تاریخسائنس و ٹیکنالوجیمتفرق

بائیو ڈائیورسٹی یا حیاتیاتی تنوع کا فروغ

Share your Love
تحریر: آصف رضا موریو
ہماری دھرتی بڑے پیمانے پر معدومیت سے گزر رہی ہے جو آنے والی کچھہ دہائیوں میں اپنی ایک ملین تک انواع کھودے گی اور انسان اس میں بہت زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔  معدوم ہونے والی پرجاتیوں کے اعداد و شمار انتہائی تباہ کن ہیں۔ یہاں رہنے والی فقاری پرجاتیوں کی آبادی کے سائز، جن میں ممالیہ جانور، رینگنے والے جانور، پرندے اور مچھلیاں شامل ہیں ان کی پچھلی چالیس سالوں کے درمیان تقریباً نصف تک گر گئی۔ ایک چوتھائی ممالیہ، 40 فیصد ایمفیبیئن، اور 30 فیصد شارک اس وقت خطرے سے دوچار ہیں۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سیارے پر حیاتیاتی تنوع مسلسل زوال پذیر ہے جس کی بیسویں صدی میں شرح ایک سو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
حیاتیاتی تنوع کی اس تباہی کا ہمارے سیارے اور اس کے باشندوں کے مستقبل پر  کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اس کو ختم کرنے کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟  اس زمینی تباہی سے نپٹنے کیلئے انسانذات کو نہ صرف سنجیدہ ہونا پڑیگا بلکہ کچھہ بنیادی باتوں کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔
بائیو ڈائیورسٹی یا حیاتیاتی تنوع ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے جو خوردبینی زندگیوں سے لے کر  زمین پر پھیلے ہوئے بڑے بڑے جنگلات اور سمندروں میں پنپنی ہوئی مختلف قسم کی اجتماعی حیاتیات کے لیے استعمال کیا ہے جن کا ارتقا ہمارے سیارے پر  پچھلے ساڑے چار بلین سالوں سے ہوتا رہا ہے۔ زمین پر زندگیوں کی اقسام کا دائرہ کار اتنا وسیع و عریض ہے کہ سائنسدانوں نے ابھی تک کرہ ارض پر زندگی کی تمام اقسام کی شناخت نہیں کی ہے اور ہر سال سینکڑوں نئی نسلیں دریافت ہوتی رہتی ہیں۔
حیاتیاتی تنوع وہ تمام مختلف قسم کی زندگی ہے جو ہمیں اپنے اپنے علاقوں میں ملتی ہیں جن میں مختلف قسم کے جانور، پودے، فنگس، اور یہاں تک کہ مائکروجنزم جیسے بیکٹیریا جو ہماری قدرتی دنیا کو بہتر بناتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پرجاتی اور جاندار توازن برقرار رکھنے اور زندگی کو سہارا دینے کے لیے ایک پیچیدہ جال کی طرح ماحولیاتی نظام میں مل کر کام کرتے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع فطرت میں موجود ہر اس چیز کی حمایت کرتا ہے جس کی ہمیں زندہ رہنے کی ضرورت ہے: خوراک، صاف پانی، دوا اور پناہ گاہ۔
زمین پر زندگیوں سے متعلق یہ ایک ہیبتناک، فکر انگیز اور پریشان کن خبر یہ ہے کہ ہم انسانوں کی فطرت سے چھیڑخانی والی دہشت گردیوں جیساکہ مختلف  آلودگیاں،  جنگلات کی کٹائی، فرٹیلائیزر کا استعمال، غیر فطری زراعت بانی اور موسمیاتی تبدیلی وغیرہ جیسی انسانی سرگرمیوں سے اس نظام کو سخت خطرہ لاحق ہے۔
ہم انسانوں میں یورپیئن انفرادی طور پر ایشیائی قومیں اجتماعی طور پر حیاتیاتی تنوع کے اہم ماخذ جیسا کہ آکسیجن، پانی، جنگلات جیسے دیگر عوامل کی اثر اور اہمیت سے غافل دکھائی دیتے ہیں جو ہمیں بیشمار  سماجی، نفسیاتی، تہذیبی اور زندگی سے متعلق فوائد فراہم کرتے ہیں۔ ہماری اس جہالت اور نظراندازی کے سبب حیاتیاتی تنوع کی حسناکیاں، رنگینیاں، کارستانیاں اور نظام خطرے سے دو چار ہے جس سے ہم خبردار ہوتے ہوئے بھی بے خبر بن کر اپنی غلط کار حرکتوں کا دائرہ بڑہاتے جارہے ہیں۔ 
ہماری خوراک، ہماری مٹی، ہمارے پانی، ہمارے موسم، یہاں تک کہ ہم سانس لینے والی ہوا کے لیے ہمارے کا پائیدار ہونا ضروری جسے بائیوڈائیورسٹی پیچیدہ فطری نظام سالم اور صحتمند رکھتا ہے۔  حیاتیاتی تنوع کی بقا اور صحتمندی ہمارے اجتماعی مستقبل کے لیے ایک اہم بنیاد مانا جاتا ہے جسے بہتر رکھنے اور بنانے کیلئے  اس سیارے پر ہماری زمینوں، سمندروں اور پانیوں کی حفاظت کرنا نہ صرف ضروری بلکہ ہم سب کا فرض بنتا ہے۔ 
حیاتیاتی تنوع کے پسمنظر میں ہماری زمین پر موجود تمام زندگیوں کی وسیع اقسام  سے چھیڑخانی نہ کرکے ان کو فروغ عقلمندی مانی جاتی ہے جن میں جین، انواع (پودے، جانور، جرثومے) اور ماحولیاتی نظام (جنگل، سمندر، صحرا) وغیرہ آجاتے ہیں جنہیں دھرتی کے گولے پر صاف ہوا اور پانی، خوراک، ادویات اور آب و ہوا کے استحکام جیسی ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے معاون اہم مانا جاتاہےجو کائنات میں زندگی کے اس انتہائی پیچیدہ نظام  کو برقرار رکھنے میں معاونت کرتا ہے 
ماحولیاتی نظام کی تنزلی  کے سبب دھرتی پرحیاتیاتی تنوع اپنی صحت، آبادی اور افادیت کا کھونا دنیا بھر میں زمین پر زندگی کے خطرے کا الارم سمجھا جاتا ہے اور ہمارے سیارے پر زندگی کی تمام اقسام کا باہم مربوط خطرے میں ہونے کا ادراک دنیا بھر کی جاگرو قوموں میں پایا جاتا ہے سواءِ  ہمارے ملک پاکستان کے ایوانوں میں۔ 
دسمبر 2022 میں دنیا کے تقریبن دو سو ممالک کے رہنماؤں نے فطرت کے تیزی سے ہونے والے  زوال کو ریورس کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک تاریخی معاہدے Kunming-Montreal Global Biodiversity Framework  پر دستخط کئے جس میں کرہ ارض کی تیس فیصدزمین، ستر فیصد سمندروں کے میدانوں اور پانیوں کی حفاظت کا مطالبہ کرنے کے ساتھہ دنیا بھر میں ماحولیاتی نظام اور خطرے سے دوچار انواع کی بحالی اور حفاظت میں مدد  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دھرتی پر پائی جانے والی جینیاتی تنوع، ان کی رہائشگاہوں کے تنوع اور بڑی حیاتیاتی اکائیوں کا تحفظ بھی شامل ہے جنہیں “بائیومز” کہاجاتا ہے۔
ہمیں سب کو چاہیے کہ ہم اس دھرتی پر رہنے والی زندگیوں کو بچانے میں اپنا کردار اداکریں اور اپنے اپنے علاقوں میں درخت لگانے، آبی زخائر بچانے، باغات اگانے کو فروغ دیں۔ غیرفطری زراعت بانی، زرعی ادویات کااستعمال اور کیڑے مار دوائوں کا استعمال ترک کردیں۔ ہمیں پرندوں، کیڑوں اور دیگر مخلوقات کے دھرتی پر رہنے اور پنپنے کے حقوق کو سمجھہ کر دھرتی پر انسان بنے جینا چاہیے نہ کہ پیسا بنانے کی مشین بن کر اپنی قبر کھودنے کے بندوبست میں جتے رہنا چاہیے

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *