تاریخسیاستشخصیتشعبہ انٹرنیشنل

ڈاکٹر مصدق سے مابعد خامنہ ای تک

Share your Love

تحریر: علی احمد جان

تاریخ میں مذکور ملک فارس کو ایران کا نام 1935 ء میں اس وقت کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے دیا۔ یہ تبدیلی محض لفظی نہیں تھی بلکہ آریاؤں کی سرزمین کے طور پر ایک نئی قومی شناخت کی تشکیل کی کوشش تھی۔ اس کا مقصد ملک کی وسیع تر تاریخی وراثت کی عکاسی کرنا تھا، جبکہ فارس صرف ایک علاقے سے منسوب تھا۔ رضا شاہ، جو اصل میں رضا خان کے نام سے مشہور تھے، 15 مارچ 1878 ء کو صوبہ مازندران کے گاؤں آلاشت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عباس علی خان ایک فوجی افسر تھے اور والدہ نوش آفرین آیرملو ترک نژاد تھیں۔ رضا خان نے 1921 ء میں ایک فوجی بغاوت کی قیادت کی اور تہران پر قبضہ کر لیا۔ پہلے وزیر جنگ اور پھر وزیر اعظم بننے کے بعد ، انہوں نے 15 دسمبر 1925 ء کو قاچار خاندان کے آخری بادشاہ احمد شاہ قاچار کو معزول کر کے خود کو بادشاہ قرار دے دیا۔ اس طرح پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب مشرق و سطیٰ میں تیل کی دریافت نے عالمی طاقتوں کی توجہ اس خطے کی طرف مبذول کر دی تھی۔ برطانیہ اور سوویت یونین جیسی طاقتیں ایران کے اندرونی معاملات میں گہری مداخلت کر رہی تھیں۔ رضا شاہ اگرچہ ایک طاقتور حکمران تھے، لیکن ان کا اقتدار مغربی طاقتوں، خاص طور پر برطانیہ، کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ شروع میں تیل کی اصل افادیت سے شاید لوگ واقف نہ تھے۔ صدیوں سے لوگ سونا، چاندی، فصلیں اور مال مویشی کی لوٹ مار سے واقف تھے، لیکن زمین سے نکلنے والے اس گدلے مادے کی اہمیت کا اندازہ وقت کے ساتھ ہوا۔ جب یہ احساس ہوا کہ یہ کالا سونا کارخانوں کے انجن چلاتا ہے، ہوائی جہازوں کو پرواز دیتا ہے اور فوجی مشینری کو طاقت فراہم کرتا ہے، تب تک ایران کا تیل برطانوی کمپنیوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔

ڈاکٹر محمد مصدق 16 جون 1882 ء کو تہران کے ایک اشرافیہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا ہدایت آشتیانی قاچار دور میں وزیر خزانہ رہ چکے تھے اور والدہ شہزادی نجم السلطنہ قاچار شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ مصدق نے فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کی اور 1914 ء میں یونیورسٹی آف نیوشیٹل سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ 1949 ء میں ڈاکٹر مصدق نے جبہ ملی ایران کی بنیاد رکھی۔ یہ جماعت مختلف قوم پرست، ترقی پسند اور جمہوریت پسند گروہوں کا اتحاد تھی۔ اس کے منشور میں بادشاہ کے اختیارات کو محدود کرنا، حقیقی جمہوری حکومت کا قیام، غیر ملکی تسلط کا خاتمہ اور تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینا شامل تھا۔ نیشنل فرنٹ کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اپریل 1951 ء میں ڈاکٹر مصدق وزیر اعظم بن گئے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ حسب وعدہ تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینا تھا۔ 15 مارچ 1951 ء کو ایرانی پارلیمنٹ نے تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینے کا بل منظور کر لیا۔ یہ فیصلہ برطانیہ کے لیے ایک زبردست دھچکا تھا۔ اینگلو۔ ایرانی آئل کمپنی کئی دہائیوں سے ایران کے تیل سے بے پناہ منافع کما رہی تھی، جبکہ ایران کو معمولی حصہ ملتا تھا۔ برطانیہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں اور بین الاقوامی سطح پر مصدق کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ حربے ناکام ہو گئے تو برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ مل کر بغاوت کی سازش کی۔ آپریشن ایجیکس کے نام سے مشہور اس سازش میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی 6 نے مل کر کام کیا اور نتیجتاً 19 اگست 1953 ء کو مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ انہیں گرفتار کر کے غداری کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک نظر بند رہے اور 5 مارچ 1967 ء کو 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر مصدق کی میراث آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کو استعماری تسلط، معاشی استحصال اور سماجی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت کا ایسا شعور دیا جو کبھی ختم نہیں ہوا۔

1953 ء کی بغاوت کے بعد محمد رضا شاہ پہلوی واپس آ گئے۔ انہوں نے اپنے وفادار دوست اسد اللہ علم کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ اسد اللہ علم کی ڈائریاں، جو ان کی موت کے بعد شائع ہوئیں، شاہی محل کے اندرونی حالات پر ایک منفرد نظر ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ شاہ نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ خفیہ پولیس ساواک کو مضبوط کیا گیا، سفید انقلاب کے نام سے اصلاحات کا ایک پروگرام شروع کیا گیا، اور تیل کی قومیائی گئی صنعتوں کو واپس مغربی کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا، جس کا پچانوے فیصد منافع برطانوی مالکان کو جاتا تھا۔ بظاہر ایران ترقی کر رہا تھا۔ اقتصادی ترقی کے اعداد و شمار شاندار تھے۔ تہران میں فیشن انڈسٹری پیرس کا مقابلہ کر رہی تھی۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے حقیقت کچھ اور تھی۔ تیل کی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا، مغربی طرز زندگی کے فروغ نے روایتی اقدار کو نقصان پہنچایا، سیاسی جبر نے عوام میں غم و غصے کو ہوا دی، اور مذہبی طبقے کو پسماندہ کر دیا گیا۔ یہ وہ عوامل تھے جو آنے والے انقلاب کی بنیاد بنے۔

امام خمینی کی سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز 1962 ء میں ہوا۔ اس وقت وزیر اعظم اسد اللہ علم کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایک قانون میں ترمیم کی جس کے تحت منتخب ہونے والوں کے لیے مسلمان ہونا اور قرآن پر قسم کھانا لازمی نہیں رہا تھا۔ امام خمینی نے قم کے حوزہ علمیہ میں اس قانون کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ یہ قانون اسلام کے خلاف ہے اور ملک کی شناخت کو خطرہ ہے۔ ان کی قیادت میں علما نے متحد ہو کر احتجاج کیا اور بالآخر حکومت کو یہ قانون واپس لینا پڑا۔ 3 جون 1963 ء کو امام خمینی نے مدرسہ فیضیہ قم میں ایک تاریخی تقریر کی جس میں انہوں نے شاہ کو براہ راست نشانہ بنایا۔ اس تقریر کے نتیجے میں 4 جون 1963 ء کو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ امام خمینی کی گرفتاری کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی اور 5۔ 6 جون 1963 ء کو تہران، قم، شیراز، مشہد اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ شاہ کی فوج نے ان مظاہروں کو بے رحمی سے کچلا اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ اسلامی تحریک کے پہلے بڑے عوامی قیام کے طور پر تاریخ میں درج ہوا۔ 1964 ء میں شاہ کی حکومت نے امریکی فوجی مشیروں کو قانونی استثنا دے دیا۔ امام خمینی نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور اسے ایران کی قومی خودمختاری کی توہین قرار دیا۔ ان کی اس مخالفت کے نتیجے میں انہیں 4 نومبر 1964 ء کو ترکی اور پھر عراق جلاوطن کر دیا گیا۔ عراق میں جلاوطنی کے دوران امام خمینی نے اپنے مشہور دروس کی صورت میں ولایت فقیہ کا نظریہ پیش کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام میں غیبت کبریٰ کے دور میں بھی ایک عادل فقیہ کی قیادت میں اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے۔ اس نظریے نے آنے والے انقلاب کی نظریاتی بنیاد فراہم کی۔

1979 ءکا انقلاب متعدد عوامل کا نتیجہ تھا۔ سیاسی جبر، اقتصادی عدم مساوات، سماجی تفاوت اور غیر ملکی مداخلت ان اہم عوامل میں شامل تھے۔ 16 جنوری 1979 ء کو شاہ ایران ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ یکم فروری 1979 ء کو امام خمینی 14 سال کی جلاوطنی کے بعد ایران واپس آ گئے۔ لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ 11 فروری 1979 ء کو شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور اسلامی انقلاب کامیاب ہو گیا۔ انقلاب کے بعد دو اہم ریفرنڈم منعقد ہوئے۔ پہلا ریفرنڈم 30۔ 31 مارچ 1979 ء کو ہوا جس میں 98.2 فیصد نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسرا ریفرنڈم 2۔ 3 دسمبر 1979 ء کو ہوا جس میں نئے آئین کی منظوری دی گئی۔ آئین نے ولایت فقیہ کے نظریے کو بنیاد بنایا اور آیت اللہ خمینی کو ایران کا پہلا رہبر انقلاب قرار دیا گیا۔

4نومبر 1979 ء کو ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے 90 افراد کو یرغمال بنا لیا، جن میں 66 امریکی شہری تھے۔ یہ بحران 444 دن تک جاری رہا اور 20 جنوری 1981 ء کو یرغمالیوں کی رہائی پر ختم ہوا۔ اس واقعے کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے جو آج تک بحال نہیں ہو سکے۔ امام خمینی کی خارجہ پالیسی کا نچوڑ نہ مشرق، نہ مغرب کا نعرہ تھا۔ انہوں نے امریکہ کو بڑا شیطان قرار دیا، سوویت یونین کو چھوٹا شیطان کہہ کر دوری اختیار کی، اور انقلاب کو برآمد کرنے کی پالیسی اپنائی۔ انقلاب کے بعد اندرونی سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گیا۔ نیشنل فرنٹ، مجاہدین خلق اور تودہ پارٹی جیسی جماعتوں کو رد انقلاب قرار دے کر ان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں ڈالے گئے اور لاکھوں افراد جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔

3جون 1989 ء کو امام خمینی کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد آئین میں ترمیم کر کے رہبر انقلاب کے لیے مرجع تقلید کی شرط ختم کر دی گئی۔ اس ترمیم کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای، جو امام خمینی کے قریبی ساتھی اور شاگرد تھے، رہبر انقلاب منتخب ہو گئے۔ 1989 ء کی آئینی ترمیم میں دیگر تبدیلیاں بھی شامل تھیں۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا، انتظامی اختیارات صدر کو تفویض کر دیے گئے، اور مصلحت نظام کونسل کو مستقل ادارے کا درجہ دے دیا گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کے طویل دور حکومت کی چند خصوصیات میں پاسداران انقلاب کی تقویت، انقلاب کی برآمد کی پالیسی کا جاری رہنا، اقتصادی چیلنجز، جوہری پروگرام کا تنازع، اور مختلف ادوار میں عوامی احتجاج شامل ہیں۔

13 ستمبر 2022 ء کو تہران کے میٹرو اسٹیشن پر ایران کی گشت ارشاد نامی اخلاقی پولیس نے مہسا امینی نامی 22 سالہ کرد خاتون کو حجاب صحیح طریقے سے نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ تین دن بعد 16 ستمبر 2022 ء کو حراست میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مہسا امینی کی موت نے ایران میں بھرپور احتجاج کو جنم دیا۔ مظاہرے ایران کے تمام 31 صوبوں میں پھیل گئے، مرکزی نعرہ خواتین، زندگی، آزادی تھا، خواتین نے عوام میں حجاب اتار کر احتجاج کیا، اور حکومت نے ان مظاہروں کو سختی سے کچل دیا۔

دسمبر 2025 ء میں تہران کے گرینڈ بازار سے تاجروں کا احتجاج شروع ہوا۔ تاجر طبقہ 1979 ء کے انقلاب کا مالی ستون تھا جس نے مذہبی طبقہ کو اقتدار میں لانے میں مدد دی تھی۔ لیکن کئی دہائیوں میں ان کا سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ کم ہوتا گیا جبکہ پاسداران انقلاب کا معیشت پر کنٹرول بڑھتا گیا۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ اقتصادی بحران اور کرنسی کی قدر میں زبردست گراوٹ تھی۔ ابتدائی مطالبات معاشی تھے جو بعد میں سیاسی ہو گئے۔ یہ احتجاج تہران سے شروع ہو کر ملک کے 31 صوبوں کے 111 شہروں تک پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس احتجاج میں کم از کم 3379 اموات، ہینگاؤ کے مطابق پہلے 17 دنوں میں 3000 سے زائد شہری ہلاک، اور فروری 2026 تک 7000 سے زائد ہلاکتیں تصدیق شدہ ہیں۔

2026 ء کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس وقت تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال 1953 ء کی بغاوت کی یاد دلاتی ہے جب مغربی طاقتوں نے ایران کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ محمد رضا شاہ پہلوی کا بیٹا رضا پہلوی 1953 ء کی تاریخ دوہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ امریکہ میں مقیم ہے اور بادشاہت کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب لوگوں کے بنیادی مسائل کا مداوا نہیں کیا جاتا تو انقلاب زیادہ شدت سے آتا ہے۔

پاکستانی دانشور سید سبط حسن نے اپنی مشہور زمانہ کتاب انقلاب ایران میں 1979 ء کے انقلاب کو ادھورا قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف استعمار کے تسلط سے آزادی ہی کافی نہیں، سماجی نا انصافی، معاشی ناہمواری اور عدم مساوات جب تک موجود رہے گی، انقلاب بھی جاری رہے گا۔ ایران میں آج معاشی و اقتصادی بحران 1953 ء اور 1979 ء سے زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ اگر اس کا مداوا نہ ہوا تو ایک اور انقلاب زیادہ شدت سے آئے گا اور اس کے نتائج زیادہ سنگین ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے عوام کے بنیادی حقوق کا احترام نہیں کرتیں، وہ عوام کے غصے کا شکار ہوتی ہیں۔ ایران آج ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ عوامی خواہشات اور عالمی تقاضوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *