خوفزدہ اکثریت
تحریر: جمیل احمد بٹ
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل، 2025ء پر بحث کے دوران بعض اراکین نے بل کی شق نمبر 35 کونا قابل قبول قرار دیا کیونکہ اس میں بل کو پہلے کے سب قوانین سے بالا قرار دیا گیا ہے اور اس کے ذریعہ قادیانی پھر 1984ء کے آرڈینینس پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور یہ پٹارا پھر کھل سکتا ہے۔ اس اظہار اور اس امکان کو تسلیم کر کے وزیر قانون کی اس شق کو نکال دینے کی جوابی یقین دہانیوں نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکارا کر دیا کہ اکثریت ملک کی ایک کمزور اقلیتی جماعت سے اس حد تک خوفزدہ ہے کہ اسے اس جماعت کے لئے اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے کسی دور در از امکان کا ہونا بھی برداشت نہیں۔ آرڈینینس کا یہ حوالہ اصل میں اس کے تحت اس خلاف آئین پابندی کا ہے جو اس کے ذریعہ احمدیوں پر اپنے خیالات کے اظہار پر لگائی گئی ہے اور اظہار پر پابندی کا سبب دلیل کے میدان میں احمدیوں کا سامنانہ کرسکتا ہے۔ الہبی جماعتوں میں قائم رہنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت قدرتی طور پر ودیعت ہوتی ہے۔ اس کا ادراک خوف پیدا کرتا ہے جس کا توڑ جبر سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ماضی کے ایک بڑے جبروت والے بادشاہ نے اللہ کے ایک فرستادہ سے گفتگو میں جیت نہ سکنے پر اسی راہ کو اختیار کیا اور اللہ کی کتاب کے مطابق اپنے خوف کا یہ اظہار کیا:
ترجمہ: یقیناً میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد پھیلا دے گا۔(مومن 27:40)
یوں سچائی کے پھیل جانے کے حقیقی خوف کے ہاتھوں امن عامہ میں خلل کے نام پر اسے جبر سے روکنے کی یہ کوشش ویسی ہی ہے جیسا کے ساڑھے تین ہزار سال قبل فرعون کا طریق۔
آئین کے منافی:
وزیر قانون صاحب نے یہ بھی کہا کہ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم مانتے ہی نہیں اس لئے وہ ان حقوق کے اہل نہیں ہیں جو اس حقوق بل اور آئین کی دفعہ 20 کے تحت اقلیتوں کو دئے گئے ہیں۔ ایسا کہنا سراسر آئین کے منافی ہے۔ کیونکہ آئین میں احمدیوں کو ، بلا اس شرط کے کہ
وہ خود بھی مانیں، نام لے کر غیر مسلم شمار کیا گیا ہے۔ آئین کی اس شق کے الفاظ ہیں:
260(3)(b) ‘non-Muslim means a person who is not a Muslim and includes a person belonging to the Christian, Hindu, Sikh, Buddhist or Parsi community, a person of the Qadiani Group or the Lahori Group who call themselves Ahmadies or by any other name or a Bahai and a person belonging to any of the Scheduled Castes
ترجمہ: غیر مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو مسلمان نہیں ہے اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی جماعت یا قادیانی یالا ہوری گروپ جو خود کو احمدی کہتے ہیں یا کوئی اور نام کا کوئی فرد یا ایک بہائی اور کسی جدولی ذاتوں سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہیں۔
آئین کی شق 20
وزیر قانون صاحب نے یہ بھی کہا کہ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم مانتے ہی نہیں اس لئے وہ ان حقوق کے اہل نہیں ہیں جو آئین کی دفعہ 20 کے تحت اقلیتوں کو دئے گئے ہیں۔ ایسا کہنا سراسر آئین کے اور سپریم کورٹ کی اس کی تشریح کے منافی ہے۔ کیونکہ اس دفعہ کے تحت دی گئی مذہبی آزادی بلا تفریق اور ہر جہت سے مکمل ہے۔ سپریم کورٹ کے 2013ء کے جس فیصلے کے تحت 11 سال بعد اقلیتی حقوق کا کمیشن بنانے کا یہ بل پیش کیا گیا ہے خود اس فیصلہ میں چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی صاحب نے اس کی وضاحت کر دی ہے اور تحریر کیا ہے کہ
15. Of all the Articles relating to the minorities’ rights, Article 20 is of prime significance.—
(a) The right to religious conscience conferred under this Article does not make any distinction between majority and minority or Muslim and Non-Muslim. It is in the nature of an Equal Religious Protection Clause conferred on every citizen, every religious
denomination and every sect thereof. This equal religious protection clause is in the same nature as the equal justice under the law and equal protection under the law clauses conferred under Articles 4 a nd 25. In other words, every absolute equality and there is no distinction among citizens, religious denominations and sects thereof, as f ar as the right to religious conscience, is concerned.
(b) The right to religious conscience is a fundamental right. It has not been subjected or subordinated to any other provision of the Constitution because it is only subject to law, public order and moral ity and not to any religious clauses of the Constitution. The very ter m law, public order and morality has been used in non-religious terms as the notion of law or public order or morality is not reducible to the Islamic meanings of these terms. Therefore, Article 20 has a certa in preeminence in the Constitution being only subject to the genera I restrictions of law, public order and morality, which three terms cannot be interpret ed or used in such a restrictive way as to curtail the basic essence and meaning of the pre-eminent right to religious conscience.
(c) The right to profess and practice is conferred not only on religious communities but also on every citizen. What this means is that every citizen can exercise this right to profess, practice and propagate his religious views even against the prevailing or dominant views of its o wn religious denomination or sect. In other words, neither the m ajority religious denominations or sect nor the minority religious den omination or sect can impose its religious will on the citizen. (e) The right of religious conscience conferred on every citizen is a rig ht conferring three distinct rights i.e. Right to Profess, Right to ctice and Right to Propagate. What this means is that Article 20 does not merely confer a private right to profess but confers a right ractice both privately and publicly his or her religion. Moreover, it cofers the additional right not only to profess and practice his own religion but to have the right to propagate his or her religion to others. It is important to note that this propagation of religion has not bee n limited to Muslims having the right to propagate their religion bu propagate that this right is equally conferred on Non-Muslims to eir religion to their own community and to other communities. (PLD 2014 SC 699)
بلا تفریق۔ ترجمہ : 15۔ اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تمام دفعات میں سے دفعہ 20 کو مثالی اہمیت حاصل ہے۔ (اے)۔ اس دفعہ کے تحت مذہبی آزادی کا حق اکثریت اور اقلیت اور مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ یہ ویسا ہی حق ہے جیسا کہ مساوی مذہبی تحفظ کا حق، ہر شہری، ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقہ کے لئے ہے۔ دوسری طرف مساوی مذہبی تحفظ کی یہ شق اسی نوعیت کی ہے جیسے آئین کی دفعات 4 اور 25 میں دئے گئے قانون کے تحت یکساں انصاف اور یکساں تحفظ کے حقوق۔
دوسرے لفظوں میں جہاں تک مذہبی آزادی کے حق کا تعلق ہے اس میں افراد ، مذ ہبی گروہوں اور ان کے فرقوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور مکمل مساوات ہے۔
مذہبی آزادی کے حق کی کوئی ایسی تشریح نہیں کی جاسکتی جو اس حق کو کم کرے۔ ترجمہ:(بی)۔ مذہبی آزادی کا حق ایک بنیادی حق ہے۔ اس کو آئین کی کسی اور دفعہ کے زیر اثر یاما تحت نہیں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ صرف قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے زیر اثر ہے نہ کہ آئین کی مذہبی دفعات کے۔ قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کی اصطلاحات غیر مذہبی ہیں۔ کیونکہ ان تصورات کو ان اصطلاحات کے اسلامی معنوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا دفعہ 20 کو آئین میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ یہ صرف قانون،ا من عامہ اور اخلاقیات کی عمومی پابندی کے تحت ہے۔ جبکہ ان تینوں اصطلاحات کی ایسی تشریح یا ایسا محدود استعمال نہیں کیا جاسکتا جو مذہبی آزادی کے نمایاں حق کی بنیادی روح کو کم کر دے۔
کوئی چھوٹا یا بڑا فرقہ کسی شہری پر اپنی مذہبی رائے کو مسلط نہیں کر سکتا۔ ترجمہ : (سی)۔ اظہار اور عمل کا حق نہ صرف مذہبی گروہ وں کو بلکہ ہر شہری کو دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری اپنے مذہبی خیالات کو ظاہر کرنے ، ان پر عمل کرنے اور انہیں پھیلانے کا حق کو استعمال کر سکتا ہے خواہ وہ اس کے اپنے مذہبی فرقے میں مروجہ اور غالب خیالات کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں ۔ بالفاظ دیگر نہ تو اکثریتی مذہبی گروہ یا فرقہ اور نہ اقلیتی مذہبی گروہ یا فرقہ اپنی مذہبی مرضی کو کسی شہری پر مسلط کر سکتا ہے۔
آزادی مذہب کا حق اصل میں اظہار ، عمل اور تبلیغ کے تینوں حق ہیں۔ ترجمہ :(ای)۔ مذہبی آزادی کا حق ہر شہری کو تین مختلف قسم کے حق دیتا ہے یعنی مذہب اختیار کرنے کا حق، مذہب پر عمل کرنے کا حق اور مذہب کی تبلیغ کا حق۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 20 صرف نجی طور پر مذہب کے اظہار کا حق نہیں بلکہ یہ نجی اور عوامی دونوں سطحوں پر اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔ مزید یہ کہ یہ نہ صرف مذہب کے اظہار اور عمل کا حق دیتا ہے بلکہ اضافی طور پر اپنے مذہب کو دوسروں میں پھیلانے کا حق بھ ی دیتا ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرناضروری ہے کہ مذہب کی تبلیغ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں کہ انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کاح ق ہے بلکہ یہ حق مساوی طور پر غیر مسلموں کو بھی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اپنے اور دوسرے گروہوں میں تبلیغ کریں۔
عذر گناه:
احمدیوں کو مذہبی آزادی نہ دئے جانے کا یہ عذر کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے محض عذر گناہ ہے کیونکہ ملک میں آباد دیگر اقلیتیں جن کے لئے یہ بہانہ نہیں ہے وہ بھی تعصب اور عدم رواداری کا شکار ہیں اور آئے دن ظلم اور زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ خود سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک چرچ کے جلائے جانے اور مندروں کی بے حرمتی کے واقعات کے از خود
نوٹس لینے کا نتیجہ تھا۔
احمدی آئین کے پابند ہیں:
بار بار احمدیوں پر ظلم ، نانصافی اور حق تلفیاں کر کے اس کا جواز تراشنے کے لئے ان پر آئین کو تسلیم نہ کرنے کا الزام دہرایا جاتا ہے۔ یہ محض غلط بیانی ہے کیونکہ احمدی اپنے طریق کے مطابق عملاً آئین کے پابند ہیں۔
باوجود اس حقیقت کے کہ احمدی حضرت محمد صلی علیہ کم کو اپنا بادی اور آپ صلی علیہ کم پر نازل شدہ آسمانی کتاب اور آپ صلی علی ایم کے طریق کار کو اپنا دستور العمل مان کر اس پر عامل ہیں۔ صرف آئین میں درج مسلمان کی تعریف کی پابندی میں وہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ،
عدالتی دستاویزات، مردم شماری، حصول ملازمت اور تعلیمی اداروں کے داخلہ اور دیگر فارموں میں جہاں بھی مطلوب ہو مذہب کے کالم میں بجائے مسلمان کے اپنے آپ کو احمدی لکھتے ہیں۔ اور اس کے نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔ رائے دہی کے حق سے محروم ہیں۔ تعلیم ، ہر قسم کی ملازمت، کاروبار اور شہری حقوق میں تفریق کا نشانہ ہیں اور عملاً تیسرے درجے کے شہری بن کر جی رہے ہیں۔
احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے؟
رہا یہ اعتراض کہ احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے تو اس کا جواب یہی ہے کہ ایساوہ اپنے ضمیر کی آواز پر کرتے ہیں۔ یہ معترض شاید یہ چاہتے ہیں کہ احمدی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح اعلانیہ اللہ کی توحید ، آں حضرت صلی للی کم کی حقانیت اور قرآن کریم کے خدا کا کلام ہونے کا انکار کر دیں۔ تین خداؤں کو ابتوں کو یا کسی خدائی کے دعویدار کو خدامان لیں۔ گھنٹیوں پر کان دھریں اور بھجن گائیں۔ اللہ کے فضل سے ملنے والی بصیرت پر قائم اپنے محکم ایمان کے ساتھ ایسا کچھ کر ناکسی بھی احمدی کے لئے ممکن نہیں۔
ہمارے بھائی؟
وزیر قانون صاحب نے اپنی تقریر میں عیسائی، ہندو، سکھ اور بہائی شہریوں کو اپنا بھائی کہا۔ اور اس بات کو چنداں اہمیت نہیں دی کہ یہ سب حضرت محمد مصطفی صلی ال یکم اور قرآن کریم کو ناحق جانتے ہیں اور بر ملا اس کا اظہار کرتے ہیں۔ توحید کا انکار کرکے دو، تین یا بہت سے خداؤں پر ایمان رکھنے والے مشرک ہیں اور دین میں حرام کو عملاً حلال جانتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب متضاد اور مخالف عقائد آپ کو گوارا ہیں اور ان کے حامل سب افراد کے ساتھ بھائی چارہ رکھنے کا آپ بر ملا اعلان کرتے ہیں تو آپ کو احمدیوں کو اپنا بھائی کہنے میں سوائے مذہبی سیاست کاروں کے ڈر اور خوف کے کیا امر مانع ہے جبکہ احمدی موحد ہیں اور ایک اللہ کو مانتے ہیں. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا ر سول اور خاتم النبیین مانتے ہیں۔ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب اور آخری شریعت مانتے ہیں اللہ کے سب فرشتوں اور کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ جزا سزا اور حیات آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ الله، احکامات الہی اور سنت رسول صلی الی ہم پر عامل ہیں۔
کیا توحید، رسالت اور کتاب کی تکذیب اور انکار کے بالمقابل احمدیوں کا ان سب پر ایمان کے باوجود صرف آپ کا اپنے خیال میں (نہ کہ واقعی طور پر) ان کا آں حضرت صلی اللہ علم کو آخری نبی نہ مانناز یادہ قابل گرفت ہے؟
العجب
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

