تاریخقومیمتفرق

تاریخ سے بغاوت

Share your Love

تحریر: نعیم اشرف

قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، تاریخ سے بنتی ہیں۔ ریاستیں صرف جغرافیے پر قائم نہیں ہوتیں، بلکہ ان قربانیوں پر استوار ہوتی ہیں جو نسلیں اپنے مستقبل کے لیے دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں اپنی تاریخ سے منہ موڑ لیتی ہیں، وہ بالآخر اپنی شناخت، اپنے مقصد اور اپنے راستے سے بھی بھٹک جاتی ہیں۔ آج آزاد کشمیر میں حقوق کے نام پر جو بحث چل رہی ہے، اس میں سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تاریخ کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مطالبات کرنا ہر شہری کا حق ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب مطالبات اپنی ہی تاریخ، اپنے ہی محسنوں اور اپنی ہی جدوجہد کے انکار میں تبدیل ہونے لگیں تو پھر یہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا، یہ تاریخ سے بغاوت بن جاتا ہے۔ یہ سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں کہ آخر حق کا سب سے پہلا دعویدار کون ہے؟ کیا وہ لاکھوں مہاجرینِ جموں نہیں جنہوں نے 1947ء میں اپنے آبائی گھر، زمینیں، کاروبار، جائیدادیں اور بزرگوں کی قبریں تک چھوڑ دیں؟ انہوں نے ہجرت کا دکھ سہا، خاندان بکھرتے دیکھے، خون کے دریا عبور کیے اور پاکستان کے نام پر ہر قربانی قبول کی۔ آج ان کی نسلیں پاکستان کے طول و عرض میں آباد ہیں، مگر انہوں نے کبھی اپنی قربانیوں کو نفرت کی سیاست کا ایندھن نہیں بنایا۔ کیا حق ان مجاہدین کا نہیں جنہوں نے آزاد کشمیر کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا؟ یہ خطہ کسی سیاسی سودے بازی یا سفارتی تحفے کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ان لوگوں کا خون شامل ہے جنہوں نے آزادی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ کیا حق مقبوضہ کشمیر کے ان شہداء کا نہیں جو آج بھی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو اپنی وابستگی اور امید کی علامت سمجھتے ہیں؟ جن کے جنازے اٹھتے ہیں، جن کے گھر اجڑتے ہیں، جن کی نسلیں قربان ہوتی ہیں، مگر ان کے لبوں پر آج بھی پاکستان کے حق میں نعرے ہوتے ہیں۔ جب پانچ اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور پوری وادی ایک نئے عذاب میں داخل ہوئی، تب بھی انہی لوگوں نے استقامت کی نئی داستانیں رقم کیں۔ کیا حق ان پاکستانی خاندانوں کا نہیں جنہوں نے کشمیر کے لیے اپنے بیٹے کھوئے؟ پنجاب کے میدانوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے پہاڑوں تک، ہزاروں گھروں میں آج بھی ایسے نام موجود ہیں جنہیں کشمیر کی خاطر دی گئی قربانیوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ کتنی ماؤں نے اپنے جوان بیٹوں کی راہ دیکھی، کتنے باپ اپنے بیٹوں کی قبروں سے بھی محروم رہے، مگر ان کے دلوں میں کشمیر کے لیے محبت کم نہ ہوئی۔ اور کیا حق ان کروڑوں پاکستانیوں کا نہیں جنہوں نے ہمیشہ کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھا؟ جن کے وسائل سے ترقیاتی منصوبے بنے، جن کے ٹیکسوں سے خصوصی مراعات فراہم ہوئیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنا قومی فریضہ سمجھا۔ یہ تعلق محض آئینی یا انتظامی نہیں، جذباتی اور تاریخی بھی ہے۔ سب سے بڑھ کر حق ان جوانوں کا ہے جو آج بھی سرحدوں پر کھڑے ہیں۔ جو اپنے گھروں سے دور، اپنے بچوں کی مسکراہٹوں سے محروم، برفانی چوٹیوں اور دشوار گزار محاذوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں صرف زمین کی حفاظت نہیں کرتیں بلکہ ایک نظریے، ایک اعتماد اور ایک قومی رشتے کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج بعض حلقوں میں ایسا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے جیسے پاکستان اور کشمیر کا تعلق محض مفادات کا رشتہ ہو۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ تعلق خون، قربانی، ہجرت، جدوجہد اور مشترکہ خوابوں سے تشکیل پایا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بیانیہ ان تمام تاریخی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر صرف نفرت، تقسیم اور تصادم کو فروغ دیتا ہے تو وہ دراصل اپنی ہی تاریخ سے انکار کر رہا ہے۔حقوق کی جدوجہد ہمیشہ احترام اور ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہے۔ گالی، نفرت،تضحیک اور احسان فراموشی کسی بھی مطالبے کو مضبوط نہیں بناتیں بلکہ اس کی اخلاقی بنیاد کو کمزور کرتی ہیں۔ جو قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو بھلا دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ کشمیر کا مقدمہ صرف زمین کا مقدمہ نہیں۔ یہ ایک تاریخ، ایک جدوجہد اور ایک نظریاتی وابستگی کا مقدمہ بھی ہے۔ اس مقدمے کی طاقت ہمیشہ محبت، اعتماد اور قربانی سے پیدا ہوئی ہے، نفرت اور تقسیم سے نہیں۔ تاریخ کا فیصلہ ہجوم کے شور پر نہیں ہوتا۔ تاریخ ہمیشہ یہ دیکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون کھڑا رہا، کس نے قربانی دی اور کس نے وفاداری نبھائی۔ جب یہ ترازو قائم ہوگا تو پاکستان اور کشمیر کے درمیان رشتہ کسی سیاسی نعرے کی وجہ سے نہیں بلکہ مشترکہ قربانیوں کی بنیاد پر مضبوط اور ناقابلِ انکار دکھائی دے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو دشمنی میں اور مطالبات کو تاریخ سے بغاوت میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے بغاوت کرتی ہے، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *