سیاستقومیمتفرق

ریاست کا بیانیہ

تحریر: عبیداللہ خان

اپنی گزشتہ تحریر ”جمہوریت کا نوحہ” میں راقم الحروف نے وطن عزیز میں جمہوریت کے ساتھ ریاست کے پیہم رویے کو موضوع بنایا تھا۔ اس کے بعد ہمارے میڈیا کے افق پر مکرم سہیل وڑائچ صاحب کے کسی تصوراتی ‘ونڈر بوائے’ کا غلغلہ ہونے لگا جس کی وضاحت موصوف نے کچھ یوں کی کہ یہ ایک افسانوی کہانی ہی تھی مگر یہ لکھنے کی نوبت یوں آئی کہ من جملہ دیگر وجوہات کے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت سے بیانیہ نہیں بن پارہا جو مخالف بیانیے کو شکست دے کر حکومتی یا دوسرے لفظوں میں سرکاری موقف کا عوام میں بول بالا کرسکے۔ یا آسان لفظوں میں خان صاحب کے بیانیے کو شکست دے پائے۔

کہا جاتا ہے کہ خان صاحب کو مقبول بنانے میں سوشل میڈیا اور ریاستی اداروں کی پشت پناہی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1996ءسے لیکر اکتوبر 2011 تک ان کے کسی بیانیے کو یہ مقبولیت نہ مل سکی تھی۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے خان صاحب کے اس اثر کو قبول کیا وہ وہی تھی جو اس سے قبل ایک منظم پراپیگنڈہ کے تحت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مقبول راہنماو¿ں کو بدنام کئے جانے کا اثربھی قبول کئے بیٹھے تھے جن میں اضافہ وہ نوجوان نسل تھی جنہوں نے مشرف کی آمریت میں ہوش سنبھالا تھا۔ ان روایتی سیاسی جماعتوں اور انکے راہنماو¿ں کے خلاف پیدا کی گئی نفرت نے ہی دراصل وہ خلا پیدا کیا تھا، جسے بعد ازاں، سوشل میڈیا کے ذریعے مسحور کیے گئے عوام، میں ایک نئی شخصیت اور بیانیے کو لیکر پُر کیا گیا۔ اس لئے یہ کھیل صرف بیانیے کا ہی نہیں ہے بلکہ ایک منظم مہم جوئی کا ہے جس میں آج سوشل میڈیا کا بنیادی کردار ہے۔ تیسری دنیا کی دیگر اقوام کی طرح ہم بھی نظام کی بجائے شخصیت پرست قوم ثابت ہوئے ہیں یا ایک مسلسل کوشش سے بنا دیے گئے ہیں۔ اس لئے یہاں بیانیے سے بڑھ کر شخصیت کی اہمیت ہے۔ اگر شخصیت قبولیت پائے گی تو اسکا بیانیہ بھی قبولیت عام پائے گا اور اگر شخصیت کے خلاف نفرت ہوگی تو آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے، کے مصداق اسکے ہر اچھے کام کوبھی گہنا دیا جائے گا حتیٰ کہ کسی شخصیت کا اثر نفسیاتی طور پر اس حد تک بھی حاوی نظر آتا ہے کہ بدقسمتی سے ریاست اور اسکے ادارے بھی دشمن نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ اور سوچ کسی بھی ریاست اور عوام کی اجتماعی نفسیات کےلئے بھی نہایت خطرناک ہے۔

جس طرح ایک کمزور جسم بیماری کے اثر کو بہت جلدی قبول کرتا ہے اسی طرح علم و آگہی سے محروم انسان کسی بھی بیانیے کو قبول کرنے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ انگریزی کا محاورہ ہے کہ One who stands for nothing falls for anything۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت نے پہلے روایتی سیاستدانوں سے بیزاری اختیار کی اور بعد ازاں سوشل میڈیا نے انکی اپنی مرضی کے مطابق ذہن سازی کی۔ اس لئے ہمیں اپنے عوام کو بیانیے کی بجائے سب سے پہلے حقیقی شعور اور آگاہی دینی ہوگی۔ اس مقصد کےلئے فی الحال ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالا ہوکر ریاست کے بیانیے کو فروغ دینا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔

ریاست کا بیانیہ کیا ہے؟ جو کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہونا چاہیے۔ وہ یہ کہ عوام کو جدید فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں اور نظریات سے آگاہ کیا جائے۔ ریاست کے بنیادی مقصد اور اسکی اہمیت کو عوام پر واضح کیا جائے۔ ریاست کا اختیار اور عوام کے بنیادی انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں؟ ریاست کے نظم و نسق چلانے کے لئے آئین کی اہمیت اور اسکے کردار کو واضح کیا جائے۔ جمہوریت کا درست تصور اور اسکاتقابل دیگر نظام سے کرکے عوام کو باور کروایا جائے کہ جمہوریت کیوں بہترین نظام حکومت ہے؟ ریاست کے بنیادی اہم ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کا تفصیلی تعارف ، ان میں طاقت کا توازن اور جوابدہی کا نظام کیسے پیدا کیا جاتا ہے۔ انکی حدود کیا ہیں۔ اور کیوں ایک ریاستی ستون کو دوسرے ستون کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے؟ پھر ان ستونوں میں توازن کیسے برقرار رکھا جانا چاہئے۔ نظام کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟ اسے کیوں شخصیات سے بالا رہنا چاہئے؟ شخصیت پرستی کیوں ایک موذی مرض ہے جو انسان کی اپنی شخصیت اور مزاج کی حریت کو مسخ کردیتا ہے۔

ریاست کے اس بیانیے کی ترویج و اشاعت آج تک ہماری ترجیح نہیں رہی ہے۔ اسکے بالمقابل عوام کو تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم کئے رکھنا ہماری روایت ہے۔ یہ سب کچھ مطالعہ پاکستان کے عنوان میں پڑھایا جاتا ہے اوراسے یونیورسٹی کی سطح تک لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اقوام کی تاریخ بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ لیکن صرف تاریخ پڑھانا اور عصری تقاضوں کو نظر انداز کردینا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ جبکہ مہذب اور ترقی یافتہ اقوام معاشرتی علوم (Social Studies)  کے مضامین میں بچوں کو ابتدا سے ہی ریاست اور انسانی حقوق کے معاملات کا بنیادی علم دینا شروع کردیتی ہیں۔

ہم آج اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ ریاست کی بجائے یہ سب معلومات اور نام نہاد’ شعور’ عوام کو سوشل میڈیا سے ہی مل رہا ہے۔ جہاں یوٹیوبر اور سوشل میڈیا کی موثر آوازیں جنہیں عرف عام میں social media influencers کہا جاتا ہے، حقیقی شعور اور آگہی سے بے بہرہ عوام کے دماغوں کو اپنی جانبداری اور مفاد کے تحت ادھوری اور مسخ شدہ معلومات دے کر انکو گمراہ کر رہے ہیں۔

چند سال قبل پنجاب کی ایک نجی جامعہ  نے طلبا کے لئے ایک سمسٹر میں بنیادی قوانین پر مبنی ایک نصاب متعارف کروایا۔ جو اس وقت لازمی قرار دیاگیا۔ اس مضمون میں ریاست کے بنیادی خدوخال،آئین ، بنیادی انسانی حقوق اور روز مرہ معاملات سے متعلق کچھ قوانین طلبا کو پڑھائے گئے۔ اس جامعہ سے الحاق شدہ ایک تعلیمی ادارے میں طالبات پر مشتمل جماعتوں کو یہ مضمون پڑھانے کا اس عاجزکو ،قانون کا طالبعلم ہونے کے ناتے ،موقع ملا۔ تو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ یہ بنیادی نوعیت کی معلومات ایسی ہیں کہ جامعہ کی سطح کے طلبا بھی ان سے نابلد ہیں۔ دوران تدریس اس عاجز کی یہی کوشش رہی کہ ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالا ہوکر صرف اصولوں اور بنیادی تصورات پر ہی بات کی جائے۔ تاہم میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ جب سمسٹر کے اختتام پر جائزہ لیا گیاتو ان طالبات کی سوچ، جو ابتدا میں سیاسی، معاشرتی اور سیاسی سمجھ بوجھ کے لحاظ سے ویسی ہی خام تھیں، جیسی ہمارے معاشرے کی اکثریت کی ہیں، اس قدر بہتر ہوگئیں کہ سیاسی شخصیات کی جذباتی وابستگی سے بالاہو کر اصولوں اور بنیادی تصورات کی روشنی میں سیاسی اور معاشرتی معاملات کو تولنے لگیں۔ اکثر آوازیں جو جمہوریت اور آئین کے خلاف نظر آتی تھیں انکی سوچ کا رخ یکسر تبدیل ہوکر ان موضوعات پر آگیا جس وجہ سے جمہوریت اور آئین ناکام نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ یہ مضمون محض تین سال بعد ہی ختم کرکے اسکی جگہ اسی روایتی ریاستی پالیسی نے لے لی۔

لہٰذا ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اس ریاستی بیانیے کو نصاب تعلیم کا حصہ بنانا ہو گا۔ مطالعہ پاکستان کی بجائے ریاستی بیانیے پر مبنی معاشرتی علوم پڑھانے کو لازم کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ہمیں ایسے علما اور اساتذہ کی ترویج کرنی ہوگی جو ہر قسم کی سیاسی جماعتوں کی طرفداری یا مخالفت سے بالا ہوکر صرف ریاست کے بیانیے کی نشر و اشاعت کر سکیں۔ اور اس بات کا اہتمام بھی ضروری ہے کہ ایسا بیانیہ پیش کرتے وقت کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے مخالفت اور حمایت دونوں سے مکمل احتراز کیا جائے۔ اور محض نظریات اور حقائق پر بات کی جائے۔ جب ایک مناسب اور متوازن تجزیہ سیاسی وابستگی اور کسی کی مخالفت سے بالا پیش کیا جائیگا تو عوام اسے قبول کرنے میں عار نہیں سمجھیں گے۔پھر ہمیں یہ سوال بھی پیش نہیں ہوگا کہ ووٹر کی عمر 18 سال سے 25 سال کی جانی چاہئے یا نہیں؟گو یہ حل فوری نوعیت کا نہیں ہے اور ایک لمبے عرصے پر محیط پالیسی اور اسکا تسلسل چاہتا ہے۔ لیکن ہمیں کبھی تو اسکی شروعات کرنی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *