غالب شیکسپئر زبان کی تخلیقی آزادی کا فلسفلہ
تحریر: حیران مومند
ادب کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعلق صرف الفاظ، جملوں اور اشعار سے نہیں رہتا بلکہ وہ خود زبان کے مزاج، اظہار کے انداز اور تخلیقی فکر کے پیمانے بدل دیتی ہیں۔ ولیم شیکسپیئر اور مرزا اسد اللہ خان غالب کا شمار بھی انہی عظیم تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی اپنی زبانوں کو صرف استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں نئی وسعتیں، نئے امکانات اور نئی معنویت عطا کی۔ عبدالرحمن بجنوری کا یہ خیال کہ “شیکسپیئر اور غالب کا کام قواعدِ زبان کی پابندی نہیں ہے، یہ قواعد زبان کا کام ہے کہ ان کی پابندی کرے” دراصل ان دونوں ادبی عظمتوں کے تخلیقی مقام کی وضاحت کرتا ہے۔ اس جملے کا مقصد قواعد کی نفی نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ عظیم ادب اکثر ان حدود کو وسیع کرتا ہے جو پہلے سے قائم ہوتی ہیں۔
زبان ایک زندہ وجود کی طرح ہوتی ہے۔ یہ صرف لغت، قواعد اور اصولوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات، خیالات، تجربات اور تخیل کا اظہار بھی ہے۔ قواعد زبان کو ترتیب دیتے ہیں، اسے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور اظہار کو واضح بناتے ہیں، لیکن ادب کا بڑا کام صرف درست جملے بنانا نہیں بلکہ ایسی کیفیت پیدا کرنا ہے جو انسان کے دل و ذہن کو متاثر کرے۔ جب کوئی بڑا شاعر یا ادیب نئے تجربات، نئے اسالیب اور نئی ترکیبوں کے ذریعے اظہار کرتا ہے تو وہ زبان کے دائرے کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے مزید وسیع کر دیتا ہے۔
شیکسپیئر انگریزی ادب کی تاریخ میں ایک ایسا نام ہے جس نے انگریزی زبان کی ساخت اور وسعت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے ڈراموں میں زندگی کے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن میں انسانی نفسیات، جذبات، خواہشات، کمزوریاں اور عظمتیں سب شامل ہیں۔ شیکسپیئر نے نہ صرف کہانیاں بیان کیں بلکہ زبان کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو بھی دریافت کیا۔ اس نے نئے الفاظ، نئی تراکیب اور نئے اندازِ بیان کو فروغ دیا، جن میں سے بہت سے بعد میں انگریزی زبان کا حصہ بن گئے۔
شیکسپیئر کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ اس نے خوبصورت الفاظ استعمال کیے بلکہ اس میں ہے کہ اس نے زبان کو انسانی تجربے کی گہرائیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔ اس کے کردار محض تاریخی یا خیالی کردار نہیں بلکہ انسانی فطرت کے آئینے ہیں۔ ہیملٹ کی فکری کشمکش، میکبتھ کی خواہشِ اقتدار، اوتھیلو کی حسد بھری دنیا اور رومیو جولیٹ کی محبت انسانی جذبات کی ایسی تصویریں ہیں جو صدیوں بعد بھی زندہ ہیں۔ اس زندگی کی بنیاد صرف قواعد کی درستگی نہیں بلکہ تخلیقی سچائی ہے۔
اسی طرح غالب نے اردو اور فارسی شاعری کو ایک نئی فکری وسعت عطا کی۔ غالب سے پہلے اردو غزل کی ایک مضبوط روایت موجود تھی، مگر غالب نے اس روایت کے اندر رہتے ہوئے اسے نئے سوالات، نئے استعاروں اور نئی فکری پیچیدگیوں سے روشناس کیا۔ ان کے ہاں عشق صرف محبوب کی جدائی کا قصہ نہیں بلکہ وجود، حقیقت، انسان اور کائنات کے تعلق پر غور کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
غالب کی زبان بظاہر مشکل محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس مشکل کے پیچھے ایک گہرا فکری نظام موجود ہے۔ ان کے اشعار میں الفاظ صرف معنی بیان نہیں کرتے بلکہ کئی سطحوں پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کا ایک شعر مختلف ادوار میں مختلف مفاہیم پیدا کرتا ہے۔ ان کی شاعری وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر نسل کے لیے نئے سوالات پیدا کرتی ہے۔
قواعدِ زبان اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ اگر زبان میں کوئی نظام نہ ہو تو اظہار کا ربط قائم نہیں رہ سکتا۔ لیکن بڑے تخلیق کار قواعد کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اظہار کی ضرورت کے مطابق انہیں برتنے کے لیے جانتے ہیں۔ ایک عام لکھنے والا اگر زبان کے اصولوں سے انحراف کرے تو ممکن ہے کہ اس کا اظہار کمزور ہو جائے، مگر ایک بڑا فنکار جب زبان کی حدود کو بدلتا ہے تو وہ ایک نئی جمالیاتی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
یہی فرق ایک معمولی لکھنے والے اور ایک عظیم تخلیق کار کے درمیان ہوتا ہے۔ معمولی شخص زبان کو استعمال کرتا ہے، جبکہ بڑا فنکار زبان کو نئی زندگی دیتا ہے۔ وہ ایسے راستے کھولتا ہے جہاں سے بعد کے لوگ سفر کرتے ہیں۔ غالب اور شیکسپیئر نے بھی یہی کام کیا۔ انہوں نے زبان کے مروجہ اصولوں کو سمجھا، ان کی روح کو پہچانا اور پھر اپنے تخیل کے ذریعے ان کے امکانات کو بڑھایا۔
ادب میں اصل اہمیت صرف الفاظ کے درست ہونے کی نہیں بلکہ احساس کے سچے ہونے کی ہوتی ہے۔ اگر الفاظ قواعد کے مطابق ہوں مگر ان میں زندگی کی حرارت نہ ہو تو وہ محض ایک مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ایک تخلیق کار کے الفاظ میں تجربے کی سچائی، جذبے کی شدت اور فکر کی گہرائی موجود ہو تو وہ زبان کو نئی طاقت دے دیتے ہیں۔
غالب کے کلام میں یہی قوت نظر آتی ہے۔ ان کے ہاں لفظوں کا انتخاب، تراکیب کی جدت اور خیالات کی پیچیدگی ایک ایسی دنیا تخلیق کرتی ہے جہاں قاری صرف شعر نہیں پڑھتا بلکہ اس کے اندر داخل ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں فلسفہ، محبت، تنہائی، خود شناسی اور انسانی کمزوریوں کا ایسا امتزاج ہے جو انہیں محض شاعر نہیں بلکہ انسانی روح کا ترجمان بنا دیتا ہے۔
شیکسپیئر اور غالب دونوں کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے انسان کو مرکز بنایا۔ ان کے فن کا اصل موضوع انسان ہے، اس کی خوشیاں، دکھ، خواہشیں، الجھنیں اور سوالات۔ اسی لیے ان کا ادب اپنے زمانے سے نکل کر آنے والے زمانوں کا ادب بن گیا۔ زبانیں بدل سکتی ہیں، معاشرے بدل سکتے ہیں، لیکن انسانی احساسات کی بنیادی حقیقتیں باقی رہتی ہیں۔
بجنوری کا قول اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب کوئی فنکار اپنی تخلیقی قوت کے عروج پر پہنچتا ہے تو زبان اس کے اظہار کا وسیلہ بن جاتی ہے، رکاوٹ نہیں۔ وہ زبان کے قوانین سے بے خبر نہیں ہوتا بلکہ ان پر مکمل عبور حاصل کرنے کے بعد نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ جیسے ایک ماہر موسیقار ساز کے اصول جاننے کے بعد نئی دھنیں تخلیق کرتا ہے، اسی طرح بڑا ادیب زبان کے اصول سمجھ کر نئے اسلوب پیدا کرتا ہے۔
تاہم اس تصور کو غلط طور پر قواعد کی مکمل آزادی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر عظیم تخلیق کے پیچھے ایک داخلی نظم موجود ہوتا ہے۔ غالب کی شاعری یا شیکسپیئر کے ڈرامے بے ترتیبی کا نام نہیں بلکہ ایک اعلیٰ تخلیقی ترتیب کا نتیجہ ہیں۔ ان کی جدت علم، مشاہدے اور فن پر گہری گرفت کے بعد پیدا ہوئی۔
عظیم ادب ہمیشہ روایت اور جدت کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔ اگر روایت نہ ہو تو زبان کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، اور اگر جدت نہ ہو تو ادب جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ غالب اور شیکسپیئر نے روایت کو رد نہیں کیا بلکہ اسے نئی زندگی دی۔ انہوں نے پرانے الفاظ میں نئے معنی پیدا کیے اور معروف اسلوب میں نئی روح پھونک دی۔
آج بھی جب ہم غالب یا شیکسپیئر کو پڑھتے ہیں تو ہمیں صرف ماضی کی آواز نہیں سنائی دیتی بلکہ اپنے عہد کے سوالات بھی نظر آتے ہیں۔ یہی بڑے ادب کی پہچان ہے کہ وہ وقت کے ساتھ پرانا نہیں ہوتا بلکہ ہر دور میں نئی معنویت پیدا کرتا ہے۔
آخرکار زبان اور ادب کا تعلق دریا اور راستے جیسا ہے۔ راستہ دریا کو سمت دیتا ہے، مگر دریا اپنی روانی سے راستے کو بھی بدل دیتا ہے۔ قواعد زبان کو ترتیب دیتے ہیں، مگر عظیم تخلیق کار زبان کے اندر چھپے ہوئے نئے راستے دریافت کرتے ہیں۔ غالب اور شیکسپیئر اسی تخلیقی سفر کے مسافر تھے جنہوں نے زبان کو صرف برتا نہیں بلکہ اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کا کمال یہی ہے کہ آج بھی زبان ان کے سامنے محدود نہیں لگتی بلکہ ان کی تخلیقی عظمت کے ساتھ خود کو وسیع کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

