تاریخسیاستقومی

اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز

Share your Love

تحریر: آمنہ ثمر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ چکا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو ممکنہ میزائل حملوں کی وارننگ نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا، جس سے یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا کہ کوئی بھی غلط قدم ایک وسیع علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ کشیدگی محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں توانائی، جغرافیائی اثر و رسوخ اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔

اس بحران کی جڑیں وقتی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد، پابندیاں، جوہری پروگرام پر اختلافات اور مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ ہر نیا واقعہ ان پرانے زخموں کو تازہ کر دیتا ہے اور صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حالیہ کشیدگی بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، مگر اس بار اس کی شدت اور وقت نے اسے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
خلیج کا خطہ، خصوصاً آبنائے ہرمز، اس تمام بحران کا حساس ترین مرکز ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر یہاں تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی لائنز میں خلل اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی ایسے عوامل ہیں جن سے ترقی پذیر ممالک کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں اور ان کی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایسے نازک ماحول میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب خلیجی خطے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ یہ جنگ بندی وقتی سہی، مگر اس نے ایک ممکنہ بڑے تصادم کو فی الحال روک دیا اور سفارتکاری کے لیے ایک کھڑکی کھول دی۔

اطلاعات کے مطابق اس جنگ بندی کے پسِ پردہ کئی ممالک کی کوششیں شامل تھیں، مگر پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری نے اس میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان نے اس دوران نہ صرف خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی بلکہ بروقت سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ چین اور روس اور جیسے اہم ممالک کے ساتھ مشاورت، اور ایران کے ساتھ قریبی رابطہ اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک متوازن خارجہ پالیسی کے تحت مختلف طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی تسلسل میں سب سے اہم پیش رفت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے وفود کی آمد نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یہ وفود محض رسمی ملاقاتوں کے لیے نہیں آئے بلکہ ان کا مقصد ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز ڈائلاگ کا آغاز کرنا ہے۔ اسلام آباد کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک “خاموش سفارتی پل” کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک جانب وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اس کے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط موجود ہیں۔ یہی توازن اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ دونوں فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد دے سکے۔
تاہم اس عمل کو درپیش چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، خطے میں موجود پراکسی تنازعات، اور امریکہ و ایران کے درمیان بنیادی اختلافات کسی بھی وقت صورتحال کو دوبارہ کشیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ایک طویل اور صبر آزما عمل کا آغاز ہیں، نہ کہ فوری حل۔

پاکستان کے لیے یہ موقع نہایت اہم ہے۔ اگر وہ اس سفارتی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ساتھ ہی یہ اس بات کا ثبوت بھی ہوگا کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر خطے میں استحکام آتا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔ ہر قدم، ہر بیان اور ہر پیش رفت کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہایت محتاط، متوازن اور دور اندیشی پر مبنی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ وہ اس حساس کردار کو کامیابی سے نبھا سکے۔

آج جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک نازک مگر امید افزا مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تو یہ لمحہ محض ایک عارضی جنگ بندی سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر یہ سفارتی عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے، اگر اعتماد کی یہ ابتدائی فضا کسی مستقل مفاہمت میں ڈھل جاتی ہے، تو بعید نہیں کہ تاریخ اسے “Islamabad Accord” کے نام سے یاد رکھے۔ ایک ایسا معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسا نقطۂ آغاز، جہاں پاکستان نے تصادم کے دہانے پر کھڑی دنیا کو ڈائلاگ کی میز تک لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس کے عالمی تشخص کی نئی تعریف ہوگی۔ ایک ایسی ریاست کے طور پر جو طاقت کے توازن میں نہیں بلکہ امن کے قیام میں اپنا وزن ڈالتی ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ کوشش ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے یا واقعی ایک “Islamabad Accord” کی بنیاد رکھتی ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ اسلام آباد نے تاریخ کے اس نازک موڑ پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *