اشرافیہ کے بگڑے ہوئے بچے
تحریر: بدرالدين کلہوڑو
کبھی غور کیا ہے کہ سیاست دانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے بچے اکثر بگڑے ہوئے کیوں ہوتے ہیں؟ یہ کوئی فطری اتفاق نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی عمل کا نتیجہ ہے، جہاں ہر چیز ’’حکم‘‘ سے ملتی ہے، ’’محنت‘‘ سے نہیں۔ جب یہ بچے پیدا ہوتے ہیں تو جھولے سے لے کر اسکول تک ہر کوئی کہتا ہے: “یہ صاحب کا بیٹا ہے، خیال رکھیے گا!” یہی جملہ ان کے گرد ایک ایسا حصار تعمیر کرتا ہے جہاں غرور، خود پسندی اور لاپرواہی پروان چڑھتی ہے۔ ان کے لیے زندگی کی پہلی “نہ” سب سے بڑی توہین بن جاتی ہے۔ انہیں عادت نہیں کہ کوئی انکار کرے، کوئی روکے، یا کوئی ان سے سوال کرے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا ان کے تابع ہے — اور جب ایسا نہ ہو تو وہ دنیا سے شاکی ہو جاتے ہیں۔
ان کی آنکھوں میں محنت کرنے والے بچے عجیب لگتے ہیں، جیسے کسی پسماندہ دور کے انسان کو دیکھ رہے ہوں۔ ان کے نزدیک عزت وراثت ہے، کمائی نہیں۔ ضمیر ان کے لیے شاید کسی پرانی کتاب میں دفن شدہ لفظ ہے۔ ان کے والدین کو ان کی “آزادی” پر فخر ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ آزادی اور لاپرواہی کے درمیان ایک باریک لکیر ہے — اور یہ لکیر طاقت کے محلوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے گھروں میں نوکروں کی بھرمار ہوتی ہے مگر وقت دینے والا کوئی نہیں۔ یوں ان کی بگڑت دراصل ان کے گھروں کی خاموشیت کا شور بن جاتی ہے، ایک ایسی خاموشیت جس میں محبت رسمی اور توجہ مشینی ہو چکی ہے۔ یہی وہ فضا ہے جہاں ایک نیا طبقہ جنم لیتا ہے — جن کے پاس عہدے ہیں مگر اخلاق نہیں، القابات ہیں مگر کردار نہیں۔
سماج میں اب ایک نئی نسل ابھر آئی ہے — نہ مکمل بگڑی ہوئی، نہ مکمل مہذب۔ یہ وہ بچے ہیں جو خود کو خاص اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کی تربیت کتابوں سے زیادہ طاقت کے احساس نے کی ہے۔ وہ ہر کام میں شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں — امتحان سے نوکری تک اور کبھی کبھار اخلاقیات تک بھی۔ ان کے نزدیک ایمان داری پرانی فیشن ہے اور اصول صرف تقریروں کی زینت۔ وہ مہنگے اداروں میں تعلیم پاتے ہیں مگر احساس کی تعلیم کہیں گم ہو جاتی ہے۔ وہ انگریزی میں روانی سے بات کرتے ہیں مگر سچ بولنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ غریبوں کا درد ان کے لیے صرف سوشل میڈیا کی “چیریٹی پوسٹ” کا موضوع ہوتا ہے، جبکہ انصاف والدین کی کرسی کا دوسرا نام۔ یہ نیم فرشتے ہیں، کیونکہ ہمیشہ خود کو درست سمجھتے ہیں، اور نیم بگاڑے، کیونکہ اپنی غلطیوں کو بھی انداز کے ساتھ کرتے ہیں۔ دن میں یہ قوم کو نصیحتیں کرتے ہیں، اور رات میں VIP بوریت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس طاقت، علم اور اثر سب کچھ ہے، مگر اندر ایک گہرا خلا ہے — وہ خلا جو محبت، توجہ اور حقیقی رشتوں کی کمی سے پیدا ہوتا ہے۔
ان کے گھروں میں اقتدار کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے، مگر انہی دیواروں میں سب سے زیادہ تنہائی بسی ہوتی ہے۔ دنیا انہیں رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، مگر ان کے دلوں میں ایک خالی شور گونجتا ہے — وہ شور جو محبت کی کمی سے جنم لیتا ہے۔ ان کے پاس سب کچھ ہے: گاڑیاں، گارڈ، گلیمر اور گریڈ؛ مگر ایک شے نہیں — وقت، جو والدین انہیں نہیں دے پاتے۔ جب محبت ڈیوٹیوں، میٹنگوں اور سیاسی مہمات کے بیچ دب جاتی ہے، تو بچے جذباتی طور پر “یتیم” ہو جاتے ہیں۔ یہ ہیں طاقت کے یتیم — وہ بچے جو والدین کے لقب میں اپنی شناخت گم کر بیٹھے ہیں۔ ان کا تعارف ان کے نام سے نہیں بلکہ والد کے عہدے سے ہوتا ہے۔ ان کی ذات ان القابات کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔ جب کوئی اپنی پہچان کھو دے تو پھر بغاوت ہی اس کی زبان بن جاتی ہے۔ وہ ہنستے ہیں تاکہ دنیا سمجھے کہ خوش ہیں، مگر ان کے اندر ایک سوال ہر روز جنم لیتا ہے: “تم کون ہو، اگر تمہارے نام سے پہلے لقب ہٹا دیا جائے؟” یہ سوال ان کی راتوں کی نیند اور دن کی مسکراہٹ دونوں چھین لیتا ہے۔
یہ نسل طاقت کی وارث ہے مگر محبت سے محروم؛ اثر کی مالک ہے مگر احساس سے خالی۔ ان کے اندر ایک خلا ہے جو کسی بھی محل کی چمک سے نہیں بھرتا۔ طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ کتنے احکامات جاری کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے گھر میں کتنی محبت، عزت اور توازن پیدا کرتے ہیں۔ سیاست، فوج، عدالت اور بیوروکریسی کے ان محلوں میں رہنے والے خاندانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے، مگر تربیت، انسانیت اور اخلاق دائمی ہیں۔ اگر نئی نسل کو طاقت نہیں بلکہ کردار کی وراثت دی جائے، تو شاید اشرافیہ کے یہ ٹرڙا ایک دن معاشرے کے معتبر انسان بن سکیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

