غزل ۔ ۔ ۔ میر تقی میر
شاعر: میر تقی میر
آکے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد
چاک کرنا ھے اسی غم سے گریبانِ کفن
کون کھولے گا تیرے بند قبا میرے بعد
وہ ہوا خواہ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح
پہلے میں جاتا تھا اور باد صبا میرے بعد
تیز رکھنا سر پر خار کو اے دشتِ جنوں
شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
منھ میں رکھ دامنِ گل روئیں گے مرغان چمن
ہر روش خاک اڑائے گی صبا میرے بعد
بعد مرنے کے میری قبر پہ آیا وہ ‘میر’
یاد آئی میرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

