اردو

پہلی مسجد جرمنی کی تعمیر رمضان میں ہوئی

تحریر: انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی

کیا آپ آج کے اس دور میں اس بات پر یقین کریں گے کہ آج سے سو سال پہلے جرمن سلطنت نے بھی ’’جہاد‘‘ کرنے کے لیے اُٹھنی والی ایک آواز کا ساتھ دیتے ہوئے برلن کے قریب ایک جنگی قیدی کیمپ میں جرمنی کی پہلی مسجد تعمیر کروائی تھی، تاکہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف مقدس جنگ ( جہاد) کی تشہیر کی جاسکے۔ ابتک موجود ایک نایاب صوتی ریکارڈ میں آج بھی مؤذن کی اذان کی آواز اس بات کی یاد دلاتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس کی تفصیل اور جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا حقائق چھپے ہوئے تھے ؟

پہلی جنگِ عظیم کے آغاز میں جنگی قیدیوں کو رکھنے کے لیے ایک نام نہاد” ہلال کیمپ “ قائم کیا گیا تھا، جو کہ جرمنی کے موجودہ ضلع ٹیلٹوفلیمنگ ، صوبہ برانڈن برگ کے گاؤں وُنسڈورف میں شہر سوسن کے قریب تھا۔ یہ کیمپ برطانوی اور فرانسیسی افواج سے تعلق رکھنے والے عرب، ہندوستانی اور افریقی جنگی قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہاں تقریباً 30,000 جنگی قیدیوں کو حراست میں رکھا گیا تھا۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ جرمن سلطنت کے اتحادی تھے۔ 15 نومبر 1914 کو سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان خلیفہ نے اُن مسلمانوں کو، جو انگلینڈ اور فرانس کی طرف سے نوآبادیاتی افواج میں بطور سپاہی لڑ رہے تھے، جہاد یعنی مقدس جنگ کا اعلان کرتے ہوئے اپنے نوآبادیاتی حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی اور انہیں ترغیب دی کہ وہ فوج چھوڑ کر اسلامی فریق کا ساتھ اختیار کریں۔
جرمنی نے بھی اس کوشش میں حصہ لیا۔ اس مقصد کے لیے “ادارۂ اطلاعات برائے مشرق “ بنایا گیا جس نے وُنسڈورف کے ہلال کیمپ کے علاوہ قریبی قصبے سوسن میں ایک اسی نوعیت کا دوسرا کیمپ وائن برگ کیمپ بھی قائم کیا۔ مزید برآں، قیدیوں کو اپنے نوآبادیاتی حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور اسلام پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے لیے ان میں “الجہاد” نامی پروپیگنڈا اخبار بھی تقسیم کیا جاتا تھا۔
تاہم اسلامی قیدیوں کو قائل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی حوصلہ افزائی تھی۔ مثال کے طور پر رمضان المبارک کا احترام کیا جاتا تھا اور اس دوران خوراک سورج غروب ہونے کے بعد تقسیم کی جاتی تھی۔ 13 جولائی 1915 کو استنبول کے مفتی کی درخواست پر ہلال کیمپ میں جرمنی کی سرزمین پر عبادت کے لیے مخصوص پہلی باقاعدہ مسجد قائم کی گئی۔ وُنسڈورف کی یہ مسجد لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔ 9 جولائی 1915 کو برلن کے اخبار ]]برلنر ٹاگے بلٹ “ نے ایک سنسنی خیز خبر اپنے صبح کے شمارے کے صفحے نمبر چھ پر پر کچھ اس انداز میں چھاپی تھی کہ یہ خبر آسانی سے نظر سے اوجھل ہی رہے۔ خبر یہ تھی کہ
’’قیدی کیمپ میں مسجد‘‘، جرمن سرزمین پر پہلے اسلامی عبادت خانے کے افتتاح کا اعلان کردیا گیا ہے ،

وُنسڈورف کےقیدی کیمپ میں بہت سارے قیدی پکڑ کر رکھے گئے ہیں جو ہمارے مشرقی دشمن فرانس اور انگلینڈ کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اس کمیپ کو ’ہلال کیمپ‘ کا نام دیا گیا ہے، گزشتہ ہفتوں میں اُس کیمیپ میں ایک ایسی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو برانڈنبرگ کی سرزمین پر خاصی غیر معمولی دکھائی دیتی ہے۔ “ مضمون میں مزید کہا گیا کہ “نظر بند مسلمانوں کی مذہبی ضروریات پوری کرنے کے لیے پروشین فوجی انتظامیہ نے ایک ایسی مسجد تعمیر کروائی جو باریک ترین جزئیات تک مشرقی عبادت گاہوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ عثمانی سفیر اور اعلیٰ جرمن فوجی افسران کی موجودگی میں رمضان المبارک کے آغاز پر باقاعدہ طور پر مسجد کا افتتاح کیا گیاہے۔”
اگرچہ اس سے پہلے بھی چند “آرائشی مساجد” موجود تھیں، مثلاً شہر ڈریسڈن، شہر پوٹسڈام یا شوَیتسنگن میں، لیکن وہ عبادت کے لیے استعمال نہیں ہوتی تھیں بلکہ اُس زمانے کے شہری یا باغیچہ ساز منصوبہ سازوں کے مشرقی طرز کے شوق اور جمالیاتی رجحانات کی نمائندگی کرتی تھیں۔ ُونسڈورف میں مگر پہلی بار جرمنی بلکہ پورے وسطی یورپ میں مسلمانوں کے لیے باقاعدہ طور پر ایک مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا برملا اظہار ماہرِ علومِ اسلام مسٹر گیھرڈ ہوپ نے اپنی تحریروں میں بارہا کیا ہے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ دورانِ جنگ پیرس اور لندن میں مساجد تعمیر کرنے کے ملتے جلتے منصوبے ناکام ہو گئے تھے۔برلن کے نواح میں اس مسجد کی تعمیر کا خیال سلطنتِ عثمانیہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جو پہلی جنگِ عظیم میں جرمن سلطنت کی اتحادی تھے۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اپنے اُن ہم مذہب افراد کے لیے، جو جنگی قید میں تھے، مذہبی عبادات کی ادائیگی کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، چاہے وہ جنگ میں مخالف فریق کی جانب سے ہی کیوں نہ لڑے ہوں۔جرمن وزارتِ خارجہ اور فوجی حکام، جنہوں نے محض پانچ ہفتوں میں تعمیر ہونے والی اس لکڑی کی عمارت کے اخراجات برداشت کیے تھے، اس موقع کو بیرونِ ملک سلطنت کی ترقی پسند رواداری ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ساتھ ہی یہ مقصد بھی تھا کہ مسلمان قیدیوں میں سے سلطنت کے مقصد کے لیے نئے سپاہی بھرتی کیے جائیں۔
افتتاحی تقریب میں اسلامی عالم محترم محمد ال حیدر حسین نے اپنی تقریر کا آغاز اُس وقت کے بادشاہ کے حق میں نعرۂ تحسین سے کیا اور اُن کی فتح کے لیے دعا بھی کی تھی۔ جرمن-عثمانی فوجی اتحاد کے حق میں کی جانے والی یہ پروپیگنڈا تقریر بعد میں عربی، روسی اور ترک ۔تاتاری زبانوں میں کیمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شائع ہونے والے اخبار” الجہاد” میں بھی شائع کی گئی تھی۔ ُونسڈورف کی مسجد، جس میں چار سو سے زائد نمازیوں کی گنجائش تھی، قیدیوں کے لیے دن رات کھلی رہتی تھی۔ اسے نہ صرف جمعہ کی نماز اور دیگر اہم اسلامی تہواروں کے موقع پر استعمال کیا جاتا تھا بلکہ مذہبی تعلیم، قرآن کے مطالعے اور میت کو غسل دینے کے لیے بھی بروئے کار لایا جاتا تھا۔
اسی کے ساتھ یہ مسجد اُن افراد کی حلف برداری کے لیے بھی باوقار پس منظر فراہم کرتی تھی جو قرآن پر ہاتھ رکھ کر مستقبل کے مجاہدین کے طور پر عہد کرتے تھے۔ 4 نومبر 1914 کو سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان خلیفہ محمد پنجم ، قسطنطنیہ( استنبول) نے جرمنی کی دباؤ پر، تمام مسلمانوں کو روس، انگلینڈ اور فرانس کے خلاف مقدس جنگ (جہاد) کے لیے پکارا تھا۔
تاہم وُنسڈورف کیمپ میں جرمنوں کی جانب سے زور دی جانے والی جہاد کی تبلیغ کا اثر محدود رہا۔ برلن کے قریب 1914 میں قائم دو خصوصی کیمپوں میں تقریباً 16,000 مسلمان قیدی تھے، لیکن ان میں سے صرف تقریباً 2,000 قیدی ہی یقین دہانی کروا کر اس بات پر آمادہ کیے جا سکے کہ وہ وسطی طاقتوں کے ساتھ عربی جزیرہ نما میں برطانوی اور فرانسیسی افواج کے خلاف جنگ لڑیں گے۔
پہلی جنگ عظیم کے خاتمے اور تمام قیدیوں کی رہائی کے بعد اس عبادت گاہ کو ابتدائی طور پر بدستور استعمال کیا جاتا رہا ۔ خاص طور پر اُن روسی جنگی قیدیوں کی طرف سے جو خانہ جنگی سے تباہ حال اپنے وطن واپس نہیں جانا چاہتے تھے، اور اُن مسلمانوں کی طرف سے جو تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع دارالحکومت میں آباد ہو چکے تھے۔ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر مؤذن مسلمانوں کو “جرمنی کے مکہ” کی طرف بلاتا تھا، جیسا کہ 1923 میں جرمنی برلن کے اخبار “برلنر مورگن پوسٹ” نے لکھا تھا۔1924 میں خستہ حالی کے باعث اس مسجد کو بند کرنا پڑا اور 1925/26 میں افسوس کہ اسے منہدم بھی کر دی گئی۔
و ُنسڈورف میں مسجد اسٹریٹ ابتک موجود ہے جو جرمنی کی پہلی مسجد کی یاد دلاتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *