Latestاسلامتعلیم و صحتشعبہ انٹرنیشنلمتفرقمذہب

جماعت احمدیہ مسلم ناروے کا جلسہ سیرت النبی ﷺ

Share your Love

رپورٹ: مبارک شاہ بیورو چیف ناروے۔ ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل

جماعت احمدیہ مسلم ناروے نے جلسہ سیرت النبی ﷺ کا انعقاد 11 نومبر بروز منگل بیت النصر اوسلو میں کیا۔ پروگرام کی صدارت قائم مقام امیر جماعت، مکرم اطہر قریشی صاحب نے کی۔ جلسہ کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا جو مکرم بشارت احمد صابر صاحب نے کی، اور اس کا ترجمہ اردو اور نارویجن زبان میں بھی پیش کیا گیا۔ اس کے بعد رسولِ پاک ﷺ کی شان میں ایک خوبصورت نظم پیش کی گئی۔

نارویجن زبان میں دو تقاریر ہوئیں — ایک مکرم ڈاکٹر عبدالحی صاحب (سیکرٹری تربیت) نے اور دوسری مکرم عبدالہادی صاحب (مربی سلسلہ) نے کی۔ اردو میں تقریر مکرم مصور احمد شاہکار صاحب، مربی انچارج ناروے، نے پیش کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور بیان کیا کہ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہر دور کے لیے کامل نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی لائی ہوئی الہامی تعلیمات فطری، ابدی اور آفاقی ہیں۔ دورِ حاضر کے کامیاب سماجی، معاشرتی، اقتصادی، سائنسی اور سیاسی نظام بھی آپ کے عطا کردہ اصولوں کے سامنے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو برس قبل رسولِ کریم ﷺ اور قرآنِ عظیم کی صورت میں انسانیت پر اپنا عظیم الشان نور نازل فرمایا، تمام سابقہ انبیاء کے کمالات اور تمام الہامی کتب کی ابدی صداقتیں آپ ﷺ کے ذریعہ جمع کر دیں۔ مہرِ ختمِ نبوت آپ کے ہاتھ میں دی گئی، اور ایک کامل شریعت کا تاج آپ کے سرِ اقدس پر رکھا گیا۔ آپ ﷺ کو ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا تاکہ تمام انسانوں کے لیے اسوۂ حسنہ بن جائیں۔

یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ وہ صداقتیں جنہیں انسان نے صدیوں بعد تحقیق اور تجربے سے دریافت کیا، وہ رسولِ کریم ﷺ نے چودہ سو برس پہلے بیان فرما دی تھیں — خواہ وہ انفرادی ہوں، اجتماعی، خاندانی یا بین الاقوامی۔

سیرتِ طیبہ کی چند جھلکیاں:

صفائی:

آپ ﷺ نے فرمایا: “میرا دین پاکیزگی پر قائم ہے”۔ اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے صفائی کو ایمان اور شریعت کا حصہ بنایا۔

عائلی زندگی:

آپ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہلِ خانہ سے حسنِ سلوک کرنے والا ہوں۔”

علم کی فضیلت:

آپ ﷺ نے فرمایا: “علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔” آپ نے واضح کیا کہ حقیقی ہتھیار تلوار نہیں بلکہ علم ہے۔ آج دنیا کے لوگ علم کے میدان میں انہی تعلیمات کی عملی تصدیق کر رہے ہیں۔

خوراک میں اعتدال:

آپ ﷺ نے فرمایا: “حلال اور طیب کھاؤ، مگر اسراف نہ کرو۔” آپ نے چند ناپاک چیزوں کو ممنوع قرار دیا کیونکہ وہ روحانیت اور اخلاق پر برا اثر ڈالتی ہیں۔

سود کی حرمت:

آپ ﷺ نے سود کو سختی سے حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: “اگر تم سود سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔” آج دنیا کے ماہرینِ معیشت سود کے نقصانات تسلیم کرتے ہوئے اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔

انسانی مساوات:

حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: “تمام انسان برابر ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔” آپ نے غلاموں کو آزاد کیا اور نئے غلام بنانے سے منع فرمایا۔

مذہبی رواداری:

اسلام ہر شخص کو مذہب اختیار کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ کسی کو زبردستی اسلام میں لانا یا نکالنا منع ہے۔ اسلام تمام انبیاء اور ان کی قوموں کے پیشواؤں کی عزت کرنا سکھاتا ہے، حتیٰ کہ دوسروں کے معبودوں کو برا کہنے سے بھی روکتا ہے۔ عدل، انصاف اور امنِ عامہ کو سب پر مقدم رکھا گیا ہے۔

رحمت للعالمین کا نمونہ:

آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی بے مثال حسنِ سلوک کیا۔ ایک یہودی عورت کی دعوت قبول کی جس نے کھانے میں زہر ملایا تھا، ایک یہودی نوجوان کی عیادت کی، یہودی کے جنازے کے لیے احتراماً کھڑے ہوئے، اور دشمنوں کے مقتولین کو بھی دفن کرایا۔ بوقتِ وفات بھی آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔

انصاف اور عفو:

آپ ﷺ نے فرمایا: “ظلم کا بدلہ برابر دیا جا سکتا ہے، مگر جو معاف کرے اور اصلاح چاہے اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔”
فرمایا: “اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو وہ بھی سزا کی مستحق ہوگی۔” یہ بے لاگ انصاف کی اعلیٰ مثال ہے۔

عظیم اخلاق اور عالمی اعتراف:

دنیا کے غیر متعصب مفکرین بھی آپ ﷺ کی عظمت کے معترف ہیں۔ برنارڈ شا نے لکھا:

“اگر دنیا کو محمد ﷺ جیسا حکمران مل جائے تو وہ تمام مسائل حل کر کے امن و خوشحالی قائم کر دے۔”

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:

“اگر کسی نبی کی فضیلت اس کے بنی نوع انسان کے لیے ہمدردی سے ثابت ہو سکتی ہے تو گواہی دو کہ محمد ﷺ جیسا کوئی نہیں۔ وہ وقت قریب ہے جب دنیا اس رسولِ برحق کو پہچانے گی اور اس کی صداقت کا اقرار کرے گی۔”

آخر میں جلسے کا اختتام دعا سے ہوا۔ مرد، خواتین اور بچوں سمیت کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی، جن میں مختلف اقوام کے نمائندے بھی شامل تھے۔ تمام شرکاء کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *