اسلامتاریخمذہبمعاشرہ

عدل و احسان اسلام کا طرزِ حیات

تحریر: ڈاکٹر عائض القری

 آپﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں عدل وانصاف کو عام کیا اور اسے دل و دماغ میں راسخ اورپختہ کر دیا، انسانی آزادی یقینی بنائی اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالا۔

 نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺ نے اپنے اہل و عیال ، اصحاب، خاندان اور قیامت تک آنے والے ہر اس شخص کے ساتھ احسان کیا جسے آپ کا قرب نصیب ہوا اور وہ آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوا۔آپ ﷺ سے بڑھ کر عدل و انصاف کرنے والا بھی کوئی نہیں۔آ پ ﷺسب سے عظیم خیر خواہ تھے کہ آپ نے لوگوں کو ہدایت کی راہ دکھائی۔ لوگوں کو گمراہی کے راستے سے بچایا۔ آپ سب سے بڑے ہادی تھے کہ آپ نے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں عظیم کامیابیوں سے ہمکنار کیا اور انہیں بہت بڑے خطرات سے نجات دلائی۔

آپ ﷺ نے لوگوں پر نیکی، رحمت و شفقت اور لطف و کرم کرکے بھی احسان کیا۔ آپ ﷺ نے خوبصورت ترین اعمال، نرم ترین کلمات، لطیف ترین لمس اور نہایت مبارک دعائوں کے ساتھ بھی احسان کیا اور لوگوں کو ہر محسن کا بدلہ دینے کا حکم دیا، خواہ دعا کے ساتھ ہی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:۔’’جو تمہارے ساتھ نیکی کرے، اسے اس کا بدلہ دو۔ اگر تمہارے پاس اسے بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو اس کے لئے دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے‘‘۔(سنن ابی داؤد، الزکاۃ، حدیث :7216)

سید نا عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے پانی مانگا تو میں نے آپ ﷺ کے پاس ایک برتن میں پانی دیا۔ اس میں ایک بال تھا۔ میں نے وہ نکالا اور پھر آپ ﷺ کو پانی پیش کیا تو آپ ﷺ نے دعا دی۔ ’’اے اللہ ! اسے خوب سیرت و خوبصورت بنا دے‘‘۔(مسند احمد، حدیث22881۔22883)۔

آپ ﷺ ’’احسان کا بدلہ احسان ہی ہے‘‘ پر سب سے بہترین عمل کرنے والے تھے۔ احسان کے ساتھ آپ ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ آپ ﷺ نے اپنے نواسوں کے نام حسن و حسین اور محسن رضی اللہ عنہم رکھے، در حقیقت احسان آپ ﷺ کا طرز حیات اور خوبصورتی آپ ﷺ کا منہج اور سیرت تھی۔

آپ ﷺ ایسا دین لائے جس کی ہر بات حسین ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کیا ہو سکتی ہے جس نے (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کئے اور کہا:بے شک میں تو فرماں برداروں میں سے ہوں‘‘(حمٓ السجدۃ :3341)۔ اسلام کی تعلیمات سننے میں بھی حسین ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’وہ لوگ جو بات کان لگا کر غور سے سنتے ہیں، پھر پیروی کرتے ہیں۔ اس میں سے سب سے اچھی بات کی، یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے انہیں ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں‘‘(الزمر18:39)۔

اور آپ ﷺ فرماتے:’’ بلا شبہ تم میں سب سے بہترین وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں‘‘(صحیح البخاری، الادب، حدیث:6035)۔انصار کے ساتھ آپ ﷺ کے احسان کا نمونہ اس وقت سامنے آیا جب آپ نے ان کے سامنے غزوہ حنین کے دن خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا، پھر تمہیں میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی۔ تم آپس میں دشمنی اور اختلاف کا شکار تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تم میں باہم الفت پیدا کی۔ تم محتاج تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں غنی کیا۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لے جائو؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ لوگ، خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں رہیں، میں تو انصار کی گھاٹی اور وادی میں رہوں گا‘‘(صحیح البخاری، المغازی، حدیث: 4330)۔

آپ ﷺ نے توغیر مسلموں کے ساتھ بھی احسان کیا کہ انہیں نہایت عمدہ دعوت پیش کی۔ ان کے ساتھ عدل و انصاف والا معاملہ کیا، ان سے نہایت احسن انداز میں بحث کی اور ان پر حجت قائم کردی۔جب آپ ﷺ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو اہل کتاب یہود کے ساتھ حسن معاملہ کی نہایت اعلیٰ اور خوبصورت مثال قائم کی۔ انہیں امن و سلامتی کے مشترکہ معاہدے اور مدینہ کے دفاع کے لئے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی دعوت دی۔ ان کے حقوق کے تحفظ کی مکمل گارنٹی دی اور انہیں اچھے انداز سے اسلام کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ ساتھ درج ذیل ارشاد باری پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا حکم نافذ کیا اور اس میں ذرہ مْداہنت نہ کی:۔’’اللہ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان سے انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘(الممنحنۃ :8:60)۔اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تم اہل کتاب سے احسن انداز ہی سے بحث و تکرار کرو، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سےظالم ہیں‘‘(العنکبوت:46:29)۔

آپؓﷺ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا اور نیکی و احسان والی وہ شریعت لائے جس نے اللہ کے حق کے ساتھ ہی والدین کے حقوق کا ذکر کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے اچھا سلوک کرو‘‘(بنی اسرائیل23:17)۔ آپﷺ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا درس دیا، بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ ہو، آپ ان کے لئے دعا کرنے، ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنے اور ان کی شکر گزاری کا حکم دیتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت، توحید اور حق شکر گزاری کے ساتھ والدین کے حق کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ (اور) یہ کہ تو میرا اور اپنے والدین کا شکر کر‘‘(لقمان 14:31)۔

اسی طرح اگرعدل و انصاف کی بات کی جائے تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعت، اولیاء کرام اور اصفیاء کا اخلاق و دستور ہے۔ اسی سے دنیا کی بقا اور کائنات کا نظام قائم ہے اور اسی میں انسانیت کی سعادت ہے۔عدل و انصاف سے تہذیب و تمدن پروان چڑھتا ہے۔ بھائی چارے اور اتفاق و اتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ فتنے دب جاتے ہیں۔

عزت و حرمت محفوظ ہوتی ہے اور حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔ خوشگوار انسانی زندگی کا استحکام صرف عدل ہی سے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘(النساء58:4)۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اور آپ کا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں‘‘۔(حمِّ السجدۃ 46:41)۔

ہمارے رسول ﷺ تمام انسانیت سے زیادہ عادل اور سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والے تھے، چنانچہ عدل و انصاف آپ کی پہچان اور نمایاں وصف ہے۔آپﷺ اپنے لہجے، الفاظ اور احوال و اقوال میں سب لوگوں سے زیادہ عدل کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات، دشمن، دوست، اپنے پرائے، مال دار، فقیر، چھوٹے بڑے اور مرد و عورت ہر ایک کے ساتھ عدل کیا کیونکہ جس مقدس وحی کے آپﷺ حامل تھے، اس میں اللہ تعالیٰ نے عدل کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’بلاشبہ یقیناً ہم نے اپنے رسول واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجے اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں‘‘۔(الحدید25:57)

عدل تو گویا آپﷺ کے ساتھ پیدا ہوا اور آپؐ کی عادت، فطرت اور منہج حیات تھا۔ آپﷺ کی بعثت سے پہلے قریش مکہ کی ایک جماعت نے عبداللہ بن جدعان کے گھر مظلوم کی مدد و نصرت کا جو معاہدہ کیا تھا، آپ ﷺ اس میں بھی شریک تھے۔ اس معاہدے کو حلف الفضول کہتے ہیں۔خانہ کعبہ کی تعمیر نو کے وقت جب قریش کے درمیان حجر اسود کو نصب کرنے کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا تو انہوں نے آپﷺ کو اپنا ’’فیصل‘‘ بنایا، حالانکہ بنو ہاشم بھی قریش میں سے تھے اور اس جھگڑے کے فریق تھے۔ ان سب کو نبی اکرم ﷺ کے عدل و امانت اور غیر جانبداری پر کامل یقین تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ آپؐ پر چھوڑ دیا۔ اور یہ بعثت سے پہلے کی بات ہے۔سوچیں کہ نبوت و رسالت کا تاج پہننے اور اللہ تعالیٰ کی وحی سے شرفیاب ہونے کے بعد یہ عدل و انصاف کیسا ہوگا‘‘؟
آپﷺ عدل، آزادی، انصاف اور مساوات لے کرتشریف لائے۔ زندگی کے ہر شعبے میں عدل وانصاف کو عام کیا اور اسے دل و دماغ میں راسخ اور پختہ کر دیا۔ انسانیت کو عدل کی تعلیم دی، انسانی آزادی یقینی بنائی اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب العباد کی غلامی کی طرف لگایا۔ انہیں بتوں اور مورتیوں کے سجدوں سے آزاد کرا کے ایک اللہ کے حضور سجدہ کرنے کی تعلیم دی۔ جاہلیت کے طوق ان کی گردنوں سے اتارے اور باطل شرکیہ عادات سے جان چھڑا کر ایمان، روشنی اور توحید کی کھلی فضا میں جینے کا سبق دیا۔ اور اسی بات کا آپﷺ کو حکم دیا گیا تھا:’’ (کہہ دیجئے)مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں‘‘۔(الشوریٰ15:42)

آپ ﷺ نے ہر اعتبار سے مساوات کا درس دیا۔ مردوں اور عورتوں کیلئے فرائض و واجبات اور اجر و ثواب میں برابری کا اعلان کیا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی کہ بے شک میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کروں گا، خواہ کوئی مرد ہو یا عورت، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔(آل عمران 195:3)۔
آپﷺ کو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے حوالے سے خشیت الٰہی اور اپنے رب کی نگرانی کا اس قدر احساس تھا کہ لوگوں کو بھی اس بارے میں خبردار اور متنبہ کرتے ہوئے فرماتے:’’تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ ہوشیار ہو اور اس کے کہنے کے مطابق میں اس کے بھائی کا حق اسے دے دوں تو میں اس صورت میں اس کیلئے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دوں گا، اسے چاہیے کہ وہ نہ لے‘‘

(صحیح البخاری حدیث:2680)۔

آپﷺ مساکین کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ان کی حمایت کرتے۔ ان کے حقوق سلب کرنے یا انہیں ان کی چیزیں کم دینے سے منع کرتے اور فرماتے:’’تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں رکھا ہے، چنانچہ جس شخص کا بھائی اس کے قبضے میں ہو، اسے چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے وہی لباس پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔ اور ان سے وہ کام نہ لو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو۔ اور اگر ایسے کام کی انہیں زحمت دو تو خود بھی ان کا ہاتھ بٹاؤ‘‘۔(صحیح البخاری الایمان، حدیث:30)

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *