بزنسسیاستشعبہ انٹرنیشنلمتفرق

امریکہ ایران کے عمان میں مذاکرات

Share your Love

تحریر: احسن انصاری

امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات جمعہ، 6 فروری کو مسقط، عمان میں ہونے جا رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور طویل المدتی تنازعات، خصوصاً ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مسائل، حل کیے جا سکیں۔ یہ مذاکرات اس وقت ہورہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں شدید سلامتی کے چیلنجز موجود ہیں اور وسیع پیمانے پر عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج پر علاقائی اور عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات امن، سلامتی اور اقتصادی استحکام پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

عمان کو میزبان اور مرکزی ثالث کے طور پر منتخب کیا گیا ہے کیونکہ اس کی غیر جانبداری اور مؤثر سفارت کاری کی طویل تاریخ ہے۔ مسقط ماضی میں حساس مذاکرات میں فریقین کے درمیان رابطہ فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے، جب براہِ راست بات چیت سیاسی طور پر مشکل ہوتی تھی۔ عمانی حکام اس بار بھی رابطے کے خلا کو پُر کرنے، پیغامات پہنچانے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے تاکہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ہیں اور کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ سینئر سفارت کار مجید تخت روانچی اور کاظم غریب آبادی شامل ہیں، جو حساس مذاکرات کے تجربہ کار ہیں۔ مذاکرات کا مرکزی موضوع ایران کے ایٹمی پروگرام پر توجہ مرکوز ہوگا۔ امریکہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پرامن اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔ ایران اس کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ معیشت کو سہارا ملے اور عوام پر دباؤ کم ہو۔
اگرچہ عمان میں یہ مذاکرات بنیادی طور پر دوطرفہ ہیں، کئی علاقائی ممالک پشت پناہی اور سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کو وسیع تر علاقائی سفارت کاری میں معاونت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ان کا کردار اعتماد قائم کرنے، بد اعتمادی کو کم کرنے اور کامیاب مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ دونوں ممالک کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے سرگرم ہیں، جو نہ صرف ان کے اپنے مفادات بلکہ عالمی اور مسلم دنیا کے امن کے لیے بھی ضروری ہے۔

پاکستان کی نمائندگی ممکنہ طور پر ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، جو علاقائی سفارت کاری اور مذاکراتی کوششوں میں سرگرم ہیں۔ اسلام آباد نے ہمیشہ کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کے لیے ثالثی کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے نزدیک علاقائی امن نہ صرف سیاسی اور سلامتی کے لیے بلکہ تجارتی راستوں، توانائی کی فراہمی اور مسلم دنیا کی فلاح کے لیے بھی اہم ہے۔

ترکی کی جانب سے وزیر خارجہ حقان فیدان نمائندگی کریں گے، جو انقرہ کی علاقائی اور عالمی سفارت کاری میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ ترکی ایران کے قریب تعلقات رکھتا ہے جبکہ امریکہ کا بھی پارٹنر ہے اور نیٹو ممبر بھی ہے، جس کی وجہ سے یہ دونوں فریقین کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ انقرہ نے بارہا بات چیت، صبر اور پرامن حل پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں مزید انتشار سے بچا جا سکے۔

عرب ممالک بھی سفارتی کوششوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ عمان، میزبان اور ثالث کے طور پر، مذاکرات کے ہموار انعقاد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دیگر خلیجی ممالک جیسے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی سفارت کاری کی حمایت کر رہے ہیں اور امریکہ و ایران دونوں سے صبر و تحمل کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہ ممالک گہری تشویش رکھتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی تنازع سے خلیج خطے میں عدم استحکام، عالمی تیل کی فراہمی میں خلل اور سلامتی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ عرب ممالک کے لیے یہ مسئلہ صرف موجودہ سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی استحکام اور عالمی توانائی کی مسلسل فراہمی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخی پیچیدگیاں بھی موجودہ مذاکرات کو مشکل بناتی ہیں۔ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد تعلقات کشیدہ ہوئے، جب امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا گیا۔ 2015 میں عارضی ایٹمی معاہدہ (JCPOA) طے پایا، لیکن بعد میں 2018 میں امریکہ نے اسے ترک کر دیا۔ اس کے بعد سے اعتماد میں کمی آئی، پابندیاں بڑھیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے عمان میں موجودہ مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ان مذاکرات کے نتائج انتہائی اہم ہیں۔ ناکامی کی صورت میں فوجی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور بین الاقوامی سلامتی خطرے میں آ سکتی ہے۔ دوسری طرف، اگر مذاکرات میں چھوٹے قدموں میں بھی پیشرفت ہو تو اعتماد سازی، مزید مذاکرات اور طویل المدتی استحکام کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ فوری طور پر مکمل حل ممکن نہیں، لیکن فریقین کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کی امید دیتا ہے۔

یہ مذاکرات بین الاقوامی برادری کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یورپی یونین، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ پرامن حل سے کثیرالجہتی سفارت کاری مضبوط ہو سکتی ہے اور بڑے تنازعے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان، ترکی اور عرب ممالک کا کردار بھی اجاگر ہوتا ہے، جو مذاکرات اور ثالثی میں معاونت فراہم کر کے عالمی سطح پر تعاون کی مثال قائم کرتے ہیں۔

6 فروری کو عمان میں ہونے والے مذاکرات امریکہ اور ایران کے تعلقات اور خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ عمان کی ثالثی، پاکستان اور ترکی کی سفارتی حمایت، اور دیگر عرب ممالک کی صبر و تحمل کی اپیل کے ساتھ امید کی جا سکتی ہے کہ بات چیت کے ذریعے کشیدگی پر قابو پایا جائے گا۔ ان مذاکرات کے نتائج صرف واشنگٹن اور تہران پر اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن، سلامتی اور تعاون کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *