اردوتاریخسیاستشخصیتقومیمتفرق

قائداعظم کا معیار ایک خواب ایک سوال

تحریر: شمائلہ اعظم خان

تاریخ اور جغرافیے کا دھارا بدل دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ اعزاز صدیوں میں چند ہی شخصیات کو نصیب ہوتا ہے اور قائداعظم محمد علی جناحؒ ان شخصیات میں سرفہرست ہیں، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک خود مختار ریاست قائم کر کے اپنا نام سنہری حروف سے رقم کیا۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کا کارنامہ حیرت انگیز ہے؛ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں صرف منطق، دلیل اور اصولی مؤقف کے ہتھیار سے بیسویں صدی کا ایک عظیم سیاسی معجزہ انجام دیا۔ مورخ اسٹینلے وولپرٹ نے درست کہا کہ دنیا میں کم ہی لوگ ایسے ہوئے جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدلا، عالمی نقشے پر نئی ریاستیں قائم کیں اور محمد علی جناح نے تن تنہا یہ تینوں کارنامے سرانجام دیے۔

انہوں نے ایسے نازک دور میں قیادت سنبھالی جب مسلمان سیاسی طور پر بے یار و مددگار تھے۔ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار کی حیثیت سے کیا اور آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما بھی رہے۔ تاہم، جب انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ وطن درکار ہے، تو انہوں نے دو قومی نظریے کی واضح اور پرعزم علمبرداری کا انتخاب کیا۔ ان کی دیانت اور اصول پسندی کی گواہی ان کے سیاسی مخالف بھی دیتے تھے؛ مشہور صحافی بیورلے نیکولسن نے انہیں ہندوستان کی اہم ترین شخصیت قرار دیا تھا۔

قائدِ اعظم کا پاکستان ایک ایسی ریاست تھی جہاں “قانون سب کے لیے برابر ہو اور میرٹ ہی کامیابی کا اصل معیار ہو”۔ ان کا واضح نظریہ تھا کہ یہ ریاست نہ سیکولر ہوگی اور نہ ہی تھیوکریٹک، بلکہ ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست ہوگی۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام نے ہمیں تیرہ سو سال قبل ہی جمہوریت سکھا دی تھی۔ ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کی اپنی تاریخی تقریر میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کی واضح ضمانت دی اور کہا کہ مذہب، نسل یا فرقے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا، اور ریاست کا کام ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے نزدیک پاکستان کا مقصد “زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا” نہیں، بلکہ اسلام کے اصولوں پر مبنی انصاف و مساوات کے نظام کو آزمانے کے لیے ایک “تجربہ گاہ” حاصل کرنا تھا۔

ان کے نصب العین “کام، کام اور بس کام” تھا۔ وہ نہایت کفایت شعار اور دیانت دار انسان تھے۔ ایک وکیل کے طور پر ان کی شہرت اور کامیابی محنت اور دیانت کی عملی تصویر تھی۔ یہاں تک کہ اپنی آخری بیماری کے دوران، جب ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا، تو انہوں نے اپنی بہن سے فرمایا: “فاطی۔۔ کیا تم نے کبھی کسی جرنیل کو اس وقت رخصت پر جاتے ہوئے دیکھا ہے جب اس کی فوج میدانِ جنگ میں اپنی بقا کے لئے مصروفِ پیکار ہو؟”۔

افسوس کہ آج ہم قائدِ اعظمؒ کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں کم ہی جگہ دیتے ہیں۔ انہوں نے جس ریاست کا خواب دیکھا تھا، جہاں قانون کی بالادستی ہو، دیانت ہو، اور ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے، وہ معیار آج نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں قوم کو پھر ایسے قائد کی ضرورت ہے جو وعدوں سے نہیں، کردار سے پہچانا جائے۔ اگر ہم دیانت، اتحاد، نظم و ضبط کو اپنا لیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، تو یقیناً پاکستان ایک بار پھر قائدِ اعظمؒ کے خوابوں کی تعبیر بن سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قائدِ اعظمؒ کون تھے، سوال یہ ہے کہ ہم ان کے ورثے کے امین کون ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *