ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کا انتقال
مبارک شاہ: بیورو چیف ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل۔ ناروے

بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی رحلت نے ناروے کو ایک ایسے قومی رہنما سے محروم کردیا ہے جس کے پاس عملی حکمرانی کا اختیار بہت محدود تھا، لیکن جس کی اخلاقی آواز پورے معاشرے میں سنی جاتی تھی۔ وہ اس حقیقت سے پوری طرح واقف تھے کہ ایک آئینی بادشاہ کی حیثیت سے وہ نہ سرکاری پالیسیاں اپنی مرضی سے تبدیل کرسکتے ہیں، نہ قانون سازی ان کے اختیار میں ہے اور نہ ہی وہ اپنے کسی حکم سے معاشرے میں موجود تعصبات، امتیازات اور تفریق کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے منصب کو محض رسمی تقریبات، سرکاری ملاقاتوں اور شاہی روایات تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اسے ناروے کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انہیں ایک مشترکہ قومی شناخت کا احساس دلانے کا ذریعہ بنایا۔
شاہ ہیرالڈ کا بنیادی پیغام نہایت سادہ مگر گہرا تھا: ناروے صرف پہاڑوں، برف پوش وادیوں، دریاؤں، سمندروں اور شمالی روشنیوں کا نام نہیں۔ کسی ملک کی حقیقی پہچان اس کا جغرافیہ نہیں بلکہ وہاں رہنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ خواہ مختلف علاقوں سے آئے ہوں، الگ زبانیں بولتے ہوں، مختلف عقائد رکھتے ہوں یا ان کے رہن سہن اور طرزِ زندگی میں نمایاں فرق ہو، سب مل کر ہی ایک قوم اور ایک ملک
اختیار کے بغیر قیادت: شاہ ہیرالڈ کا ناروے
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال سے ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے جس میں بادشاہت کی اہمیت سیاسی اختیار سے زیادہ اخلاقی قیادت، قومی یکجہتی اور عوام کے ساتھ تعلق میں دکھائی دیتی تھی۔ وہ 1991 سے ناروے کے آئینی سربراہ تھے اور 28 اگست 2026 کو 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ناروے کے شاہی دربار کے مطابق انہوں نے اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں آخری سانس لی۔
شاہ ہیرالڈ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ ایک آئینی بادشاہ کی حیثیت سے ان کا کردار محدود ہے۔ وہ اپنی مرضی سے حکومتی پالیسیاں تبدیل نہیں کرسکتے تھے، پارلیمان کے فیصلوں کو بدل نہیں سکتے تھے اور نہ ہی کسی حکم کے ذریعے معاشرے میں موجود تعصبات، امتیازات اور تفریق کا خاتمہ کرسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہ ثابت کیا کہ قومی قیادت صرف قانونی اور انتظامی اختیارات کا نام نہیں۔ کبھی کبھی ایک شخصیت اپنے الفاظ، رویے اور اخلاقی مؤقف کے ذریعے وہ اثر پیدا کرسکتی ہے جو بڑے سے بڑا سیاسی اختیار بھی پیدا نہیں کرپاتا۔
یہی شاہ ہیرالڈ کی شخصیت اور طویل عہد کی سب سے نمایاں خوبی تھی۔ انہوں نے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ناروے کے لوگوں کو بار بار یہ احساس دلایا کہ وہ سب ایک مشترکہ قوم کا حصہ ہیں۔ ان کے نزدیک ناروے کسی ایک رنگ، نسل، مذہب، ثقافت یا طرزِ زندگی کا نام نہیں تھا۔ ناروے ان تمام لوگوں سے مل کر بنتا تھا جو اس سرزمین پر آباد ہیں، اسے اپنا گھر سمجھتے ہیں اور اپنی محنت، صلاحیت اور محبت سے اس کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔
اس تصور کا سب سے مؤثر اظہار 2016 میں شاہی محل کی ایک گارڈن پارٹی کے موقع پر ان کی یادگار تقریر میں ہوا۔ تقریر کے آغاز میں انہوں نے ناروے کے پہاڑوں، سمندر، موسم، آبادیوں اور جغرافیائی وسعت کا ذکر کیا، لیکن فوراً یہ واضح کردیا کہ کوئی ملک صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور سرحدوں سے نہیں بنتا۔ ملک کی اصل پہچان وہاں رہنے والے انسان ہوتے ہیں۔ ان کے خواب، عقیدے، زبانیں، روایات، اختلافات اور مشترکہ امیدیں ہی کسی جغرافیائی خطے کو ایک زندہ قوم میں تبدیل کرتی ہیں۔
شاہ ہیرالڈ نے کہا تھا کہ ناروے کے باشندے صرف وہ لوگ نہیں جو کئی نسلوں سے یہاں رہتے آئے ہیں۔ ناروے ان لوگوں کا بھی وطن ہے جن کے آباؤ اجداد افغانستان، پاکستان، شام، صومالیہ، برازیل، سویڈن یا دنیا کے دوسرے علاقوں سے یہاں پہنچے۔ انہوں نے مذہبی اور سماجی تنوع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ناروے خدا پر ایمان رکھنے والوں، اللہ کو ماننے والوں، مختلف مذاہب کے پیروکاروں اور کسی مذہب پر یقین نہ رکھنے والوں، سب کا ملک ہے۔ اسی طرح انہوں نے مختلف جنسی رجحانات رکھنے والے لوگوں کو بھی ناروے کے قومی وجود کا مساوی حصہ قرار دیا۔
اس تقریر کا بنیادی پیغام نہایت سادہ لیکن بہت گہرا تھا: ’’ناروے تم ہو، ناروے ہم ہیں۔‘‘ ان چند الفاظ میں انہوں نے ایک ایسے قومی تصور کو سمیٹ دیا جس میں کسی انسان کو اس کے نام، نسل، مذہب، رنگ یا طرزِ زندگی کی بنیاد پر باہر نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کے نزدیک تنوع ناروے کی کمزوری یا تقسیم کا سبب نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت اور خوب صورتی تھا۔
یہ خیالات محض ایک رسمی تقریر کا حصہ نہیں تھے۔ شاہ ہیرالڈ نے اپنے طرزِ عمل سے بھی اس سوچ کو مضبوط کیا۔ وہ چھوٹی بڑی تقریبات میں عام لوگوں سے ملتے، ملک کے دور دراز علاقوں کا سفر کرتے اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بات سنتے تھے۔ ان کا انداز شاہانہ فاصلے کے بجائے انسانی قربت کا تھا۔ اسی وجہ سے بہت سے نارویجین شہری انہیں صرف تخت پر بیٹھے بادشاہ کے طور پر نہیں بلکہ دکھ سکھ میں شریک ایک قومی رفیق کے طور پر دیکھتے تھے۔
جولائی 2011 کے دہشت گرد حملوں کے بعد ان کا کردار اس اخلاقی قیادت کی ایک اور بڑی مثال بن کر سامنے آیا۔ ان حملوں نے ناروے کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا تھا۔ ایسے وقت میں شاہ ہیرالڈ نے خوف اور نفرت کے مقابلے میں آزادی، جمہوریت اور انسانی یکجہتی کی بات کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے غم میں شرکت کی اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ کسی اختلاف یا امتیاز کی بنیاد پر ایک انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔
اس مشکل گھڑی میں ان کے پاس دہشت گردی کے خلاف قانون بنانے یا حفاظتی پالیسی تبدیل کرنے کا اختیار نہیں تھا، لیکن ان کے الفاظ نے سوگوار قوم کو جذباتی سہارا دیا۔ انہوں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کا اصل جواب معاشرے کو مزید تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان جمہوری اور انسانی اقدار کا پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ دفاع کرنا ہے جنہیں تشدد نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
شاہ ہیرالڈ کی مقبولیت اسی لیے محض بادشاہت کی مقبولیت نہیں تھی۔ ناروے میں ایسے لوگ بھی ان کا احترام کرتے تھے جو اصولی یا سیاسی طور پر بادشاہت کے بجائے جمہوریہ کے حامی ہیں۔ وہ شاہی نظام سے اختلاف کے باوجود شاہ ہیرالڈ کو ایک مخلص، بردبار اور انسان دوست قومی شخصیت سمجھتے تھے۔ یہ distinction اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے احترام اپنا منصب استعمال کرکے نہیں بلکہ اپنے کردار سے حاصل کیا تھا۔
ان کے انتقال کے بعد اوسلو کے شاہی محل کے باہر جمع ہونے والے لوگ اور پھول اسی تعلق کی علامت ہیں۔ مختلف نسلوں، مذاہب، عمروں اور سیاسی نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد کا سوگ میں شریک ہونا بتاتا ہے کہ شاہ ہیرالڈ نے ناروے کے متنوع معاشرے کو ایک مشترکہ انسانی رشتے میں جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ عوام کا یہ ردعمل ایک ایسے بادشاہ کے لیے عقیدت کا اظہار ہے جو اختیار کے اعتبار سے محدود، لیکن اخلاقی اثر کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر طاقت ور تھا۔
شاہ ہیرالڈ کی زندگی دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ اقتدار خوف پیدا کرسکتا ہے، قانون اطاعت حاصل کرسکتا ہے اور طاقت وقتی خاموشی مسلط کرسکتی ہے، لیکن محبت اور احترام صرف منصفانہ رویے، وسیع النظری اور انسانوں کے ساتھ اخلاص سے حاصل ہوتے ہیں۔ جو رہنما معاشرے کے کمزور، مختلف یا نظرانداز کیے گئے لوگوں کو بھی برابر کا انسان اور قوم کا مکمل حصہ سمجھتا ہے، وہ لوگوں کے دلوں میں ایسا مقام حاصل کرسکتا ہے جو کسی سرکاری عہدے یا اختیار سے نہیں ملتا۔
شاہ ہیرالڈ کا اصل ورثہ شاید یہی تصور ہے کہ قومی وحدت کا مطلب سب لوگوں کو ایک جیسا بنانا نہیں بلکہ ان کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مساوی احترام دینا ہے۔ ایک مضبوط قوم وہ نہیں جس میں صرف ایک رنگ اور ایک آواز ہو؛ مضبوط قوم وہ ہے جس میں مختلف آوازیں ایک دوسرے کو سنیں، مختلف شناختیں ایک دوسرے کا احترام کریں اور تمام شہری مشترکہ مستقبل کی تعمیر میں خود کو برابر کا شریک سمجھیں۔
بادشاہ ہیرالڈ دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا پیغام ناروے کی قومی یادداشت میں زندہ رہے گا: ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ اسے وہاں رہنے والے انسان بناتے ہیں۔ ان انسانوں کے درمیان رواداری، برابری، سخاوت اور باہمی احترام قائم رہے تو قوم مضبوط رہتی ہے۔ اسی لیے ان کے یادگار الفاظ آج بھی ناروے کی اجتماعی شناخت کا نچوڑ محسوس ہوتے ہیں—’’ناروے تم ہو، ناروے ہم ہیں۔

