یہ وہ سحر تو نہیں
تحریر: آصف منہاس
(یہ وہ سحر تو نہیں / مصنف جسٹس (ر) سید منصور علی شاہ، انگریزی سے ترجمہ آصف منہاس)
ہر سال اگست میں ہم قومی پرچم لہرا کر خود کو آزاد تصور کرتے ہیں، لیکن اس آزادی کی پہلی ہی صبح، 1947 ء میں فیض نے ”صبحِ آزادی“ میں اس طویل انتظار کے بعد طلوع ہونے والی سحر کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ وہ سحر تو نہیں ”یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر“ یعنی یہ داغدار اور شب گزیدہ اجالا وہ صبح ہرگز نہیں جس کا ہمیں انتظار تھا۔ اناسی ( 79 ) سال گزر جانے کے بعد ، ہمارا قومی دن ہم سے ایک دیانتدارانہ سوال کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم نے ایک ملک تو حاصل کر لیا لیکن کس خاموشی سے اس کی حقیقی آزادی کو موخر کر بیٹھے ہیں؟ 1947 ء میں ہم نے اپنے حکمرانوں کی قومیت تو بدل دی لیکن نظامِ حکومت کی نوعیت کو بدلنے کا مشکل کام آنے والی نسل کے لئے چھوڑ دیا۔ یہی ہماری ادھوری آزادی ہے، جسے مکمل کرنا اب بھی ہمارا ہی فرض ہے۔
بات کا آغاز اس ایک شے سے کرتے ہیں جو سلطنت برطانیہ اپنے پیچھے چھوڑ گئی۔ یہ کوئی قانون نہیں تھا بلکہ وہ انداز فکر ہے جو منسوخ بھی نہیں ہوتا۔ استعمار صرف کسی زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ یہ مفتوحہ لوگوں کے شعور پر قابض ہوجاتا ہے۔ وہ انہیں خود کو حاکم کی نظر سے دیکھنا سکھاتا ہے۔ وہ عوام کو ایسی رعایا کے طور پر دیکھتے ہیں جن پر حکمرانی کی جا سکے نہ کہ ایسے شہریوں کی طرح جن کے مسائل حل کیے جائیں، کسی کھڑکی پر کھڑے سائلوں کے طور پر، نہ کہ ریاست کے حقیقی وارثوں کی طرح۔ اشیش نندی نے نو آبادیاتی نظام کو ہر چیز سے زیادہ ایک ذہنی تسلط قرار دیا تھا، ایک ایسی حالت جو پرچم بدلنے کے بعد بھی قائم رہی۔ یہ غلامانہ ذہنیت، سامراجی دور کے اتفاقی نتیجے کی بجائے اس کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ 1835 ء میں، لارڈ میکالے نے برطانوی حکام سے کہا تھا کہ ہندوستان میں تعلیم کا مقصد ایک ایسا طبقہ تیار کرنا ہونا چاہیے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر پسند، نظریات، اخلاقیات اور فہم کے لحاظ سے انگریز ہو۔ یعنی جسے حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ خدمت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ عاجزی کا عمل یعنی جھک جانا، اپنا حق مانگنے کے بجائے استدعا کرنا اور اقتدار کو اپنا حق سمجھنے کے بجائے ایسا غلبہ مان لینا جو انہیں پوری طرح مغلوب کر چکا ہو، یہ برطانوی استعمار کی ہمارے لئے پائیدار برآمد ہے۔
ایک نئی قوم کو ایسے مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو مقتدرہ کو جوابدہ بنا سکیں، ایسی سیاسی جماعتیں جن کی جڑیں عوام میں گہری ہوں اور ایک ایسی پارلیمنٹ جس میں جرات ہو۔ ہمارے پاس آغاز میں ایسے ادارے نہیں تھے، ہماری قیادت پہلے ہی محدود تھی جو جلد ہی مزید کم ہو گئی اور ہماری جماعتیں ناتجربہ کار اور باہم اختلافات کا شکارتھیں۔ بھارت کو دہائیوں کی جدوجہد سے پروان چڑھنے والی ایک عوامی تحریک وراثت میں ملی۔ جہاں اس نے تین سال کے اندر اپنے لئے ایک آئین تشکیل دے لیا وہاں ہمیں نو سال لگے۔ کھیل کے باہمی اصولوں کے بغیر نو سال، جبکہ یہ وہی ضروری دور ہوتا ہے جس میں سیاسی کلچر نے پروان چڑھنا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے وہ دو ادارے آگے بڑھے جنہیں برطانوی راج نے بڑی محنت سے تراشا تھا یعنی فوج اور سول سروس۔ یہی دونوں ادارے اس وقت مکمل منظم اور پراعتماد تھے جب کہ باقی سب ابھی نوآموز تھے۔
پرانا نوآبادیاتی آقا تو اپنے گھر کو لوٹ گیا مگر اس کی کرسی پر نئی مقتدر اشرافیہ آن بیٹھی، جو تھی تو مقامی لیکن اس کی سوچ اور مزاج نوآبادیاتی ہی تھا۔ یہی ہماری پہلی آزادی کا خاموش المیہ ہے کہ ہم نے استعمار کو شکست نہیں دی بلکہ صرف اس کا چہرہ بدل لیا۔ ہم ایسے شہری اور جج کیسے تیار کریں جو پوری ہمت سے اس وقت ”نہ“ کہہ سکیں جب طاقت سامنے بیٹھی لالچ دے رہی ہو؟ اور یہاں مجھے اپنے ہی ادارے کے بارے میں بات کرنا ہو گی، کیونکہ سب سے زیادہ نقصان جرنیلوں یا بیوروکریٹس نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا ہے۔ عدلیہ کو شہریوں کی محافظ بننا تھا۔ یہ ایک ایسا ادارہ جس کا مقصد ہی قانون کی طاقت سے مقتدرہ کو ”نہ“ کہنا ہے۔ لیکن اس نوآبادیاتی تحفے کی رگوں میں بھی وہی غلامانہ سوچ دوڑ رہی تھی۔ برطانوی راج میں اس نے عوام کی بجائے صاحب اختیار کی خدمت کی تھی اور پھر آزادی کے وقت اس نے اپنی وفاداری جانے والے تاج سے ختم کر کے عوام کی بجائے نئی مقتدرہ کے نام کر دی۔ چنانچہ جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے ہمیشہ ”خوش آمدید“ کہا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے نظریۂ ضرورت وضع کیا، غاصبوں سے حلف لیے اور قانون شکنی کو قانون کا لبادا اوڑھایا۔ عدلیہ کے اندر موجود اس نوآبادیاتی ذہنیت نے اس ملک کو کسی بھی آمر سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ (ایسے موقعوں پر ) عدلیہ نے آئین کی حفاظت کی بجائے آئین کی پامالی پر مہر تصدیق ثبت کی۔
ان کے اس ہتھیار ڈالنے کے پیچھے تین ایسی انسانی کمزوریاں تھیں جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلا سبب خوف ہے :خود مختاری کی قیمت ججوں کو اپنے کیریئر، اپنی آزادی اور بعض اوقات اپنی جانوں سے ہاتھ دھو کر بھی چکانی پڑی ہے۔ دوسرا سبب جس کا اعتراف سب سے کم کیا جاتا ہے، وہ ہے آسائش :منصب، عہدہ، سرکاری گھر اور گاڑی۔ تیسرا سبب تنہائی ہے :اس وقت تنہا کھڑے رہنے کا بوجھ جب باقی ساتھی پہلے ہی منہ موڑنے کے جواز تلاش کر چکے ہوں۔ ان چیزوں سے مقابلہ صرف ایک ہی چیز سے ممکن ہے جو قانون کی ڈگری سے حاصل نہیں ہوتی اور وہ ہے کردار۔ چنانچہ ہماری دوسری آزادی کے لیے سوال بالکل سادہ ہے کہ ہم ایسے شہری اور جج کیسے پیدا کریں جن میں اتنی ہمت ہو کہ وہ اس وقت بھی ”نہ“ کہہ سکیں جب صاحب اختیار سامنے بیٹھا نرمی سے بات کر رہا ہو اور ہر آسائش کی پیشکش کر رہا ہو؟
یہاں میں ایک ایسے نتیجے پر پہنچا ہوں جو شاید سننے میں عجیب لگے کہ یہ ہمت قانون سے پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ بشریاتی علوم جیسے ادب، فلسفہ اور فنون وغیرہ کے علم سے پروان چڑھتی ہے۔ تاریخ، شکست خوردگی کے اس سب سے بوسیدہ عذر کو ختم کر دیتی ہے کہ ”یہ حالات غیر معمولی ہیں“ اس لیے اصولوں سے انحراف جائز ہے۔ تاریخ پر نگاہ رکھنے والا یہ جھوٹ پہلے بھی سن چکا ہوتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ ایسے کذب کا انجام کیا ہوتا ہے۔ فلسفہ ہمیں صرف ذرائع کے بارے میں نہیں، بلکہ مقاصد پر غور کرنا سکھاتا ہے۔ ادب ہی ہماری وہ واحد مسلسل مشق ہے جو ہمیں کسی دوسرے انسان کے جذبات کو محسوس کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے بغیر انصاف محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے دوسری آزادی کا آغاز کسی عدالت یا پارلیمنٹ سے نہیں بلکہ ایک کلاس روم سے ہو گا۔ اگر ہم ایسے جج چاہتے ہیں جو غیر منصفانہ حکم پر دستخط نہ کریں تو ہمیں انہیں مسندِ انصاف تک پہنچنے سے بہت پہلے تیار کرنا ہو گا۔ ایسے طلبہ جنہیں صرف قانون کا طریقہ کار ہی نہ سکھایا گیا ہو بلکہ ان کے اندر یہ پختہ نظریاتی یقین موجود ہو کہ آئین کا حقیقی مقصد کیا ہے۔
یہی نظریاتی یقین رکھنے والا طالب علم ہی آگے چل کر دیانت دار وکیل بنے گا، دیانت دار وکیل ایک بے باک بار لیڈر بنے گا اور ایک بے باک بار لیڈر وہ جج بنے گا جو ”نہ“ کہنے کی جرات رکھتا ہو۔ ایک پوری نسل کو یہ پختہ سوچ اور نظریاتی یقین دے دیں، پھر کوئی ترمیم اسے ان سے چھین نہیں سکے گی۔ کیونکہ نظریاتی یقین میں کوئی ترمیم ممکن نہیں۔ پاکستان کا خواب ایک شاعر نے دیکھا تھا اور اسے ایک وکیل کے دلائل نے حقیقت کا روپ دیا۔ اقبال کا نظریاتی یقین، جناح کا مقدمہ۔ راستے میں ہم نے وکیل کو تو سنبھال کر رکھا مگر شاعر کو بھول گئے، ہمارے پاس دلائل تو رہ گئے لیکن وہ نظریاتی یقین ختم ہو گیا۔ آئیے اس یومِ آزادی پر شاعر کو واپس بلائیں۔ اپنے سکولوں میں، اپنی عدالتوں میں اور اس تصور میں کہ ایک پڑھا لکھا شہری اپنے وطن کا کیسے مقروض ہے۔ فیض نے جس سحر کا ذکر کیا تھا وہ اب بھی داغ داغ ہے۔ اس نے ہمیں چلتے رہنے کا کہا تھا کہ ”چلے چلو“ کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔
(اصل مضمون انگریزی زبان میں روزنامہ ڈان 14 اگست 2026 کے شمارے میں شائع ہوا)
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

