درس القرآن

وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ     ط  هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ    ط   مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ    ط  هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ  O    مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ   O    فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ    ط   هُوَ مَوْلٰىكُمْ    O    فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُؒ  O         (سورۃ الحج آیت79)

ترجمہ:  اور اللہ کے تعلق میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چُن لیا ہے اور تم پر دین کے معاملات میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ یہی تمہارے باپ ابراہیم کا مذہب تھا۔ اُس (یعنی اللہ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا (اس سے) پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ رسول تم سب پر نگران ہوجائے اور تاکہ تم تمام انسانوں پر نگران ہو جاؤ۔ پس نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ وہی تمہارا آقا ہے۔ پس کیا ہی اچھا آقا اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔

تفسیر:  اس آیت میں پہلی غورطلب بات یہ ہے کہ لفظ ’’مسلم‘‘ پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اسلام کے ظہور سے بہت پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور آپ کی قوم کو مسلم قرار دیا تھا۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مسلمانوں پر شہید یعنی نگران ہونے کا ذکر ہے اور مسلمانوں کا باقی دوسری قوموں پر شہید ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ جن معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وقت میں شہید تھے۔ بعینہٖ آپ کی پیروی میں مسلمان دوسروں پر شہید ہیں۔ لیکن شہید ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو زبردستی اپنی پسند کا مسلمان بنایا جائے کیوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید ہوتے ہوئے بھی کبھی جارحانہ جنگ نہیں لڑی نہ ہی کسی کو زبردستی مسلمان بنایا۔

جہاد کے معنی:  جدوجہد کرنا۔

اسی آیت میں جہاد بالسیف کے مضمون پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ صرف ان لوگوں کو اپنے دفاع میں جہاد بالسیف کی اجازت دی جارہی ہے جن پر اس سے پہلے دشمن کی طرف سے تلوار اٹھائی گئی اور ان کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا محض اس لیے کہ وہ یہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ربّ ہے۔ اس کے بعد یہ عظیم الشان مضمون بھی بیان فرمایا گیا کہ اگر دفاع کی اجازت نہ دی جاتی تو صرف مسلمانوں کی مسجدیں ہی منہدم نہ کردی جاتیں بلکہ یہود اور عیسائیوں وغیرہ کے معابد اور خانقاہوں کو بھی برباد کر دیا جاتا۔            (قرآن کریم اردو ترجمہ صفحہ 560 تا 575)

علاوہ ازیں مجاہد وہ انسان ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہے یعنی مومن اور وہ جو اس میدان میں نیکی کے کام کر رہا ہے۔ ہرنیک کام کرنا جہاد ہے۔ اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا۔ صحیح ہجرت کرنا یہ بھی جہاد ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں جہاد کے لیے جا سکتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے لیے حج کرنا بہتر عمل ہے جہاد کی بجائے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ بہترین جہاد وہ ہے جو ظالم حکمران کے خلاف بات کرنا اور اپنے والدین کی خدمت کرنا بھی بہترین      جہاد ہے۔

ارشادِ نبوی ﷺ

حضرت عبداللہ بن عمر بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یکدم نہیں چھینے گا بلکہ عالموں کی وفات کے ذریعہ علم ختم ہوگا۔ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ انتہائی جاہل اشخاص کو اپنا سردار بنا لیں گے اور ان سے جاکر مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔ پس خود بھی گمراہ ہوں گے وہ لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *