خود اعتمادی بُزدلی اور زندگی کی جدوجہد
تحریر: ارشد احمد شہباز۔ جرمنی
زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، اور یہ جدوجہد ہر انسان کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔ کوئی اس سے فرار نہیں پا سکتا۔ کبھی یہ جدوجہد روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوتی ہے، کبھی عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے، اور کبھی مقصدِ حیات کے تعین کے لیے۔ مگر ہر مرحلے میں انسان کی کامیابی کا انحصار ایک بنیادی صفت پر ہے، اور وہ ہے خود اعتمادی۔ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے، یہی وہ یقین ہے جو دل کے اندر خوف کو شکست دیتا ہے، اور یہی وہ قوت ہے جو انسان کو اپنے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
خود اعتمادی صرف نفسیاتی سکون نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے۔ یہ وہ یقین ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں، اور اس سے بھی بلند یقین کہ اللہ میرے ساتھ ہے۔ یہی احساس انسان کے اندر سے کمزوری کو مٹا دیتا ہے اور اسے ہر قدم پر حوصلے سے بھر دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ جب انسان اپنی کوشش کے بعد نتیجہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے تو دل میں خوف کی جگہ سکون اتر آتا ہے۔ نیت خالص اور راہ درست ہو تو انجام بھی خیر پر ختم ہوتا ہے، خواہ وقتی ناکامیاں ہی کیوں نہ آئیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے، اس کے لیے راستے کھول دیے جاتے ہیں جہاں کوئی راستہ نہیں ہوتا ‘‘یہ وہ حقیقی خود اعتمادی ہے جو ایمان سے جنم لیتی ہے۔
اس کے مقابلے میں بزدلی انسان کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بزدلی صرف جسمانی کمزوری نہیں بلکہ ایک ذہنی اور روحانی بیماری ہے جو امید، جرات اور تخلیقی توانائی کو ختم کر دیتی ہے۔ بزدل انسان خطرے کے امکان سے ڈر کر قدم نہیں بڑھاتا۔ وہ سوچتا ہے کہ کہیں ناکامی نہ ہو جائے، لوگ کیا کہیں گے، یا میں اکیلا یہ سب نہیں کر سکتا۔ ایسے شخص کو کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کامیابی ہمیشہ انھیں کے قدم چومتی ہے جو خوف کو عبور کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اس لیے انسان کو کبھی بزدل نہیں بننا چاہیے۔ بزدلی دراصل انسان کے اندر کے اعتماد کو زنگ آلود کر دیتی ہے اور اس کے خوابوں کو خاموش موت دے دیتی ہے۔
دنیا کے تمام بڑے کارنامے، چاہے سائنسی ہوں، فکری ہوں یا روحانی، ان لوگوں نے انجام دیے جن کے دل یقین کی روشنی سے منور تھے۔ اگر وہ بزدلی کے اسیر رہتے تو نہ ایڈیسن بلب ایجاد کرتا، نہ نیوٹن فطرت کے قوانین دریافت کرتا، اور نہ انبیاء و مصلحین ظلم و مخالفت کے باوجود انسانیت کو روشنی عطا کرتے۔ زندگی دراصل یقین اور خوف کے درمیان ایک مسلسل معرکہ ہے۔ ہر انسان کے دل میں دو آوازیں بستی ہیں،ایک کہتی ہے کر گزر، دوسری سرگوشی کرتی ہے نہ کر، کہیں ناکام نہ ہو جا۔ انسان کا مستقبل اسی فیصلے پر منحصر ہے کہ وہ کس آواز کو طاقت دیتا ہے۔
خود اعتمادی وہ چراغ ہے جو عمل کے اندھیروں میں روشنی پھیلاتا ہے۔ یہ عزم کو حرکت اور سوچ کو پرواز عطا کرتی ہے۔ بزدلی اس کے برعکس ایک خاموش قبر ہے جہاں خواب دفن ہو جاتے ہیں اور آرزوئیں مٹی میں مل کر خاکستر بن جاتی ہیں۔ زندگی کی جدوجہد دراصل انہی دو قوتوں کی کشمکش ہے۔ ہر لمحہ انسان کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ وہ روشنی کے ساتھ چلنا چاہتا ہے یا اندھیروں کے ہاتھوں خود کو کھو دینا چاہتا ہے۔
خود اعتمادی کا مطلب تکبر یا خود پسندی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر وہ بھروسہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اعتماد سے جڑا ہو۔ یہ یقین عمل کو جنم دیتا ہے، صبر کو مضبوط کرتا ہے اور دعا کو مؤثر بناتا ہے۔ خود اعتماد انسان حالات کا غلام نہیں بنتا بلکہ اپنی محنت، دعا اور استقلال سے حالات کو بدلنے کی طاقت پیدا کر لیتا ہے۔ یہی وصف انبیاء، مصلحین اور اہلِ
ایمان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج۔ بظاہر کوئی راستہ نہیں تھا، مگر ان کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے-
كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ۔ ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔ یہ جملہ خود اعتمادی کی بلند ترین مثال ہے۔ جو شخص خدا کے حضور جھک جاتا ہے، دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جیتا ہے۔
زندگی کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ہر کامیابی ایک نئی آزمائش کو جنم دیتی ہے اور ہر منزل کے بعد ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ مگر اگر انسان کے دل میں خود اعتمادی کی روشنی باقی ہے تو وہ کبھی ہارا ہوا نہیں۔ خود اعتمادی عمل کو جنم دیتی ہے، بزدلی خوابوں کو دفن کر دیتی ہے، اور زندگی کی جدوجہد انہی دو کے درمیان ایک مسلسل انتخاب ہے۔ جو شخص روشنی کا انتخاب کرتا ہے، وہ شکست کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتا ہے اور یہی چراغ بالآخر اسے منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

