سیاستقومیمعاشرہ

جمہوریت کا نوحہ

تحریر: عبیداللہ خان

کسی بہترین معاشرتی نظریے یا تصور کو بھی عوام الناس کی نظر میں ناقابل قبول یا ناکام دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ اول تو اس کے بنیادی مفاہیم اور لوازم کو اس قدر مبہم بنا کر اور توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے کہ ہر سننے والا اس سے بیزار ہونے لگے۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں سیکولرازم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دوم یہ کہ اس نظریے یا تصور کا نام لیوا بن کر یا اس کا لبادہ اوڑھ کر، اس کے نام پر وہ سارے بدافعال سرانجام دیے جائیں جو نہ صرف عرف عام میں ناقابل قبول ہوں بلکہ اس نظریے کے بنیادی اصولوں کے بھی برخلاف ہوں۔ ان دونوں عوامل کو بروئے کار لانے کے بعد نہایت ضروری ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال کر کے اس نظریے یا تصور کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیا جائے یا کسی بھی رنگ میں مطعون کر دیا جائے اور اس نظریے کے خلاف بولنے کی کھلی آزادی دے دی جائے۔ کسی بھی اچھے اور تعمیری نظریے یا تصور کے خلاف یہ سب کچھ کرنے کی بنیادی وجوہات میں اول طاقت اور اختیارات کو اپنے زیر نگیں رکھنے کا خبط اور دوم ناجائز مفادات کی آبیاری ہے۔

افسوس کہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ یہی سب کچھ اجتماعی طور پر ہوتا آیا ہے۔ جمہوریت کے تصور کو ہمارے ملک میں نہ صرف مسلسل مسخ کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ عوام کو جمہوریت کے بنیادی تصور سے ایک منظم رنگ میں لاعلم بھی رکھا گیا ہے۔ پھر جمہوری طرز حکمرانی کی بابت نہایت غلط اور گمراہ کن معلومات بھی پھیلائی گئیں۔ عوام کی بھاری تعداد آج بھی جمہوریت کے حوالے سے بنیادی مغالطوں اور وسوسوں میں الجھی نظر آتی ہے۔ ریاست جس کا کام عوام کو بنیادی تعلیم دینا ہوتا ہے، اس نے جمہوری اصول، ریاست کے بنیادی خد و خال اور انسانی حقوق کی تعلیم دینے کی بجائے عوام کو بچپن سے ہی مطالعہ پاکستان کا ایک مخصوص تاریخ پر مبنی مضمون پڑھا کر ان کی ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اور بجائے حال کے ان کو ماضی کی بھول بھلیوں میں گم کر رکھا ہے۔

جمہوریت کو محض ایک نظریہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ دراصل ایک طرز حکومت ہے، جس میں بادشاہت اور آمریت کے برعکس عوام کو حق حکمرانی تفویض کیا جاتا ہے۔ عوام اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے یہ حق استعمال کرتے ہیں۔ اس نظام کی بنیاد برابری اور مشاورت پر ہے۔ اور اس کا مقصد عوامی مفاد اور فلاح و بہبود ہے۔ نیز ریاست کے خد و خال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے مفاد میں ریاست کی طاقت اور وسائل کے ایک ہی جگہ ارتکاز کی بجائے ریاست کے نظم و نسق کو مختلف ادارہ جات میں تقسیم کر کے ان کے مابین ایک دوسرے میں مداخلت سے روک پیدا کرنا اور ایک ادارے کی طاقت اور اختیار کو جائز حدود میں رکھنا ہے۔ جمہوری بندوبست کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایسے کسی بھی طرز حکومت میں اقلیت کو اکثریت کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ بلکہ ایک محدود رنگ میں صرف حکومت سازی اور ریاستی پالیسیاں مرتب کرنے کے لئے سیاسی اکثریت پر مبنی نظام حکومت چلایا جائے۔ مگر اس اکثریت کو ہر گز یہ حق نہ ہو کہ وہ کسی انسان یا گروہ یا اقلیت کے بنیادی انسانی حقوق کو تلف کرنے کا کوئی قدم اٹھا سکے۔

جمہوریت کے بنیادی لوازم میں سب سے پہلے بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ اور دراصل یہ حقوق اور آزادیاں ہی ہیں جنہیں مطلق العنان بادشاہتوں سے چھیننے کے لئے جمہوریت وجود میں آئی تھی۔ ہمارے یہاں عوام کی اکثریت اس بنیادی مغالطے کا شکار ہے کہ جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ جمہور یعنی عوام کی اکثریت جو چاہے فیصلہ کرے اس پر کوئی نگرانی یا پابندی نہیں ہے۔ اس مغالطے کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اکثریت کو یہ احساس دلایا گیا کہ اقلیت ہونا انسان کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیتا ہے۔ اور اول درجے کا شہری ہونا صرف اکثریت کا حق ہے۔ اقلیت کا فرض ہے کہ خود کو اقلیت مان کر اپنی اوقات میں رہے۔ جبکہ درحقیقت کوئی بھی نظام حکومت جمہوری ہوہی نہیں سکتا، جب تک وہ بنیادی انسانی حقوق کا ضامن نہ ہو۔ ایک ریاستی آئین کا پابند نہ ہو۔ اور اس آئین میں عوام کو بلا تفریق و بلا امتیاز، تمام بنیادی انسانی حقوق مساوی رنگ میں حاصل نہ ہوں۔ اور اکثریت کی حکمرانی کا حق محض چند ریاستی پالیسیوں پر فیصلہ سازی تک ہی محدود ہے۔

وطن عزیز میں زیادہ عرصہ آمرانہ ادوار پر مشتمل رہا۔ جس میں جمہوریت کو ایک ناکام طرز حکومت بنا کر پیش کرنے کی کوشش رہی۔ تاہم اس کی آفاقی اور عالمی قبولیت کے زیر اثر خود کو جمہوری دکھانے کی تمنا بھی ان آمروں میں بدرجہ اتم پائی جاتی رہی۔ لہٰذا اگلا جائے نہ نگلا جائے کے تحت جمہوریت کو نہ قبول کرپائے نہ ہی مکمل طور پر رد کرپائے۔ لیکن مقتدر حلقے جن کو گروہی مفادات نے جمہوریت کی طاقت کو دبانے پر مجبور کیے رکھا، جمہوری ادوار کو بھی کامیاب ہونے سے روکنے کی سعی کرتے رہے۔ ان کو کبھی خفیہ ہاتھ اور کبھی خلائی مخلوق کے القابات سے نوازا جاتا رہا۔ جمہوری ادوار ہونے کے باوجود ان ادوار میں سیاستدانوں کو مطعون کیا گیا، سیاست کو ایک عمل ناپسندیدہ کا درجہ قرار دیا جاتا رہا۔ اور اقتدار کبھی بھی جمہوری حکمرانوں کے حوالے نہ کیا گیا۔

جمہوریت کے اصل مفاہیم اور اصولوں کو اول تو نصاب کے ذریعے نئی نسلوں کو پڑھایا نہیں گیا۔ پھر ان کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی جمہوریت کا ایک مسخ شدہ چہرہ دکھایا گیا۔ مزید یہ آمروں کا دور حکومت اچھے رنگ میں اور جمہوری دور کو نالائقی کا دور دکھا کر ان کو جمہوریت سے بدظن کیا گیا۔ سیاستدانوں کے خلاف منفی اور منظم پراپیگنڈہ کیا گیا۔

صد افسوس کہ ہمارے جمہوری حکمرانوں نے بھی جمہوریت کے بنیادی لوازمات اور جمہوریت کی روح کو پنپنے نہ دیا۔ جمہوریت کو بحیثیت نظام کبھی طاقتور نہ کیا گیا۔ بلکہ یہ نظام کی بجائے شخصیات کے گرد ہی گھومتا رہا۔ اگر ہم خود سے بھی یہ سوال پوچھیں کہ کیا ایسا نہیں کہ ہم اپنی پسند کے سیاستدان کو ہر نظام اور جوابدہی سے بالا دیکھنا چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب زیادہ تر ہاں کی صورت میں ہی ملتا ہے۔ نتیجتاً عوام میں نظام کی بالادستی ہمیشہ شخصیات کے زیر اثر رہی اور یوں ہر شعبہ اور میدان میں نظام کو عوام کی نظر میں اپنا اصل مقام نہ مل سکا۔ اس طرح جمہوریت شخصیت پرستی کے ہاتھوں یرغمال رہی۔

رہی سہی کسر گزشتہ دہائی سے نمو پانے والے سوشل میڈیا نے نکال دی ہے۔ جس نے آگہی اور شعور کے نام پر عوام الناس کی ذہن سازی کر کے ایک اندھیر مچا دی ہے۔ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دکھانا سوشل میڈیا کا ایک خاص وصف ہے۔ جس پر لوگوں کو اندھا دھند یقین کروانے کے لئے ایک منظم رنگ میں سحر انگیز مہم جوئی کی جاتی ہے۔ عوام کو مسحور کر دیا جاتا ہے۔ اس ذہن سازی کے نتیجے میں دنیا بھر میں وہ ریاستیں جو جمہوریت کی علمبردار کہلاتی رہی ہیں، ان میں بھی ایسے مسخرے اور عامیانہ قسم کے لوگ اقتدار تک پہنچے ہیں، جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ ایسا شخص کسی ریاست کا حکمران بھی بن سکتا ہے۔ وطن عزیز میں ایسے تجربات کا نتیجہ آج ہم ایک نئے طرز حکمرانی، جسے (hybrid) دو نسلا نظام کہا جا رہا ہے، کو بھگتنے پر مجبور ہیں۔

حرف آخر کے طور پر عرض ہے کہ کوئی کتنا بھی اچھا نظام، طرز حکومت یا نظریہ حیات ہو، اس کی عملی کامیابی کا انحصار بہرحال ان افراد پر ہے جو اس نظام کو چلاتے ہیں۔ ہاں اگر تو نظام اور اس کے اصولوں پر کماحقہ عمل کے نتیجے میں یہ نظام ناکام نظر آئے تو کہا جاسکتا ہے کہ نظام ناکام ہے۔ لیکن اگر اس کے اصولوں اور نظام کے بنیادی خد و خال کو مسخ کر کے اس نظام کو ناکام کر دیا جائے تو ناکامی نظام کی نہیں بلکہ اسے چلانے والوں کی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *