اردو ادبتعلیم و صحتتہذیبثقافتسیاستقومیمتفرقمعاشرہ

تعلیم، تیل اور گم ہوتا بچپن

Share your Love

تحریر: حیران مومند

کسی بھی قوم کی ترقی کا حقیقی معیار اس کے تعلیمی نظام سے پہچانا جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا، انہوں نے نہ صرف معاشی اور سائنسی میدان میں ترقی کی بلکہ سیاسی استحکام، سماجی شعور اور قومی وقار بھی حاصل کیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں میں تعلیم کو وقتی انتظامی فیصلوں، سیاسی مصلحتوں یا غیر سنجیدہ پالیسیوں کے تابع کر دیا گیا، وہاں نسلیں علمی پسماندگی، فکری کمزوری اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہوئیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی لاکھوں بچے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں سرکاری سکولوں میں تیل بچت مہم کے نام پر مسلسل تین چھٹیوں کا سلسلہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بظاہر یہ فیصلہ معاشی بچت اور توانائی بحران کے تناظر میں کیا گیا، مگر جب اس کے اثرات کو تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ صرف تیل کی بچت تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پورے تعلیمی وژن اور پالیسی سازی کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں سب سے کم اہمیت ان بچوں کے مستقبل کو دی گئی جو پہلے ہی کمزور تعلیمی نظام، ناقص انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بیشتر بچے غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں تقریباً پچانوے فیصد بچے پیدل سکول جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ ذاتی گاڑیاں ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ روزانہ ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں تیل بچت کا جواز ان بچوں پر لاگو کرنا ایک غیر منطقی سوچ محسوس ہوتی ہے۔ اگر اصل مقصد ایندھن کی بچت ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلیم سب سے آسان شعبہ سمجھ لیا گیا ہے جس پر ہر معاشی بحران کا بوجھ ڈال دیا جائے؟

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اگر معاشی یا توانائی بحران پیدا بھی ہو جائے تو سب سے آخر میں تعلیمی نظام کو متاثر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تعلیم پر سمجھوتہ دراصل مستقبل پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جہاں سکول بند کرنا، تعلیمی اوقات تبدیل کرنا یا امتحانات ملتوی کرنا ایک عام انتظامی حل بن چکا ہے۔ کورونا وبا کے دوران بھی پاکستانی بچوں کا تعلیمی نقصان دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ رہا، مگر اس سے کوئی دیرپا سبق حاصل نہیں کیا گیا۔
سرکاری سکولوں میں پہلے ہی تعلیمی معیار متعدد مسائل کا شکار ہے۔ کہیں اساتذہ کی کمی ہے، کہیں عمارتیں ناکافی ہیں، کہیں فرنیچر موجود نہیں، اور کہیں ایک ہی کلاس میں سو سے زائد بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب ہفتے میں تین چھٹیاں دی جاتی ہیں تو تدریسی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ بچے پڑھائی کے ماحول سے کٹ جاتے ہیں اور ان کی سیکھنے کی رفتار مزید کم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ابتدائی جماعتوں کے بچے مسلسل تعلیمی ماحول کے محتاج ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی ذہنی تشکیل اور سیکھنے کی صلاحیت مسلسل رابطے سے مضبوط ہوتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف نصابی نقصان تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی نفسیات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب تعلیمی شیڈول بار بار تبدیل ہوتا ہے تو بچوں کی ذہنی ترتیب، ڈسپلن اور معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جو پہلے ہی محدود وسائل میں تعلیم حاصل کر رہا ہو، اس کے لیے تعلیمی عدم تسلسل مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیمی ماہرین مسلسل اور متوازن تدریسی ماحول کو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
اس صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو سکول کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ سکول کا وقت شام تین بجے تک بڑھا دینا بظاہر اس تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بچوں پر اضافی جسمانی اور ذہنی دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سرکاری سکولوں کی اکثریت میں کلاس رومز پہلے ہی اوور کراؤڈ ہیں، جہاں ہوا، روشنی، پنکھوں اور بیٹھنے کی مناسب سہولت تک میسر نہیں۔ ایسے ماحول میں بچوں کو سات یا آٹھ گھنٹے مسلسل بٹھانا نہ صرف تھکن بلکہ ذہنی بیزاری، بے دلی اور نفسیاتی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔

تعلیم صرف کتاب کھول کر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ ایک متحرک، دلچسپ اور ذہنی طور پر متوازن عمل ہے۔ جدید دنیا میں تعلیم کو صرف امتحان یا حاضری سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اس بات سے دیکھا جاتا ہے کہ بچہ کتنا سیکھ رہا ہے، کتنی دلچسپی لے رہا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیت کتنی پروان چڑھ رہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی فیصلے اکثر بچوں کی نفسیاتی ضروریات اور جدید تعلیمی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ کم عمر بچوں کی توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت محدود وقت تک مؤثر رہتی ہے۔ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھنے سے ان کی ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سکولوں کے اوقات متوازن رکھے جاتے ہیں، کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور آرام کے وقفوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بچوں کو محض حاضری پوری کرنے کے لیے طویل اوقات تک بٹھایا جائے تو تعلیم ایک بوجھ بن جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پالیسی سازوں نے کبھی سرکاری سکولوں کی زمینی حقیقت کا سنجیدگی سے مشاہدہ کیا ہے؟ دیہی علاقوں کے بچے اکثر کئی کلومیٹر پیدل چل کر سکول پہنچتے ہیں۔ شدید گرمی، ٹرانسپورٹ کی کمی اور غربت پہلے ہی ان کے لیے تعلیم کو مشکل بناتی ہے۔ جب سکول کے اوقات غیر معمولی حد تک بڑھا دیے جاتے ہیں تو یہ بچے مزید جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سے بچے سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ معاملہ دراصل ہمارے تعلیمی نظام کی ترجیحات کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں تعلیم کو واقعی قومی ترجیح سمجھا جائے تو وہاں ایسے فیصلے کرتے وقت ماہرین تعلیم، نفسیات دانوں، والدین اور اساتذہ کی رائے لی جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اکثر پالیسی فیصلے زمینی حقائق اور تعلیمی تحقیق کے بجائے صرف انتظامی سہولت یا وقتی معاشی دباؤ کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔

اس صورتحال کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچے پہلے ہی طبقاتی فرق کا شکار ہیں۔ ایک طرف نجی تعلیمی ادارے جدید سہولیات، متوازن اوقات اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں کے بچے بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ جب ایسے بچوں کے تعلیمی اوقات اور معیار مزید متاثر ہوتے ہیں تو معاشرے میں تعلیمی عدم مساوات اور گہری ہو جاتی ہے۔
دنیا کی کامیاب قوموں نے ہمیشہ تعلیم کو بحرانوں سے اوپر رکھا۔ جاپان، جنوبی کوریا، چین اور فن لینڈ جیسے ممالک نے جنگوں، معاشی بحرانوں اور قدرتی آفات کے باوجود تعلیمی نظام کو مضبوط رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل سرمایہ تیل، گیس یا معدنیات نہیں بلکہ تعلیم یافتہ انسان ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی تعلیم کو ایک خرچ سمجھا جاتا ہے، سرمایہ کاری نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی پالیسیوں کو وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی قومی وژن کے تحت ترتیب دیا جائے۔ اگر توانائی بحران واقعی سنگین مسئلہ ہے تو اس کے حل کے لیے دیگر شعبوں میں متبادل حکمت عملیاں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ سرکاری دفاتر کے غیر ضروری اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں، توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں، مگر بچوں کی تعلیم کو متاثر کرنا کسی بھی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی ماہرین، والدین اور اساتذہ کے ساتھ مشاورت کر کے ایک متوازن پالیسی تشکیل دے۔ سکولوں کے اوقات بچوں کی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق ہونے چاہئیں۔ کلاس رومز میں سہولتوں کی بہتری، اساتذہ کی تربیت، نصاب کی اصلاح اور تعلیمی ماحول کی بہتری پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ بچے تعلیم کو بوجھ نہیں بلکہ خوشگوار تجربہ سمجھیں۔

تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی تعمیر کا عمل ہے۔ اگر بچوں کا بچپن، ذہنی سکون اور سیکھنے کی دلچسپی متاثر ہو جائے تو صرف اوقات بڑھانے سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔ ایک تھکا ہوا بچہ شاید کلاس میں موجود ہو، مگر ذہنی طور پر تعلیم سے دور ہو چکا ہوتا ہے۔

قوموں کی تقدیر کلاس رومز میں لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج بھی تعلیم کو وقتی انتظامی فیصلوں کے تابع رکھا تو آنے والی نسلیں علمی کمزوری، فکری پسماندگی اور معاشی انحصار کا شکار رہیں گی۔ مگر اگر ہم نے بچوں کے وقت، ذہنی صحت اور تعلیمی معیار کو واقعی اہمیت دی تو یہی بچے مستقبل میں پاکستان کو ترقی، شعور اور استحکام کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *