملے گا بھی کہ نہیں – وہ بغیر کسی تمنا کے اولاد کے سکھ کے لئے کوشاں ہوتی ہے –
ماں کی محبت ہر رشتے سے زیادہ اہم اور انمول ہے کیونکہ باقی رشتے کہیں نہ کہیں بدل جاتے ہیں لیکن ماں ایسی ہستی ہے جس کی محبت اپنے بچوں کے لئے ہمیشہ قائم رہتی ہے اس لئے وہ بغیر کسی صلے کے اولاد پہ اپنی سچی محبت وشفقت نچھاور کرتی ہے اس لئے ہمیں اپنے والدین خصوصاً ماں کے لئے وقت نکالنا ہے آج کی مصروف زندگی میں جہاں دن منانے کا رواج عام ہو گیا ہے ہمیں اس ریت کو ختم کرنا ہے کیونکہ ماں سے محبت کے لئے کوئی خاص دن یا وقت مقرر نہیں بلکہ ہم اس عظیم ہستی کو ہر وقت اچھے برتاؤ اپنے حسن سلوک سے یہ باور کرا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے بہت اہم ہیں دوسری اقوام کی تقلید کی بجائے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی اور، اطاعت کے بعد والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے –
ترجمہ “اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ”
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے –
ترجمہ “اور انہیں اف تک نہ کہو”
یعنی جو والدین ہمیں معاشرے میں جینے کا ہنر سکھاتے ہیں اور ایک اہم فرد کی حیثیت سے سامنے لاتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے بعد والدین کی خدمت کو زندگی کا اولین مقصد سمجھیں محض ان کی ضروریات پوری کر دینا محبت کا تقاضا نہیں بلکہ ان کو اپنا وقت دیں ان سے بات کریں ان کی خوشی کے لئے ان پہ خرچ کریں انہیں یہ احساس مت دلائیں کہ وہ آپ کے محتاج ہیں بلکہ انہیں سر کا تاج بنا کر رکھیں ان کی چھوٹی سی چھوٹی خواہش بنا کہے پوری کریں – آج کل اولاد کے پاس اتنا وقت نہیں کہ والدین کے پاس بیٹھیں ان سے بات کریں – کیونکہ وہ دنیا کمانے کی دوڑ میں ان انمول رشتوں کو بھول چکے ہیں
کبھی کبھی آپ کے پیار کے دو بول ان عظیم ہستیوں کی خوشی کا باعث ہوتے ہیں ان کو اس بات کا احساس اپنے عمل سے دلائیں کہ وہ آپ کے لئے بہت قیمتی متاع ہیں آپ کا ان کے بنا گزارا نہیں بلکہ آپ ایک پل کے لئے ان سے جدا نہیں ہو سکتے یہ خوشی ان میں جینے کی امنگ پیدا کرے گی –
والدین ہی ہیں جن کی دعاؤں کی بدولت ہم کامیابیوں کے زینے آسانی سے عبور کر لیتے ہیں اور بہت سی مصیبتوں سے بچ جاتے ہیں اس لئے کوشش ہونی چاہیے انہیں ہماری وجہ سے کبھی کوئی تکلیف نہ ہو کیونکہ ماں کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ایسے ہی ان کی بد دعا بھی قبول ہو سکتی ہے اس لئے خود کو اس قابل بنائیں کہ ماں کے منہ سے ہمیشہ آپ کے لئے دعا نکلے –
والدین کا حق اتنا زیادہ ہے کہ ہم کسی طرح بھی اسے ادا نہیں کر سکتے اگر ہم ماں کو کاندھوں پر بٹھا کر حج بھی کروائیں تو یہ حق ادا نہیں ہو سکتا اس لئے خود کو ہر پل ان کی خدمت کے لئے وقف کر دیں – کیونکہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور باپ اسی جنت کا، دروازہ ہے –
اس لئے والدین کی قدر ان کی زندگی میں کیجیے تاکہ بعد میں آپ کو پچھتانا نہ پڑے – –
والدین کی عظمت کا اندازہ آپ ﷺکے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے “
ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا- یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا..’’تیری ماں‘‘ پھر پوچھا – – – پھر کون؟ فرمایا ’’تیری ماں‘‘ پھر عرض کیا—اور کون ؟— فرمایا ’’تیری ماں‘‘ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا۔ چوتھی مرتبہ پوچھنے پر ارشاد فرمایا ’’تیرا باپ “–
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھیں اور انہیں ادا کرنے کی کوشش کریں اگر کہیں باہر ہیں تو دن میں ایک یا دوبار والدین کی خیریت معلوم کرنے کے لئے ان سے بات ضرور کریں اکثر ان کے ساتھ ان کے بچپن، ان کی جوانی ان کی زندگی میں جو اتار چڑھاؤ تھے اس، پر بات کریں دیکھیے گا یہ چیز ہی انہیں خوشی دینے کے لئے کافی ہو گی کہ ان کی اولاد نے ان کے لئے وقت نکالا-
آج ہمیں مغرب کی طرح اس دن کو منانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس احساس کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جنہوں نے اپنا آپ ہمارے اور ہمارے بہتر مستقبل کے لئے وقف کر دیا ان سے محبت کے اظہار کے لئے ایک دن ناکافی ہے کیونکہ یہ وہ انمول رشتے ہیں جن کی پر خلوص محبت نے جینے کا سلیقہ سکھایا تو آج ہم ان کی اس، محبت کا حق ہر پل، ہر لمحہ ان سے اپنی محبت کے اظہار اپنے حسن سلو ک سے ثابت کر سکتے ہیں ہم اپنے والدین ان کی دعاؤں کے بنا کچھ بھی نہیں – یہ سب ان کی محنت اور محبت کا کرشمہ ہے کہ ہم ایک بہترین انسان بن کر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے – اس کے لئے ہمیں ہر پل اپنے والدین کا شکر گزار ہونا چاہیے – “کیونکہ ہماری کامیابی اور ترقی پر سب سے زیادہ والدین خوش ہوتے اور ہمیں آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں – ورنہ باقی رشتے کھوکھلی محبت پرمبنی ہوتے ہیں -یہ ماں باپ ہی ہیں جو ہمارے لئے شجر سایہ دار کا کام کرتے ہیں – اور ہمیں زمانے کی کڑی دھوپ سے بچاتے ہیں تو آئیے آج سے ہر پل ہر لمحہ اپنے والدین کے لئے وقف کرتے ہیں تاکہ دنیا و آخرت میں ہمیں کامیابی نصیب ہو سکے

