اُمید صبح جمال رکھنا امن مذاکرات
تحریر:
پاکستان اس وقت تمام دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دعا ہے کہ امن اور مصالحت پسندی کا معاہدہ اسلام آباد میں طے پا جائے۔
حاسد پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان ثالث کیسے بنا؟
تو بھئی
کج انج وئی راواں اکھیاں سن
کج وعدے، قرض دا طوق وی سی
ترجمہ: کچھ ویسے بھی راہیں مشکل تھیں، اور کچھ وعدے قرض کا طوق بھی تھا
تجزیہ نگاروں نے یاد دلایا کہ پاکستان ماضی میں بھی ثالثی کردار بخوبی کامیابی کے ساتھ نبھاتا رہا ہے۔ جب 1971 میں کیسنجر پاکستان آئے، امریکہ اس وقت چین کے ساتھ پسِ پردہ سفارتی تعلقات بحال کرنا چاہتا تھا۔ پاکستان کے تعاون سے یہ ممکن ہوا۔ اسی کی دہائی میں روس افغان جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی پشت پناہی کی بنیاد پر جہاد کا بیڑہ اٹھایا۔ اس اقدام سے ایسا بیج بو دیا گیا جس کی فصل آج بھی بارود اگل رہی ہے۔
پاکستان محدود وسائل اور لا محدود مسائل سمیت نازک موڑ سے گزر ہی رہا تھا کہ صدر بش نے گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان کا بازو مروڑ کر ”تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف“ کی تڑی لگا دی، رچرڈ آرمیٹیج نے تڑکا لگایا، ”ہمارا ساتھ نہ دیا تو بم مار کر غار کے دور میں پہنچا دیں گے“ ۔ وہی تڑی پیٹ ہیگستھ نے ایران کو حال ہی میں دی۔ ویسے دیکھا جائے تو پاکستان و ایران ”یارِ غار“ ہی ہیں۔ بہر حال 2001 میں ایک بار پھر امریکہ کی معاونت کی کہ دہشتگردی کو شکست دی جائے۔ قریب بیس سال اور دو ٹریلین ڈالر گزر جانے کے بعد امریکہ تو افغان سے کوچ کر گیا مگر اس میں بھی پاکستان کی معاونت شامل رہی۔ آئے بھی وہ، گئے بھی وہ، ختم فسانہ ہوگیا۔
اس دوران پاکستان ایک کے بعد ایک نازک موڑ سے گزرتا رہا یہاں تک کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اس کے اکلوتے اتحادی نے ایران پر حملہ کر دیا۔ امریکی صدر کے دماغ میں دو باتیں بیَک وقت اور زیادہ دیر نہیں رہ سکتیں۔ وہ اس زعم میں تھے کہ ان کے داماد کُشنر اور ان کے انکل نتن یاہو نے سچویشن روم میں بیٹھ کر یقین دہانی کروائی کہ ایران پہ حملے کی تمام کارروائی فقط چار دن کی ہے۔ اس کے بعد ہماری پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو گا۔ ایسے سبز باغ دکھائے کہ امریکی صدر نے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر حامی بھر دی کہ چلو اسی بہانے اپسٹین فائل سے لوگوں کا دھیان بٹ جائے گا۔ مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے، کہ تیل نہیں بس اس کی جستجو سی ہے!
ایران نے جوابی حملے اور کارروائیوں کا تانتا باندھ دیا اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر پابندی اور ٹول لگا دیا۔ امریکہ کا سر کڑاہی میں ہونے کا خواب تو نہ پورا ہوا البتہ گردن آبنائے ہرمز میں پھنس گئی۔ جب گوٹ پھنسی ہو تو عموماً عقلمند لوگ معاملہ فہمی سے کام لیتے ہیں مگر امریکی صدر کی قینچی جیسی زبان مسلسل چلتی رہتی ہے۔ کچھ بھی اول فول بولنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بات منہ سے ایسے نکل جاتی ہے جیسے تیر کمان سے۔ ایسے ہی ایران پر ایٹمی حملے کی بات کر دی۔ تمام دنیا دہل گئی۔ اب تھوک کر چاٹے کیسے؟ پھر یاد آیا وہی ایٹمی ہتھیار والا چھوٹا سا ملک جو بڑے کام کی چیز ہے۔ جغرافیہ بھی برا نہیں اور حال ہی میں کچھ ایسے وعدے وعید کر بیٹھا ہے جو امریکہ کے اتحادیوں کے حق میں ہیں۔ اب اس کے پیشِ نظر ایک نیا اور بے مثال سفارتی سرکس شروع ہوا۔
دنیا ایٹمی حملے کے دہانے پر سانس روکے کھڑی تھی اور عین نوے منٹ پہلے عارضی جنگ بندی کا اعلان نشر ہوا۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہ شیشہ گری کا
یعنی ایک اور نازک موڑ۔ دو ہفتہ کی جنگ بندی کو ابھی بارہ گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ باولے اتحادی، (میں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں ) ، اس نے عارضی امن لبنان پہ حملہ کر کے برباد کر دیا۔
نازک ترین موڑ پہ امن کا راستہ ہموار کرنے کی بھاری ذمہ داری ایک بار پھر مقروض قوم کے ناتواں کاندھوں پہ آن پڑی ہے
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
اب مسئلہ محض عجب وقت کا ہی نہیں بلکہ غضب کے دغا باز ٹولے کے ساتھ مفاہمت کرنے کا بھی ہے۔ گارڈین اخبار نے امریکی صدر کے داماد کُشنر کو اسرائیلی ایجنٹ قرار دے دیا ہے۔ سٹیؤ وٹکوف اور کشنر وہی دو رکنی وفد ہے جس نے ایران کو دھوکہ دیا، سفارتی مذاکرات جان بوجھ کر ناکام بنائے اور اب یہ دونوں نائب صدر وینس کے ساتھ کل پاکستان آ رہے ہیں۔ دراصل یہ تین رکنی دغا باز وفد امن میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ لہذا یہ بات پلے باندھ لیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان اپنی ثالثی کوششوں میں ناکام ہوا اور کوئی امن معاہدہ نہیں طے ہو پاتا تو اس کی تمام ذمہ داری باولے اتحادی، کُشنر، وٹکوف اور وینس پر لاگو ہوتی ہے۔ ثالث کا کام خالص مصالحت کروانے کا ہوتا ہے، حتمی ذمہ داری فریقین پر عائد ہوتی ہے۔
قطر نے ثالث بن کر دیکھ لیا۔ اسی باولے اتحادی نے امن معاہدے کے دوران حملہ کر دیا۔ جہاں امن کی نیت ہی نہ ہو وہاں ثالث کیا کر سکتا ہے؟
تبھی ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ
نیت ہی اگر ٹھیک زمانے کی نہیں ہے
جلدی تو مجھے بھی کہیں جانے کی نہیں ہے
ہمارے ایک عزیز جو پشتو نہیں جانتے تھے پشاور آئے۔ راستہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ فلاں جگہ کدھر ہے تو ہر بار پوچھنے پر پشتو میں جواب ملتا، ”دغا دے“ یعنی ”وہاں ہے“ ۔ جب دو تین بار یہی جواب ملا تو سٹپٹا کر کہنے لگے، ”وہ قوم کیا ترقی کرے گی جو بار بار راستہ پوچھنے پر دغا دینے پر تلی رہتی ہے“ ۔ تو بات یہ ہے کہ منزل پہ پہنچانے کی تمام ذمہ داری راستہ بتانے والے کی نہیں ہوتی، راستہ پوچھنے والے پر بھی لازم ہے کہ نیک نیت اور اطراف سے باخبر ہو۔
دغا بہت دلچسپ لفظ ہے۔ ایک نقطہ ہٹا دیں تو لفظ اور معنی ہی بدل جاتے ہیں
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
وعدہ شکن دغا بازوں سے امن معاہدہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی نیک نیتی پر کسی کو کوئی شک نہیں لیکن
کسی بھی جنگ بندی کا احترام کرنے، برقرار رکھنے اور اسے نافذ کرنے کا بوجھ متحارب فریقین پر ہی پڑے گا۔
پاکستان کا کردار بطورِ ثالث حادثاتی نہیں ہے، اور یہ نہ ہی یہ کوئی معمولی ہے، لیکن پاکستان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ تنہا امن معاہدہ کروائے، اور اس کے نفاذ و تعمیل کی ضمانت دے، نتائج نافذ کرے، یہ ایک غیر حقیقی توقع ہو گی۔
پاکستان ایک ذمہ دار سفارتی ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ۔ ایران جنگ بندی کے درمیان موجودہ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ اگر طویل مدت پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے کے ناقدین حتیٰ کہ پوری دنیا اس سے مستفید ہو گی۔
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے دنیا کا
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی؟
امن معاہدے کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو سفارتی و اقتصادی اتحاد تمام خطے میں قائم کرنا چاہیے اور قومی معیشت مستحکم کرنی چاہیے جس کا ثمر عوام تک پہنچے۔
پاکستان جغرافیائی طور پر بھی اس کام اور اس ثالثی کے لیے ایک دلچسپ موڑ پر ہے۔ دعا ہے کہ یہ آخری نازک موڑ ہو۔
اس وقت ہمیں صوبائی، سیاسی، لسانی، فرقہ ورانہ، ہر طرح کے تعصب کو پسِ پشت رکھ کر پاکستان کے لئے متحد ہو کر قائد کے اصول، اتحاد، ایمان، نظم و ضبط پر پابند رہنا ہو گا۔
خدا پاکستان کو کامیاب کرے، اس کی حفاظت کرے،
امن و استحکام کے ساتھ، عزت و وقار بلند ہو
یہ سبز پرچم تمام عالم میں محترم ہو
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

