وقت آنے دو
رعنائیاں ہر سُو بکھریں گی گیسوئے لہرانے دو
پُرنُور سویرا پُھوٹے گا یہ ظلمت شب ڈھل جانے دو
تم اپنی وفا پہ دیوانو! بھولے سے بھی حرف نہ آنے دو
جو تم کو بُرائی دیتے ہیں تم اُنکو پیار خزانے دو
ہم جَوروجفا کے خوگر ہیں‘ بدلیں گے نہ اپنی خوئے وفا
ہم پیار کی شمعیں جلائیں گے نفرت کے زور دکھانے دو
تزئین گُلستان کرلیں گے پھر خونِ دل و جاں سے اپنے
ہم آبلہ پاؤں کو پہلے کانٹوں کی پیاس بجھانے دو
یہ سچے عاشق کی باتیں ہیں خوش بختی کی معراج ہے یہ
وہ لُطفِ مجسّم جب بھی کہے جانوں کے بھی اَب نذرانے دو
جذبات کا خُوں کرتے کرتے اِک عمر گزاری ہے ہم نے
خاموش نگاہوں کو اب تو اِس دل کا حال سنانے دو
ناموسِ دیں کا تحفّظ بھی اس دَور میں ایک خطا ٹھہری
یہ قاضی شہر کا فتویٰ ہے اس جُرم کے بھی حرجانے دو
دِل خوفِ خدا سے خالی ہیں‘ ہوتی ہے تجارت مذہب کی
مذہب کے اجارہ داروں کو آئینہ ذرا دِکھلانے دو
اِک مَوج بہالےجائیگی سب ریت پہ لکھی تحریریں
اس مالک کے ہاں دیر توہے اندھیر نہیں وقت آنے دو
ہرشخص پکارے گا اِک دن ہر لب پہ یہی نعرہ ہوگا
ماحول کے چہرے سے ثاقب بادل تو ذرا چھٹ جانے دو
’’یا صِدقِ محمدِؐ عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا
باقی تو پرانے قصّے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو‘‘
(ثاقب زیروی)

