تاریخقومی

اناسی (79) برس کا سود و زیاں

Share your Love

تحریر: راشد محمود لنگڑیال

ہمارے یہاں رِیت سی چل نکلی ہے کہ وطن کا ذکر چھڑے تو لہجہ ماتمی ہو جائے — گویا نوحہ گری ہی نصابِ دانش ٹھہری، اور اشک باری سندِ بصیرت۔ خرابیاں کم نہیں؛ مگر فیصلہ سنانے سے پہلے انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمے کی اصل فردِ جرم پڑھی جائے: یہ ملک بنایا ہی کس دلیل پر گیا تھا؟ سو آئیے، اُس بزمِ فکر میں لوٹ چلیں جو 1940 اور 1947 کے درمیان برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں برپا تھی — جہاں تین دلیلیں آمنے سامنے تھیں، اور تینوں کے وکیل اپنے اپنے یقین میں سچے۔

پہلی دلیل مسلم لیگ کی تھی، اور اُس کا جوہر مذہبی نہیں، خالص دنیاوی تھا۔ قائدِاعظم اور اُن کے رفقا کوئی مذہبی ریاست نہیں مانگ رہے تھے — 11 اگست کی تقریر اِس پر گواہ ہے — اُن کا استدلال سیکولر تھا: جس نظام میں اکثریت مستقل ہو اور اقلیت مستقل، وہاں ووٹ کی مساوات ایک فریب ہے؛ ہندو اکثریت کے دائمی راج میں مسلمانوں کو ہر دنیاوی پیمانے پر — نوکری، تجارت، نمائندگی اور عزت — دیوار سے لگا دیا جائے گا۔ بس ایک الگ مسلم وطن، تاکہ اقلیت ہونے کی سزا نسل در نسل نہ بھگتنی پڑے۔ اور تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اِس مطالبے کی سب سے پرجوش حمایت اُنہی صوبوں کے مسلمانوں سے اٹھی — اتر پردیش، بہار — جو جانتے تھے کہ مجوزہ پاکستان میں اُن کا اپنا گھر شامل نہ ہوگا؛ گویا وہ اپنے لیے نہیں، ایک اصول کے لیے لڑ رہے تھے، اور کچھ اِس امید پر کہ ایک مضبوط مسلم ریاست کا وجود ہی پیچھے رہ جانے والوں کی ڈھال بنے گا۔

دوسری دلیل کانگریسی مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کی تھی — مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی اس دلیل کے سرخیل تھے ۔ مدنی صاحب نے اپنے رسالے “متحدہ قومیت اور اسلام” (1938) میں مقدمہ باندھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں، عقیدے سے نہیں؛ ہندو اور مسلمان ایک ہی ہندوستانی قوم کے دو دھارے ہیں، اور شریعت کو ایسے وطن میں رہنے سے انکار نہیں جہاں دین کی آزادی میسر ہو۔ 

مولانا آزاد کی دلیل انتخابی حساب کتاب پر مبنی تھی : متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت ایک ٹھوس انتخابی دھڑا ہو گا ؛ تقسیم مسلمانوں کو کمزور ٹکڑوں میں بانٹ دے گی؛ جو کروڑوں پیچھے رہ جائیں گے وہ ہمیشہ کے لیے یرغمال ٹھہریں گے — نہ تعداد میں وہ وزن رہے گا، نہ آواز میں وہ زور۔ اور اگر متحدہ ہندوستان میں اکٹھے رہے تو انتخابی ترازو کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو گا۔

اور تیسری دلیل مولانا مودودی کی تھی، جو دونوں سے الگ کھڑے تھے: قومیت — متحدہ ہو یا جدا — سرے سے غیر اسلامی ہے؛ لیگ کی قیادت مغرب زدہ ہے اور اُس کا پاکستان مسلمانوں کی ایک قومی ریاست ہوگی، حکومتِ الٰہیہ نہیں؛ سو یہ سودا انہیں بھی منظور نہ تھا۔ پنجاب کے یونینسٹ الگ اپنا راگ الاپتے تھے — صوبائی خودمختاری کی مخلوط سیاست، جسے تقسیم کی آندھی نے اڑا دیا۔ بالآخر تاریخ نے فیصلہ لیگ کے حق میں دیا — مگر 1947 میں مقدمہ جیتنا ایک بات ہے، اور 79 برس بعد اُس فیصلے کا درست ثابت ہونا بالکل دوسری بات۔

اور یہی اِس تحریر کا اصل سوال ہے۔ لیگ کی دلیل چونکہ دنیاوی تھی — نوکری، نمائندگی، روٹی، عزت — اِس لیے وہ پرکھی جا سکتی ہے؛ عقیدے کے دعوے ترازو کرنا مشکل ہوتا ہے۔ 79 برس گزر چکے، شواہد جمع ہو چکے، مقدمہ دوبارہ کھولا جا سکتا ہے — اور انصاف یہ ہے کہ پرکھ اُنہی پیمانوں پر ہو جو لیگ نے خود چنے تھے: نوکری، نمائندگی، روٹی، عزت۔ 

سو کیا قائد کے خدشات درست تھے؟ اہلِ فکر اِس طرزِ استدلال کو counterfactual کہتے ہیں — تاریخ سے یہ پوچھنا کہ اگر فلاں موڑ نہ مڑا ہوتا تو قافلہ آج کہاں ہوتا۔ اور قدرت نے جواب محفوظ رکھا ہے، کیونکہ اُس قافلے کی جیتی جاگتی تصویر آج بھی موجود ہے: مغربی اتر پردیش کا مسلمان — وہی عقیدہ، وہی تہذیب — جو 1947 سے پہلے ہم سے سیاسی طور پر الگ نہ تھا؛ بس قسمت کا بٹوارہ الگ ہوا۔ وہ ہمارا آئینہ ہے: اُس کے آج میں ہم اپنا وہ کل پڑھ سکتے ہیں جو تقسیم نہ ہوتی تو ہمارا مقدر ہوتا۔ گویا قائد کی دلیل کی پرکھ اُسی سرزمین پر ہو رہی ہے جس کے جلسوں میں وہ دلیل پہلی بار گونجی تھی۔ مگر آئینہ اٹھانے کی ایک شرط ہے، اور وہ مولانا روم نے مثنوی کے پہلے ہی دفتر میں بتا دی تھی:

آینہ ات دانی چرا غماز نیست؟
زانکہ زنگار از رخش ممتاز نیست

جانتے ہو تمہارا آئینہ سچ کیوں نہیں بولتا؟ کہ اُس کے چہرے سے زنگ نہیں اترا۔ سو پہلا فرض آئینے سے زنگ اتارنا ہے؛ اور زنگ اتارنے کا دوسرا نام دیانت ہے۔

مگر آئینہ اٹھانے سے پہلے ایک لمحہ اُس کامیابی کا ذکر جو سب سے کم قابلِ تردید ہے: خود پاکستان کا وجود۔ جو قوم تقسیم سے پہلے برصغیر کی ایک چوتھائی آبادی تھی، اُس نے الگ مملکت تراش لی اور اُنّاسی برس اُس ہمسائے کے مقابل قائم رکھی جو آج حجم میں سات گنا بڑا ہے — ایک ایسا ہمسایہ جس کی بنیادی فکری تحریکوں نے نئی مملکت کے حقِ وجود ہی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ 

ساورکر سے گولوالکر تک، اور “اکھنڈ بھارت” کے اُس نقشے تک جو دریائے آمو سے دریائے سالوین تک پھیلا ہوا تھا — یہ کسی متروک کاغذ کا ذکر نہیں، اُس جماعت کا اعلانیہ ورثہ ہے جو 2014 سے دلّی پر حکمران ہے۔ ریاست نہ ملے تو کیا ہوتا ہے، اٍس کی گواہی اندلس کی سرزمین ہے — قرطبہ و غرناطہ کے وارث بحیثیتِ قوم صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے؛ اُن کی یادگار الحمرا کی دیواروں پر کندہ “و لا غالب الا اللہ” ہے، جسے سیاح تصویروں میں قید کرتے ہیں۔ اور ہاں برما کے صوبے اراکان کے روہنگیا، جو شہریت سے محروم کر کے دھکیل دیے گئے۔ اِس ترازو پر پاکستان نوحہ نہیں، سیاسی بقا کی نادر مثال ہے۔

ابنِ خلدون نے “مقدمہ” میں لکھا تھا کہ ریاستیں عصبیت سے قائم ہوتی ہیں — اُس اجتماعی ولولے سے جو بکھرے افراد کو ایک قالب میں ڈھال دے۔ 1947 میں برصغیر کے مسلمانوں کی عصبیت نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا، اور 79 برس اُسی عصبیت نے سرحدیں سنبھالے رکھیں۔ مگر ابن خلدون کی دوسری تنبیہ بھی پلے باندھیے: عصبیت فتح دلاتی ہے اور تعیش اُسے گھن کی طرح کھا جاتا ہے — سو بقا کے بعد اصل امتحان یہ ہے کہ اِس عصبیت کو تلوار سے اینٹ گارے کی طرف کیسے موڑا جائے۔

اب وہ آئینہ کھلتا ہے۔ سرحد کے اُس پار کے حال کی امّ الکتاب وہ دستاویز ہے جو کسی مخالف نے نہیں، خود بھارتی ریاست نے اپنے ہاتھوں مرتب کی۔ 2005 میں وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بٹھائی کہ آزادی کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر پوچھا جائے: بھارت کے مسلمان کس حال میں ہیں؟ 2006 میں چار سو صفحوں کا جواب آیا، اور پڑھنے والوں کے ہاتھ کانپ گئے: سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ محض 6.4 فیصد؛ باقاعدہ ملازمت میں 8 فیصد سے کم، جبکہ قومی اوسط 21 فیصد؛ اور کئی پیمانوں پر مسلمان دلتوں سے بھی نیچے۔ یہ کسی دشمن کا الزام نہ تھا — یہ ریاست کا اپنا اقبالِ جرم تھا، مہر بند، دستخط شدہ۔

سچر رپورٹ کے بعد جو رپورٹیں آئیں، اُنہوں نے سچر کی کھینچی لکیر کو مٹایا نہیں، گہرا کیا۔ سرکاری سطح پر کنڈو کمیٹی (2014) نے آٹھ برس بعد جائزہ لیا تو لکھا کہ کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئی۔ علمی سطح پر امریکن اکنامک جرنل (2024) میں ایشر، نووساد اور رفکن (Asher, Novosad and Rafkin) کی تحقیق نے چونکا دینے والا نتیجہ نکالا: بھارت میں دلتوں کی نسل در نسل ترقی بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی گھٹ رہی ہے — مسلمان اب وہ واحد بڑا طبقہ ہے جس کے بیٹے اپنے باپ سے آگے نکلنے کی امید کھوتے جا رہے ہیں۔

نمائندگی کا مجموعی نقشہ بھی ایسا ہی ہے۔ 2024 کے انتخابات میں 543 کے ایوان میں صرف 24 مسلمان — تقریباً 14 فیصد آبادی کے لیے 4.4 فیصد نمائندگی، اِس کے برعکس پاکستان کا مسلمان — خواہ اُسے ریاست سے کتنے ہی گلے کیوں نہ ہوں — اپنی مملکت کے ہر منصب کا حق دار ہے: وزیرِاعظم، سپہ سالار، منصفِ اعلیٰ، گورنرِ سٹیٹ بینک۔ بھارت کے مسلمان کے لیے موجودہ بندوبست میں وہ راستہ بند ہے۔ یہی 1947 کا اصل منافع ہے، اور یہ متاع حقیر مت جانیو۔

اب نمائندگی کے مسئلے کو ایک جغرافیے میں سمیٹ کر دیکھیے — عین اُس خطے میں جہاں قائد کی دلیل پہلی بار گونجی تھی۔ مغربی اتر پردیش اور روہیل کھنڈ کے پندرہ اضلاع — رام پور، مراد آباد، سنبھل، بجنور ، سہارن پور، شاملی، مظفر نگر اور امروہہ، جہاں مسلم آبادی چالیس فیصد سے اوپر ہے؛ اور بریلی، میرٹھ، ہاپوڑ، باغپت، غازی آباد، پیلی بھیت اور بدایوں ، جہاں یہ تناسب پانچویں حصے سے زائد ہے — میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 2 کروڑ مسلمان اور کوئی 3 کروڑ ہندو بستے ہیں ؛ یعنی آبادی کا 40 فیصد، اور اگر الگ ملک بنا لیتے تو سری لنکا جتنا بڑا ملک ہوتا۔

اب نمائندگی دیکھیے۔ 2024 میں اِس پٹی کی تقریباً 15 لوک سبھا نشستوں میں سے مسلمانوں کے حصے میں 4 آئیں — سہارن پور، کیرانہ، رام پور، سنبھل — باقی گیارہ ہندو ارکان کے پاس: 40 فیصد آبادی کو چوتھائی سے کم، 60 فیصد کو تین چوتھائی سے زائد۔ اور صوبائی اسمبلی کا عالم یہ کہ پورے اتر پردیش کے 403 کے ایوان میں 34 مسلمان اور 369 غیر مسلم بیٹھے ہیں — 19 فیصد آبادی کو 8 فیصد نشستیں — حکمران جماعت سے ایک مسلمان بھی نہیں، کیونکہ اُس نے 2017 اور 2022 میں ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا تک نہیں کیا۔

سیاسیات کے اہلِ نظر نے اِس گتھی کو بہت پہلے سلجھا دیا تھا — ٹاک وِل (Tocqueville) اور جان اسٹورٹ مِل (John Stuart Mill) نے اِسے “اکثریت کا استبداد” کہا تھا ، اور بعد کے صاحبانِ بصیرت نے اس کا میکانزم بھی بیان کر دیا: انتخابی سیاست میں جماعتیں اُس ووٹر کے تعاقب میں رہتی ہیں جو عین درمیان میں کھڑا (Median Voter) ہو ، کہ فتح کا راستہ اُسی کے دروازے سے گزرتا ہے۔ 

جہاں رائے دہندگان رائے کی لکیر پر بٹے ہوں، یہ دوڑ اعتدال کی طرف لے جاتی ہے؛ مگر جہاں بٹوارہ ایسی شناخت پر ہو جو بدلی نہیں جا سکتی، وہاں درمیانی ووٹر اعتدال کا سرچشمہ نہیں بن پاتا — وہ ہمیشہ اکثریت کا فرد ہوتا ہے، اور کوئی منشور اُسے بدل نہیں سکتا۔ سو جب انتخاب گنتی بن جائے تو مقابلہ الٹا چلتا ہے: اقلیت کے ووٹ بازار میں ہیں ہی نہیں، سو جماعتیں اُسے رِجھانے کے بجائے اُس سے دُوری میں بازی لے جاتی ہیں — ہر جماعت کی وفاداری کا پیمانہ یہ کہ مسجد سے کتنے فاصلے پر کھڑی ہے۔ ہوروِٹز (Donald Horowitz) نے اس عمل کا سری لنکا سے نائجیریا تک مشاہدہ کیا؛ اتر پردیش اِس عمل کا ایک جیتا جاگتا تھیٹر ہے — ہر “سیکولر” جماعت چپکے سے مسلم امیدوار سے پرے بھاگتی ہے اور ہر انتخاب کے موقع پر مندروں سے پرانی محبت از سر نو دریافت کرتی ہے۔

گویا آزاد کا سارا حساب جس مفروضے پر تھا کہ اکثریت کو سودے بازی کی حاجت رہے گی — وہ مفروضہ ہی درست نہ تھا۔ مراد آباد کا چالیس فیصدی مسلمان درمیانی ووٹر (Median Voter) نہیں، انتخابی مہم کا خام مال ہے۔ آزاد کی ریاضی امان کیا خریدتی؛ فریقِ مخالف کی صف بندی کا ذریعہ بنتی رہی۔

سیاسی حیثیت کے بعد روٹی کا حساب — اور یہاں پہلا کام اُس پردے کو سرکانا ہے جس کے پیچھے “اوسط” کا بت کھڑا کیا جاتا ہے۔ قوتِ خرید کے پیمانے پر بھارت کی فی کس قومی آمدنی تقریباً 900 ڈالر ماہانہ بنتی ہے — مگر بھارت میں کوئی “اوسط انسان” بستا ہی نہیں؛ وہاں طبقے بستے ہیں، اور طبقوں کے بیچ کھائیاں۔

2021-22 کے سرکاری جائزوں کا تناسب بتاتا ہے: اونچی ذات کا ہندو — آبادی کا بمشکل 12 فیصد — خرچ میں سب سے اوپر؛ دلت — آبادی کا کوئی 20 فیصد — سب سے نیچے؛ اور مسلمان؟ اجلاف کا تو ذکر ہی کیا؛ اشراف مسلمان کا خرچ بھی دلت کے برابر ہے، اور ہندو اشرافیہ اُس سے 52 فیصد اوپر — خالص مذہبی تاوان کا صاف ترین پیمانہ، کہ ذات کا درجہ دونوں پلڑوں میں برابر دھرا ہے۔ پورا طبقہ نیچے کی پٹی میں سمٹا، سہما اور سکڑا ہوا۔ اہرام کی چوٹی پتلی اور تابندہ، دامن وسیع اور تاریک — اور مسلمان سارے کے سارے تاریک دامن میں کہیں گم ہیں۔

اور جیسے طبقے، ویسے خطے — بھارت میں کوئی “اوسط ریاست” بھی نہیں بستی۔ کرناٹک اور تلنگانہ جیسی بڑی ریاستوں کی فی کس آمدنی 3600 ڈالر سے اوپر ہے، جبکہ بہار کی صرف 650 ڈالر — صومالیہ سے بھی کم؛ اور یہ فاصلہ 30 برس میں سکڑنے کے بجائے اور بڑھا ہے۔ اِس کے مقابل پاکستان کے صوبے: سندھ 1748 ڈالر، پنجاب 1714، خیبر پختونخوا 1388، بلوچستان 1106 — کُل تفاوت ڈیڑھ گنا کے اندر۔ ہمارا غریب ترین صوبہ امیر ترین کے 63 فیصد پر کھڑا ہے؛ بھارت کا بہار کرناٹک کے 18 فیصد پر۔ بلوچستان کی محرومی حقیقی ہے اور اُس کا مداوا فرض؛ مگر جس وفاق میں معاشی فاصلے اِس قدر کم ہوں، وہ کم از کم ایک ملک تو ہے۔

ہر پیمانے پر وہی فیصلہ جس کی خبر 1940 میں دی گئی تھی۔ اور تقسیم اُن کے لیے نجات ثابت ہوئی جو ادھر آ گئے، اور اُن کے لیے آزمائش جو نہ آ سکے۔ اور تیسرے وکیل کا انجام تاریخ کا تلخ لطیفہ ہے: مولانا مودودی، جو اِس مطالبے کے ناقد تھے، خود ہجرت کر کے اُسی پاکستان آ بسے — گویا دلیل جو بھی جیتی، پناہ سب نے اُسی چھت تلے ڈھونڈی۔ ہم جو اِس پار ہیں، ہمارے ذمے دونوں قرض ہیں — اپنی نجات کا شکر، اور اُن کی آزمائش کا درد۔

مگر ایک تیکھا سوال باقی ہے، اور کوئی دیانت دار قلم اُس سے آنکھ نہیں چرا سکتا: محبوس پر سبقت کوئی کمال نہیں؛ اصل مقابلہ آزاد مسلم قوموں کے درمیان ہے۔ سو دوسری کسوٹی — جو پہلی سے کہیں کڑی ہے۔ خلیج کی بادشاہتیں موازنے سے باہر — اُن کی آمدنی تیل کا کرشمہ ہے؛ درست موازنہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، مصر، نائجیریا سے ہے۔

بڑے مسلم ممالک میں کتنے ہیں جہاں اقتدار بار بار انتخاب سے حریف جماعتوں میں منتقل ہوا؟ انڈونیشیا 1998 سے اِس راہ پر ہے، بنگلہ دیش وقفوں اور دھچکوں سے، نائجیریا 1999 سے؛ مصر کی واحد جمہوری منتقلی سال بھر میں بغاوت نے اُلٹ دی۔ پاکستان کا ریکارڈ مثالی نہ سہی — چار مداخلتیں — مگر بنیادی آئینی ڈھانچہ ضدی حد تک پایدار ہے: 2008 سے 2024 تک چار بار اقتدار واقعتاً متحارب جماعتوں کے بیچ ہاتھ بدلتا رہا۔

صرف انتخاب ہی نہیں — تکثیریت کا پورا مزاج دیکھیے۔ بادشاہتوں میں سیاسی جماعت بنانا جرم ہے؛ ایک ہمسائے میں امیدوار کو مذہبی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے؛ ایک اور ہمسائے میں بچیوں پر مدرسے کا دروازہ بند ہے — اُن کے مقابل یہ ملک کھڑا ہے: درجن بھر لڑتی جھگڑتی جماعتیں، ایک منہ زور بار، ایک آزاد عدلیہ، اور ایک بے باک میڈیا۔ 

ہم اپنی تکثیریت کی قدر اِس لیے نہیں کرتے کہ ہم نے کبھی اُس کے بغیر جی کر نہیں دیکھا۔ اور اِس تکثیریت کی چھت 1973 کا آئین ہے — ہماری تاریخ کی واحد دستاویز جس پر ہر جماعت نے، مذہبی ہو یا سیکولر، قوم پرست ہو یا وفاق پسند، متفقہ مہر لگائی۔ اسے معطل کیا گیا، ادھیڑا گیا، مسخ کیا گیا — مگر ختم کوئی نہ کر سکا؛ قوم ہر بار اُسی کی طرف لوٹ آئی۔ جو آئین تین آمریتیں جھیل کر زندہ رہے، وہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا، ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے۔

فوجی لحاظ سے ہم وہ واحد مسلمان ریاست ہیں کہ جس نے عالمی پابندیوں کے عالم میں ایٹمی صلاحیت بنائی اور محفوظ رکھی۔ اسی فوجی صلاحیت کا ایک تازہ امتحان مئی 2025 کی چار روزہ جنگ تھی۔ پہلی ہی رات وہ فضائی معرکہ ہوا جسے مبصرین نے کئی دہائیوں کا سب سے بڑا ہوائی تصادم کہا — خبروں کے مطابق دونوں طرف سے سو سے زائد طیارے فضا میں — اور اُس رات ایک نسبتاً چھوٹی فضائیہ نے کہیں بڑی فضائیہ کے مقابل وہ کر دکھایا جو اب جنگی درسگاہوں میں پڑھایا جائے گا: الیکٹرانک جنگ، زمینی ریڈار، فضائی پلیٹ فارم اور میزائل — سب ایک مربوط زنجیر میں پروئے ہوئے — ایک کثیر جہتی (ملٹی ڈومین) کارروائی جس نے دنیا بھر کے دفاعی حلقوں کو چونکا دیا۔ 

بھارت کے اپنے سپہ سالار نے طیاروں کے نقصان اور حکمتِ عملی کی اصلاح کا اعتراف کیا؛ کم از کم ایک رافیل — یورپ کا فخر — گرا دیا گیا: ہم تین کہتے ہیں، دلی خاموش ہے۔ اور اُس رات کے بعد تقریباً ایک دن کے لیے بھارتی فضائیہ کی پروازیں تھم سی گئیں۔ مگر جو بات دعوے سے ماورا ہے وہ یہ کہ ایٹمی سایے میں لڑی جانے والی اِس محدود لڑائی میں ریاست سیسہ پلائی دیوار بن گئی؛ اور جنگ بندی کے بعد کا سفارتی میدان پاکستان کے لیے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ جو قوم اتنے بڑے حریف کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے، اُس کے اندر کوئی چنگاری تو ہے جسے ماتم کی راکھ میں دبا دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔

ڈٹ کر کھڑا ہونا صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ یہی ریاست حریفوں کے بیچ پُل بھی بنی رہی: 1971 میں واشنگٹن اور بیجنگ کے بیچ پہلا خفیہ دروازہ راولپنڈی سے ہی کھلا تھا ؛ افغان امن مذاکرات کی میزبانی ہمیں نے کی ؛ اور مئی 2025 کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ اور اُس سے آگے کی دنیا ایک بار پھر ثالثی کے لیے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ایک مضبوط، ثابت قدم ریاست — جو لڑنا جانتی ہے مگر جوڑنا بھی — یہی وہ کردار ہے جو قائد نے چاہا تھا۔

رہا معیشت کا باب، تو اُس پر نہ ماتم درکار ہے نہ مغالطہ — صرف دیانت، اور دیانت کا پہلا تقاضا یہ کہ پورا قصہ سنایا جائے، آدھا نہیں۔ 1960 سے 2008 تک کے اڑتالیس برسوں میں پینتیس برس ہم فی کس آمدنی میں اپنے مشرقی ہمسائے سے آگے رہے؛ 1970 میں ڈیڑھ گنا، اور 1990 میں بھی، قوتِ خرید پر، تین ہزار ڈالر بمقابلہ اٹھارہ سو۔

بھارت کی سبقت 2009 سے شروع ہوتی ہے — عین اُس دہائی سے جب ہم اُس جنگ کا میدان بنے جو ہم نے نہیں چنی تھی: تیس ہزار جانیں، ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا خسارہ، اور مشرقی ہمسائے کی وہ درپردہ دست اندازی جس کا ایک زندہ ثبوت — کلبھوشن یادیو — آج بھی ہماری تحویل میں ہے۔

اور اِسی دیانت کا تقاضا ہے کہ 1971 کا باب بھی کھلی آنکھ سے پڑھا جائے۔ مثنوی کا پہلا نالہ یاد کیجیے:

بشنو از نی چون حکایت می کند
از جدایی ہا شکایت می کند

نَے سے سنو، جدائیوں کی کیا حکایت کرتی ہے۔ نیستاں سے کٹی ہوئی نَے روتی ہے۔ اور 1971 ہمارے نیستاں کا وہ زخم ہے جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں لگایا اور اپنے ہی بھائیوں کے مقدمے میں منصف بننے کے بجائے فریق بن گئے — یہ اعتراف جتنا کڑوا ہے اتنا ہی لازم۔ مگر اِس اعتراف کے ساتھ ایک وضاحت بھی تاریخ کا قرض ہے: بنگال نے مسلم تشخص کی الگ راہ سے بغاوت نہیں کی تھی؛ اُس نے 1947 کی اُس مخصوص صورت سے بغاوت کی تھی جو ایک ہزار میل کے فاصلے پر بٹے دو بازوؤں کو ایک ہی مرکز سے باندھتی تھی۔

الگ ہو کر بھی اُس نے الگ ریاست ہی بننا چُنا — اکھنڈ بھارت کا حصہ بننا نہیں۔ سو 1971 نے قائد کی دلیل کو رد نہیں کیا، صرف اُسکی صورت بدل دی: آج برصغیر میں دو خودمختار مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں، صفر نہیں۔ اور دریائے آمو سے دریائے سالوین تک اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والوں کے راستے میں ایک نہیں دو عدد سد سکندر کھڑی ہیں۔

مگر اس سب کے باوجود بھی نظر جھکا کر ماننا چاہیے کہ بقا کی جنگ جیتنا ایک اثاثہ ہے، خوشحالی کی جنگ ایک بہاؤ — اور بہاؤ کا قرض ابھی ادا نہیں ہوا: محصول کا تناسب ایک نسل سے بارہ فیصد کے گرد جما کھڑا ہے، اور جو ریاست سو میں سے بارہ روپے نہ اکٹھے کر سکے وہ اپنے بچوں کی فلاح کہاں سے خریدے گی؟

ترازو کا آخری جھکاؤ کیا ٹھہرا؟ یہ اُفق پر منحصر ہے۔ بقا کے طویل اُفق پر کامیابی کا پلڑا فیصلہ کن حد تک بھاری ہے — کیونکہ جو قومیں بقا کی بازی ہار جاتی ہیں، اُنہیں خوشحالی کی بازی کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملتا؛ اندلس اور اراکان کے مسلمان اِس پر گواہ ہیں۔ 

مگر خوشحالی کے اُفق پر ناکامی کا پلڑا بھاری ہے، بنگلہ دیش کی ترقی سے ہی موازنہ کر لیجئیے کیونکہ یہ موازنہ ہر تہذیبی عذر کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ ایک ملک بیک وقت سیاسی بقا کا معجزہ اور معاشی کارکردگی میں کمزور ہو سکتا ہے؛ پاکستان دونوں ہے، اور دونوں سچ ایک دوسرے کو نہیں کاٹتے۔

خوشحالی کی بازی گو ہم جیتے نہیں مگر ہم ہارے بھی نہیں۔ 1947 میں جس ریاست کے دفتروں میں سٹیشنری تک نہ تھی، آج وہی ریاست لڑاکا طیارے برآمد کرتی ہے — جے ایف-17 میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کے بیڑوں میں شامل ہے — اور عالم یہ ہے کہ میر عرب کو بھی ٹھنڈی ہوا یہیں سے آتی ہے؛ اِس اشارے کی شرح درکار نہیں۔

جس قوم کی پہلی مردم شماری میں بمشکل چھٹا آدمی پڑھ سکتا تھا، آج اُس کی شرحِ خواندگی 60 سے اوپر ہے اور اوسط عمر 32 برس سے بڑھ کر 68 کو چھوتی ہے۔ آئی ٹی کی برآمدات چار ارب ڈالر کے قریب، فری لانسروں میں ہمارا شمار اول صفوں میں؛ اور سیمنٹ سے ادویہ تک، موٹر سائیکل سے ٹریکٹر تک — صنعت کاری ادھوری سہی، بانجھ نہیں۔ سو “سب کچھ لٹ گیا” کا بین درست نہیں: دفتر میں سود کے اندراج موجود ہیں، بس پڑھنے والی آنکھ چاہیے۔

جس نسل نے یہ ملک بنایا، وہ رخصت ہوئی؛ جس نسل نے اِسے سنبھالا — ہماری نسل نے — اُس سے بہت کچھ اچھی طرح نہیں سنبھالا گیا، اور یہ اعتراف بھی اِسی دیانت کے کھاتے میں لکھا جائے۔ مگر جو نسل اب آ رہی ہے، وہ نہ ہماری اجازت کی منتظر ہے، نہ ہمارے عذر کی محتاج۔ کراچی کا ایک لڑکا — سوالح آصف — ریاضی کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم اٹھائے ایم آئی ٹی پہنچا، اور 26 برس کی عمر میں امریکہ میں وہ کمپنی کھڑی کر دی جس کا سودا 60 ارب ڈالر میں ہوا۔

سوات کی ایک بچی نے گولی کھا کر بھی قلم نہ چھوڑا اور 17 برس کی عمر میں نوبیل اٹھا لائی۔ ہنگو کے اعتزاز حسن نے اسکول کے دروازے پر خودکش حملہ آور کو دبوچا اور اپنی جان دے کر سینکڑوں ہم جماعتوں کی جانیں بچا لیں۔

فیصل آباد کی ارفع کریم نو برس کی عمر میں دنیا کی کم سن ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی اور سولہ برس میں رخصت ہو کر بھی چراغ جلا گئی۔ ایدھی نے کشکول اٹھا کر دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس کھڑی کر دی۔ اِن میں سے کوئی ورثے کی دولت یا سفارش کی سیڑھی سے اوپر نہیں گیا — صرف ہنر، ہمت اور اِسی مٹی کی تربیت کا کمال ہے۔ اور وہ بے نام لوگ — سیلاب میں کشتیاں کھینچتے، اجنبی کی حرمت پر جان وارتے ، ملبے سے بچے نکالتے — جن کے نام اخبار میں ایک دن چھپتے ہیں اور جن کا قرض قوم پر ہمیشہ رہتا ہے۔ جس مٹی سے یہ فصل اٹھتی ہو، اُس پر بانجھ پن کا فتویٰ کون دے؟

بقا خود ایک آغاز ہے، انجام نہیں؛ جو بیج برف کے نیچے سلامت رہ جائے، وہ موسمِ بہار کا منتظر ہوتا ہے۔ حافظِ شیراز کی بشارت سنیے:

یوسفِ گم گشتہ باز آید بہ کنعان، غم مخور
کلبۂ احزاں شود روزی گلستاں، غم مخور

— کھویا ہوا یوسف کنعان لوٹ آئے گا، غم نہ کر؛ غموں کی جھونپڑی اک دن گلستاں بنے گی، غم نہ کر۔ ماتم کی رِیت کا جواب فارس کے اُس رند نے صدیوں پہلے دے دیا تھا۔ اور سعدی شیرازی سے منسوب ہے: صبر تلخ است، ولیکن بر شیریں دارد — صبر کڑوا ہے، مگر اُس کا پھل میٹھا۔ ہم نے وہ تلخ صبر کر لیا؛ ہم نے وہ رات کاٹ لی جس میں کئی قومیں صبح دیکھے بغیر بکھر گئیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ ہم زندہ کیوں ہیں؛ سوال یہ ہے کہ اِس زندگی کا کریں گے کیا۔ اور اِس سوال کا جواب لکھے جانے کے قابل ہے۔ محصول بارہ فیصد سے اٹھارہ فیصد؛ برآمدات تیس ارب کے جمود سے کم از کم دگنی؛ پیداواری صلاحیت میں اضافہ؛ پانی اور موسمیاتی تبدیلی کی اگلی نسل کی جنگ؛ اور سب سے بڑھ کر بچیوں کی تعلیم — کہ قوم کی آدھی صلاحیت ابھی میدان سے باہر کھڑی ہے۔

اقبال کا شاہین اِسی لیے بلند ہوتا ہے کہ وہ آشیانے کو منزل نہیں سمجھتا۔ ہمارا آشیانہ بن چکا — ٹیڑھا ہی سہی مگر اپنا تو ہے۔ اب دیواریں سیدھی کرنا، چھت پاٹنا، اور اُن کمروں کو آباد کرنا باقی ہے جو ابھی خالی پڑے ہیں۔ جو قوم اتنے بڑے طوفان میں کشتی نہ ڈوبنے دے، اُس کے ملاحوں میں وہ ہنر ضرور ہو گا جو ساحل تک لے جائے — بشرطیکہ وہ ماتم کی ریت چھوڑ کر چپو تھام لیں۔

فیض نے جس صبح کو “شب گزیدہ سحر” کہا تھا، وہ بے داغ نہ سہی، مگر ہے تو سحر ہی۔ ہمارے دفتر میں زیاں کے صفحے بہت ہیں، مگر اُنہی کے بیچ سود کے کچھ سنہری اوراق بھی ہیں — بقا کے اوراق، جن پر اگلی نسلوں کا حساب لکھا جانا ابھی باقی ہے؛ اور وہ نئی نسل اپنے طریقے سے لکھنا شروع کر چکی، کراچی سے سوات تک، ہنگو سے ہر اُس گھر تک جہاں کوئی ماں اپنے بچے کو ایدھی کا قصہ سناتی ہے۔

سو پختہ قومی رویّہ نہ بے جا ماتم ہے، نہ کھوکھلی خودفریبی؛ بلکہ ایک تشکر بھرا عزم: شکر اُس بقا پر جس کی کوئی ضمانت نہ تھی، عزم اُس تعمیر کا جس کے لیے یہ بقا حاصل کی گئی۔ اناسی برس پہلے تین دلیلیں آمنے سامنے تھیں؛ ایک درست ثابت ہوئی ۔ آج کا پاکستانی اس مشکل فیصلے کا وارث ہے جو ہمارے بزرگوں نے اپنے ووٹ سے لکھا تھا — ہم وجود کی جنگ جیت چکے، اب تعمیر کی گھڑی ہے۔ اور جو قوم ایک بار مٹنے سے انکار کر چکی ہو، اُس کے لیے تعمیر سے انکار کیونکر ممکن ہے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *