شاعریاردو

کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی

کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی

زنداں نظر آیا، زنجیر نظر آئی

سب اپنے عذابوں میں سب اپنے حسابوں میں

دُنیا یہ قیامت کی تصویر نظر آئی

کچھ دیکھتے رہنے سے کچھ سوچتے رہنے سے

اِک شخص میں دنیا کی تقدیر نظر آئی

جلتا تھا مَیں آگوں میں روتا تھا مَیں خوابوں میں

تب حرف میں یہ اپنی تصویر نظر آئی

دربار میں حاضر ہیں پھر اہلِ قلم اپنے

کیا حرف و بیاں میں ہے تاثیر، نظر آئی

کچھ خواب گلاب ایسے کچھ زخم عذاب ایسے

پھر دل کے کھنڈر میں اِک تعمیر نظر آئی

اک خواب کے عالم میں دیکھا کئے ہم دونوں

لو شمع کی شب ہم کو شمشیر نظر آئی

آباء کی زمینوں میں وہ کام کیا ہم نے

پھر ان کی زمیں اپنی جاگیر نظر آئی

(عبیداللہ علیم)

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *