Latestتاریخسیاستقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

برطانوی سامراج اور پیرانہ طاقت سیاست برصغیر

Share your Love

تحریر: احسن انصاری

برطانوی استعمار نے برصغیر پر حکمرانی کے دوران کئی حکمتِ عملیاں اختیار کیں، مگر ان میں ایک نہایت اہم اور کم زیرِ بحث آنے والی حکمتِ عملی ’’پیرانہ طاقت‘‘ (Pir Authority) سے بنایا گیا سیاسی و سماجی اتحاد تھا۔ جہاں ایک طرف انگریز جدید فوج، انتظامیہ اور قانون سازی کے ذریعے اپنا تسلط قائم کر رہے تھے، وہیں دوسری طرف انہوں نے مقامی معاشرتی ڈھانچے کی کمزوریوں اور مذہبی اثرورسوخ کو بخوبی سمجھ کر پِیروں اور مزارات کے سجادہ نشینوں کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ یہ تعلق محض مذہبی ہم آہنگی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک گہری سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حکمتِ عملی تھی، جس کا مقصد برصغیر کی وسیع و عریض مسلم اکثریت پر نرم مگر مؤثر کنٹرول قائم کرنا تھا۔

برطانوی حکمرانوں نے جب 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد براہِ راست اقتدار سنبھالا، تو انہیں سب سے بڑا مسئلہ عوامی حمایت کی کمی اور مختلف علاقوں میں بغاوت کے امکانات تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جہاں مقامی لوگ کسی سیاسی یا انتظامی رہنما کو نہ مانیں، وہاں مذہبی اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات، خاص طور پر پِیر، گدی نشین اور روحانی سلاسل کے سربراہوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسلم علاقوں میں انہی روحانی خانوادوں سے قربت بڑھانی شروع کی، جن کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں تھی اور جن کی بات کو عوام احترام سے سنتے تھے۔

اس دور میں سندھ، پنجاب، سرحد اور بنگال میں پیرانہ اثرورسوخ اپنی انتہا پر تھا۔ پنجاب کے کئی مشہور خانوادے — جیسے پیر آف گولڑہ، پیر آف جھنگ، پیر آف کندھارہ، پیر آف پگاڑا — وسیع مریدین کے نیٹ ورک رکھتے تھے۔ دوسری طرف سندھ میں پیر صاحب پگارو، راشدی اور جانٹھار کے خاندانوں کا اثرورسوخ بھی نہایت نمایاں تھا۔ انگریزوں نے ایسے تمام خاندانوں سے تعلقات مضبوط کیے اور انہیں زمینیں، عہدے، اعزازات اور مراعات دیں۔ اس کے عوض ان پِیروں نے سیاسی وفاداری، معاشرتی کنٹرول اور جنگی معاونت فراہم کی۔

برطانوی حکمرانی کا اہم اصول یہ تھا کہ ’’عوام کو ان کے اپنے رہنماؤں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے‘‘۔ پیرانہ رشتے میں مرید اپنے مرشد کو دینی و دنیاوی طور پر فیصلہ کن اتھارٹی سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک پِیر کے ایک اشارے پر پورا علاقہ سر جھکا دیتا تھا۔ انگریزوں نے اسی سماجی نفسیات کو سمجھ کر اسے ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا۔ مثال کے طور پر، برطانوی حکومت نے کئی علاقوں میں انتظامی فیصلوں سے پہلے مقامی پِیروں سے مشاورت کی، تاکہ عوام میں قبولیت بڑھے۔

انگریز یہ بھی سمجھتے تھے کہ مذہبی جذبات کو دبانے کے بجائے اگر ان کے ذریعے سیاسی اثرورسوخ حاصل کر لیا جائے تو مزاحمت کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ کئی پِیروں نے انگریزوں سے وفاداری کے بدلے جاگیریں حاصل کیں، کچھ نے اپنے مریدین کو انگریز فوج میں بھرتی کرایا، جبکہ بعض نے اپنے اثرورسوخ کے ذریعے 1857ء یا اس کے بعد کی تحریکوں میں بغاوت کو روکنے میں غیر علانیہ کردار ادا کیا۔

پنجاب میں ’’گدی نشین سیاست‘‘ کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑی۔ انگریز حکمرانوں نے پِیروں کی سماجی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے قوانین بنائے، انہیں ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا، زرعی زمینیں عطا کیں، اور بعض کو ’’نواب‘‘ یا ’’خاندانِ اشراف‘‘ کے القابات سے نوازا۔ اس سے ایک ایسا سیاسی طبقہ وجود میں آیا جو ظاہری طور پر مذہبی مگر عملی طور پر نوآبادیاتی حکمرانی کا حامی تھا۔

تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر پِیر یا مذہبی شخصیت نے انگریزوں سے اتحاد نہیں کیا۔ سندھ کے مشہور روحانی و سیاسی رہنما سید صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف سورھیہ بادشاہ نے انگریزوں کے سخت خلاف کھڑے ہو کر تحریکِ آزادی چلائی۔ ان کی تحریک کو برطانوی حکومت نے سختی سے کچلا، اور 1943ء میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس کے باوجود، زیادہ تعداد ایسے پِیروں کی تھی جنہوں نے سیاسی خاموشی یا عملی تعاون اختیار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ برطانوی دور کے بعد بھی بہت سے پیرانہ خاندان سیاست میں انتہائی طاقتور حیثیت رکھتے رہے۔

یہ اتحاد صرف مذہبی اثرورسوخ تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے معاشرتی ڈھانچے کو بھی بڑی حد تک تبدیل کیا۔ لوگوں کے لیے مذہب، سیاست اور سماجی طاقت ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو گئے۔ یوں پیرانہ نظام، جو اصل میں روحانی تربیت اور اصلاح کا ذریعہ تھا، بتدریج سیاسی طاقت کا مرکز بن گیا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد بھی یہ اثرورسوخ برقرار رہا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سندھ اور پنجاب میں پیروں کا سیاسی کردار مزید مضبوط ہوا۔ آج بھی کئی حلقوں میں انتخابی سیاست مریدین کے رشتوں سے مشروط ہوتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انگریزوں نے برصغیر میں ’’روحانی اقتدار‘‘ کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جو بظاہر مذہبی مگر درحقیقت سیاسی تھا۔ اس نظام کی وجہ سے کئی علاقوں میں جدید سیاسی شعور ابھرنے میں تاخیر ہوئی اور عوامی سطح پر جمہوری سوچ پروان نہیں چڑھ سکی۔ انگریزوں کے اس اتحاد نے پیرانہ طبقات کو اس قدر طاقتور کر دیا کہ نئی ریاستوں — خصوصاً پاکستان — میں بھی ان کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔

بلاشبہ، برطانوی سامراج اور پیرانہ اتحاد کی تاریخ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ جب مذہبی اور سیاسی طاقت ایک ہو جائے تو معاشرتی ڈھانچے پر اس کے دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ برصغیر کی سیاست کا یہ پہلو آج بھی تحقیق کا طلبگار ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف نوآبادیاتی دور میں تھے بلکہ آزادی کے بعد کے سیاسی، سماجی اور مذہبی ماحول میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *