غزل
ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
گم ہوئے رشتے سبھی اس بے وفا کے سامنے
خون پھیکا پڑ گیا رنگ حنا کے سامنے
شیخ جی دن رات کرتے ہیں نصیحت بھی مگر
ہار جاتے ہیں وہ اکثر دلربا کے سامنے
اب جلانا ہے اگر تو دل جلاو سر پھرو
ٹک نہ پائے گا دیا اب کے ہوا کے سامنے
ہم سے ممکن ہی نہیں سجدہ کسی دربار میں
سر جھکاتے ہیں فقط ہم تو خدا کے سامنے
ایک پل میں یار جس نے سر نگوں سب کو کیا
سر اٹھائے ہم کھڑے ہیں اس ہوا کے سامنے
اس سے ملنا ہی نہیں دل میں ٹھانا تھا مگر
پھر محبت آ گئی میری انا کے سامنے
جو سمجھ سکتا نہیں میرے اشکوں کی زباں
کیوں زباں کھولوں بھلا اس بے وفا کے سامنے
یار کا پیغام اس کو لے کے آنا تھا تبھی
ہم سراپا شوق تھے باد صبا کے سامنے
جو کبھی ملتا نہیں فیاض اس سے کیوں ملوں
مسئلہ یہ بھی تو ہے میری انا کے سامنے
