منزل نہ کر قبول: سفرنامہ پنجاب
خطاب: سابق گورنر پنجاب خالد مقبول

جب مجھے ’’منزل نہ کر قبول‘‘ کی تقریبِ رُونمائی میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی تو مجھے کچھ تعجب سا ہوا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ اس کے مصنف حکومت کے کسی ایسے محکمہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ذمہ داریاں محدود ہوتی ہیں چنانچہ وہ اس تقریب کے ذریعہ حقیقتاً اپنی رُونمائی چاہتے ہوں گے لیکن جب مجھے پتا چلا کہ ان کا تعلق انکم ٹیکس ڈِپارٹمنٹ سے ہے تو مجھے خیال آیا کہ مالی سال قریبُ الاختتام ہے اور انکم ٹیکس ڈِپارٹمنٹ کے ایک سینیئرافسر گورنمنٹ ریونیو اکٹھا کرنے کی بجائے اپنی کتاب کی رُونمائی کی فکر میں ہیں لہٰذا وہ ضرور او ایس ڈی ہوں گے اور اس کوشش میں ہوں گے کہ محکمہ کے اندر اپنی جگہ بنا سکیں لیکن جب مجھے بتایا گیا کہ وہ تو پیشہ ورانہ صلاحیت کے مالک ایک ایماندار افسر ہیں اور حکومت نے پورے لاہور سے انکم ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال رکھی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اس دعوت کو قبول کرنے کی حامی بھرلی۔
عموماً ایسی تقریبات بہت تاخیر سے شروع ہوتی ہیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ آج کی یہ تقریب عین وقت پر شروع ہوگئی ہے۔ سچ پوچھیں تو یہاں آنے سے پہلے جب میرے سٹاف نے بتایا کہ ہال حاضرین سے کھچاکھچ بھرچکا ہے تو مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آیا لیکن یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ابتداء ًمیں یہ سمجھا کہ یہاں موجود سب لوگ ٹیکس دہندگان ہیں جو محض اس وجہ سے یہاں آگئے ہیں تاکہ ان کا پچھلے سال کا انکم ٹیکس گوشوارہ بغیر کسی اعتراض کے منّ و عن قبول کرلیا جائے یا پھر یہ وہ لوگ ہیں جو ٹیکس کے دائرے سے باہر رہنا چاہتے ہیں اور اس تقریب میں اپنی حاضری سے وہ یہی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ کھلی کہ یہ سب لوگ داؤدطاہر کی محبت میں یہاں جمع ہوئے ہیں جو اِن کی اپنی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کی کتاب کے لیے اُن کی پسندیدگی کا بھی ایک اظہار ہے۔
آپ میں سے بہتوں کی طرح جب میں نے یہ کتاب پڑھی تو فاضل مصنف مجھے ایک ایسے شخص کی طرح محسوس ہوئے جس کے کاندھے پر ایک بڑا سا کیمرہ ہے، جس کے پاس ماضی کی کچھ پرانی فلمیں بھی موجود ہیں اور وہ علاقے کی تاریخ سے بھی بخوبی واقف ہے۔ اس نے اپنا سفر اٹک سے شروع کیا اور راوی پر ختم کیا۔ وہ راستے کی ہر چیز کو بغور دیکھتا رہا اور مسجد ہو یا کوئی مندر، قلعہ ہو یا کسی کا مزار، کوئی جدید شہر ہو یا قدیمی بستی غرض اسے جو کوئی جگہ بھی دلچسپی کی ملی اسے بڑے ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتا گیا۔ اس نے یہ سب کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ آپ اِس کے جغرافیہ کے بھی واقف ہوجائیں، اس کی تاریخ بھی جان لیں اور اس کے موجودہ حالات سے بھی واقفیت حاصل کرلیں۔
داؤد طاہر نے اپنی اس کتاب میں مختلف حوالوں سے بعض بڑے خوبصورتقصے بیان کئے ہیں اور ان تمام قصوں میں ہم سب کے لیے کئی سبق ہیں چنانچہ حضرت بری امام کے حالات بیان کرتے ہوئے داؤدطاہر نے لکھا ہے کہ آپ کے دم قدم کی برکت سے چورپُور کے چوروں نے چوری کرنا چھوڑ دی اور وہ راہِ راست پر آگئے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ گاؤں کا نام نورپُور پڑگیا۔ حضرت بری امام سے منسوب یہ واقعہ پڑھ کر میرا بھی دل چاہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ چند لمحوں ہی کے لیے سہی مجھے بھی کوئی ایسی طاقت عطا فرمادے کہ میں لوگوں کو نیکی کے راستہ پر لاسکوں لیکن شاید یہ میرے بس کی بات نہیں۔
مری کا ذکر کرتے ہوئے داؤدطاہر نے کسی مصنف کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انگریزوں نے پہلے پہل تریٹ کے مقام پر قیام کیا تو وہاں کوئی سائیں صدقی تھے۔ انہیں کسی وجہ سے انگریزوں کی اس علاقہ میں آمد پسند نہ تھی چنانچہ ان کی بددعا کے نتیجہ میں ہیضہ کی وبا پھیلی اور بہت سے انگریز لقمہ ٔ اجل بن گئے۔ اس طرح کے واقعات پڑھ کر یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ دشمن کو محض دعا یا بددعا سے بھی نیست و نابود کیا جا سکتا ہے یا اس کی سوچ میں خاطرخواہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں دعا کی اہمیت اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں حالات میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بہت جدوجہد اور خود اپنے اندر ایسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جو ہماری کایا پلٹ سکیں۔

میرے خیال میں داؤدطاہر نے اپنے ملک کو ایک محبِ وطن پاکستانی کے طور پر دیکھا ہے۔ اسے اچھا لگتا ہے کہ وہ لانس نائیک محفوظ شہید کے کارناموں کو ہمارے سامنے بیان کرے اور یہ بھی بتائے کہ میجراکرم شہید ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن جب ملک پر مشکل وقت آیا تو انہوں نے اپنی جان کی پروا بھی نہ کی۔ اس سفر کے دوران وہ کبھی عالم لوہارکے مزار پر جاتے ہیں تو کبھی ضمیر جعفری کے مرقد پر۔ غرض جو چیز اچھی لگی اور جس جس واقعہ میں ان کے خیال میں ہمارے لیے تھوڑا بہت سبق تھا انہوں نے اسے چُنا اور ایک گلدستہ تیارکرکے ہمیں پیش کردیا ہے جس کا ہر رنگ اور جس کے پھولوں کی ہر خوشبو ہی بہت پیاری ہے۔
ضمیرجعفری کا ذکر ہوا ہے تو مجھے یاد آگیا کہ داؤدطاہر نے ان کی ایک نظم اپنی کتاب میں نقل کی ہے جس میں ضمیر جعفری نے اسلام آباد کے ساتھ اپنی محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے:
چپکے چپکے اس نگر میں گھومنے آؤں گا میں
گُل تو گُل ہے پتھروں کو چومنے آؤں گا میں
ہمارے یہ شاعرِ بے مثل اسلام آباد میں ایک لمبا وقت گزارنے کے بعد عالمِ مجبوری میں گوجرانوالہ منتقل ہورہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد کو کبھی بھول نہیں پائیں گے اور انہیں جب موقع ملے گا، بے شک چشمِ تصور ہی سے سہی وہ اسلام آباد آیا کریں گے اور پھولوں کا تو ذکر ہی کیا اس کے پتھروں کو بھی چوما کریں گے۔ مجھے یہ شعر اس لیے بھی پسند آیا کہ میرا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ حالانکہ میرے دوست احباب میں سے اب شاذ ہی کوئی وہاں موجود ہوگا لیکن پھر بھیبہت دفعہ میرا جی وہاں جانے اور وہاں کی گلیوں میں گھومنے کو چاہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں جاکر جلد ہی کچھ مایوسی سی ہونے لگتی ہے کیونکہ اجنبیت کا احساس طبیعت میں بے کلی پیدا کردیتا ہے۔

میں عرض کرچکا ہوں کہ داؤدطاہر نے اپنی کتاب میں بہت سے اہم لوگوںکے مزارات کی نشاندہی بھی کی ہے جن میں سے ایک عنایت حسین بھٹی بھی ہیں۔ موصوف حافظِ قرآن تھے اور انہوں نے گلوکاری کے علاوہ اداکاری میں بھی نام پیدا کیا تھا۔ میں نے ان کی قبر پر لکھا ہوا یہ شعر پڑھا تو مجھے بے حد پسند آیا۔ شعر ہے:
تیلاں باہجھ نہ بَلَن مشالاں تے درداں باہجھ نہ ہائیں
کیہہ ہویا تُساں بولن چھڈیا، اَسَاں ویکھن چھڈیا ناہیں
آپ کو بھی موقع ملے تو ضرور غور کیجئے۔ اس میں زندگی کے بعض اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔
ایک دن میرے ایک دوست نے مجھے کسی پیر اور ان کے ایک مرید کا قصہ سنایا۔ کہنے لگے کہ پیرصاحب بیمار ہوگئے تو مرید نے کہا : حضرت! آپ چلے جائیں گے لیکن خدارا خواب میں ضرور اپنی زیارت کراتے رہئے گا۔ میں آپ کے توسط سے جاننا چاہوں گا کہ وہ دنیا کیسی ہے۔ قصے کے مطابق پیرصاحب بہت دنوں تک مرید کے خواب میں نہیں آئے جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھا۔ بالآخر ایک رات پیرصاحب آ ہی گئے تو مرید نے اپنی محرومی کا شکوہ کیا۔ پیرصاحب نے جواب دیا :میں کیا کرتا۔ اُدھر جاتے ہی حساب شروع ہوگیا۔ میرے پاس نمازوں کی، روزوں کی، عُمروں کی پنڈیں تھیں۔ میں نے ایک پَنڈ کھولنے کی کوشش کی تو مجھے روک دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ پہلے اللہ کی مخلوق کے ساتھ اپنے سلوک کا حساب دوں۔ یوں بہت دن گزر گئے۔مجھے مخلوق کے ساتھ اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑا۔ جس دن میں اس حساب میں پاس ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لے جا باقی سارے رجسٹر، پاس کردیا میں نے تمہیں اور آج سے جنت تیری ہے۔ اس حکایت میں ہم سب کے لیے ایک سبق ہے اور وہ یہ کہ حقوق اللہ کی ادائی تو ہم پر فرض ہے ہی، حقوق العباد کی ادائی کو بھی اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے ساتھ محبت رکھنے والے انسان بے حد پسند ہیں۔
یہ تو خیر یوں ہی بات سے بات نکل آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ داؤدطاہر نے پنجاب کی تاریخ اور تہذیب کا بہت عمدہ طریقے سے احاطہ کیا ہے اور جیسے کسی نے پہلے بھی کہا ہے کہ جس ذکر کو خشک راوی پر ختم کردیا گیا ہے وہ اسے ختم نہ ہونے دیں۔ لاہور کے نیچے ساہیوال، ملتان اور بہاول پور، کئی شہر واقع ہیں۔ ان علاقوں کی اپنی تہذیب ہے۔ ان کا ماضی تابناک اور حال خوبصورت ہے۔ مجھے یقین ہے داؤدطاہر کا قدم وہاں بھی پہنچے گا اور وہ جلد ہی اس علاقہ کے بارہ میں ضرور کچھ لکھیں گے۔
ہم بطور ملک ایک بہت قدیم تاریخ کے امین ہیں۔ سٹون ایج سے لے کر گندھارا تہذیب کا، موہنجوداڑو تہذیب کا، ہندوشاہی دور کا، مغلوں کے زمانہ کا، سکھوں کے ظلم و ستم کا، انگریزوں کی مبنی بر انصاف حکومت کا، ہم ان ساری تہذیب کے امین ہیں اور اس تہذیب کی یادگاریں ہمارے ملک کے چپّہ چپّہ پر موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر آدمی کو اس سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہئے۔
میں بار بار کہتا ہوں کہ اس تاریخ کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس سے ہمیں شرمندہ ہونا پڑے۔ میرے پاس مغربی دنیا سے بعض اہم لوگ آتے رہتے ہیں۔ وہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ میں شاید اپنی تہذیب کے بارہ میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کروں گا لیکن میں انہیں بتاتا ہوں کہ اتنی اچھی تہذیب پوری دنیا میں اور کہیں بھی نظر نہیں آئے گی کہ ایک ہی احاطہ میں مسلمانوں کی مسجد موجود ہے تو ساتھ ہی ہندوؤں کا مندر بھی ہے وہیں سکھوں کی ایک متبرک جگہ بھی موجود ہے تو سامنے ایک پرانا چرچ قائم و دائم ہے۔
ہمیں اپنی تاریخ پر ناز ہونا چاہئے۔ ہمیں اسے سمجھنا بھی چاہئےاور لوگوں کو اس سے آگاہ بھی کرنا چاہئے۔
میں چاہتا ہوں کہ اپنی گفتگو کے آخر پر آپ سب خواتین و حضرات کو ایک ضروری پیغام دوں اور وہ یہ کہ سفرنامہ ادب کا حصہ ہے اور کردار سازی میں ادب کا بہت اہم رول ہے۔ کردارسازی میں والدین کا رول ہے، سکول اور کالج کا رول ہے اور حکومت کا بھی رول ہےلیکن کردارسازی میں ادب کا مقام اپنا ہے۔ جب ہم ماضی پر نگاہ دوڑاتے ہیں، سعدی کو پڑھتے ہیں، حالی کو پڑھتے ہیں، اقبال کو پڑھتے ہیں، کرشن چندر کو پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان سب لوگوں نے معاشرتی رویوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس نہج پر جارہا ہے اور ہمیں اس میں کس قسم کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک عدمِ رواداری نے اس ملک کو بے حد نقصان پہنچایا ہے لہٰذا ہمیں تعلیم عام کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی جتنی ضرورت اِس وقت ہے اُتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ اکیسویں صدی کے تقاضے کیا ہیں، معاشرے میں ٹیکنالوجی کی ضرورت کیا ہے، رواداری کی اہمیت کیا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کتنی ضرورت ہے۔
میرا خیال ہے میں نے آپ کا بہت وقت لے لیا ہے لہٰذا ایک بار پھر جنابِ داؤد طاہر کو اس خوبصورت کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دیتے ہوئے آپ دوستوں سے اجازت لیتا ہوں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

