Latestبزنستاریختہذیبثقافتسیاستمتفرق

طالبان نظریاتی سایہ، بھارتی سفارتی امتحان

Share your Love

تحریر: حیران مومند

طالبان کے وزیرِ خارجہ کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران خواتین صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہ دینا محض ایک وقتی یا معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی المیہ ہے جس نے نہ صرف طالبان کے اندرونی نظریاتی رویّے کو بے نقاب کیا ہے بلکہ بھارت جیسے جمہوری ملک کے لیے بھی ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر اس نازک خطے کے فکری و اخلاقی زوال کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے جہاں مذہب، طاقت، سیاست اور عورت کے حقوق کی جنگ اب بھی جاری ہے۔ یہ محض ایک پریس کانفرنس نہیں بلکہ تہذیبوں، نظریات اور اصولوں کے درمیان تصادم کی تازہ علامت ہے۔

افغانستان کی حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ طالبان کا نظریہ عورت کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت کے خلاف ایک منظم مزاحمت پر قائم ہے۔ 1996 میں جب انہوں نے پہلی بار اقتدار حاصل کیا تو کابل کی گلیوں میں عورت کا چہرہ مٹ گیا، اسکول بند کر دیے گئے، اور میڈیا میں عورت کا وجود “غیراخلاقی” قرار دیا گیا۔ ان کی دلیل ہمیشہ یہی رہی کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہیں، مگر درحقیقت ان کی تعبیر مذہب سے زیادہ قبائلی اقدار سے جڑی ہوئی ہے۔ طالبان نے مذہب کو اس طرح برتا جیسے وہ محض مردانہ اقتدار کی توثیق کا ایک ذریعہ ہو۔ ان کے نزدیک عورت کا وجود گھر کی دیواروں تک محدود ہے اور اس کی کوئی فکری، علمی یا صحافتی شناخت خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو طالبان کا یہ رویہ صریحاً اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ قرآن کریم نے مرد و عورت دونوں کو علم کے حصول کا یکساں حق دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں عورت نہ صرف تعلیم یافتہ تھی بلکہ تجارت، سیاست، اور طب کے میدانوں میں فعال کردار ادا کرتی رہی۔ حضرت عائشہؓ کو علمی و فقہی معاملات میں اتنا بلند مقام حاصل تھا کہ بڑے بڑے صحابہ ان سے مسائل پوچھنے آتے۔ حضرت شفاء بنت عبداللہؓ کو حضرت عمرؓ نے مدینہ کے بازار کی نگران مقرر کیا تھا۔ یہ تمام تاریخی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو کسی بھی لحاظ سے کم تر نہیں سمجھا۔

طالبان کا تصورِ عورت دراصل خوف اور کنٹرول کی نفسیات سے جنم لیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت سوال کرتی ہے، دلیل دیتی ہے، اور اپنی شناخت کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہی چیز ہر آمرانہ ذہن کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ طالبان کا خوف اس بات سے ہے کہ اگر عورت نے شعور حاصل کر لیا تو ان کی فکری عمارت، جو مذہب کے نام پر استوار کی گئی ہے، زمیں بوس ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عورت کو تعلیم سے، روزگار سے، اور صحافت سے دور رکھ کر اپنے تسلط کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

جب طالبان کے وزیرِ خارجہ نئی دہلی پہنچے تو وہ اپنے ساتھ وہی نظریاتی بوجھ لائے جو انہوں نے افغانستان میں نافذ کر رکھا ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت جیسے جمہوری ملک میں ان کی اسی سوچ کو بلا روک ٹوک نافذ ہونے دیا گیا۔ خواتین صحافیوں کو ایک ایسے ملک میں داخلے سے روکا گیا جو دنیا میں جمہوریت، آزادیِ اظہار، اور مساوات کا علمبردار کہلاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف طالبان کی ہٹ دھرمی تھی یا بھارت کی خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ جمہوریت کے اصول اب سفارتی مصلحتوں کے آگے سر جھکا چکے ہیں؟

بھارت کی خارجہ پالیسی گزشتہ چند برسوں میں مفاد پرستی کی جس سمت میں بڑھ رہی ہے، اس واقعے نے اس کی قلعی کھول دی ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا تھا۔ مگر جیسے ہی افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کا اثر کم ہوا اور طالبان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کیا، بھارت نے عملی طور پر ان کے ساتھ روابط بحال کر لیے۔ یہ روابط کسی نظریاتی ہم آہنگی پر نہیں بلکہ جغرافیائی اور تجارتی مفاد پر مبنی ہیں۔ بھارت کو وسطی ایشیا تک رسائی چاہیے، اور طالبان اس کے لیے ایک دروازہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں طالبان کے نمائندے کے سامنے بھارتی حکومت نے اپنے جمہوری اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔

یہ واقعہ بھارت کے اندرونی تضادات کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف وہ دنیا کو عورتوں کے حقوق، اقلیتوں کی آزادی اور اظہارِ رائے کے احترام کا درس دیتا ہے، دوسری طرف اپنی سرزمین پر طالبان کی فکری قدغنوں کے سامنے خاموش کھڑا رہتا ہے۔ دہلی میں خواتین صحافیوں کی بیدخلی نے دراصل یہ ثابت کیا کہ بھارت کے جمہوری ادارے بھی سیاسی مفاد کے تابع ہو چکے ہیں۔ یہ خاموشی سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی کمزوری ہے۔

طالبان کے لیے عورت محض ایک سماجی وجود نہیں بلکہ نظریاتی دشمن ہے۔ وہ اسے ایک “فتنہ” کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا دب جانا ان کی مذہبی کامیابی کی علامت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو فکری طور پر مرد کے برابر کھڑا کیا۔ قرآن نے بارہا مرد و عورت دونوں کو “ولی” یعنی ایک دوسرے کے مددگار کہا۔ نبی ﷺ کے قول اور عمل دونوں نے عورت کو معاشرتی زندگی میں شریک رکھا۔ اس کے برعکس طالبان کی تعبیر نے مذہب کو محض مردانہ اقتدار کے تحفظ کا ہتھیار بنا دیا۔

طالبان کی سوچ اب صرف افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ وہ نظریاتی طور پر ان ممالک میں اثر ڈالنے لگی ہے جہاں مذہبی جذبات اور پدرشاہی رویے پہلے ہی مضبوط ہیں۔ جنوبی ایشیا میں عورت کے خلاف امتیاز کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ ہندو مذہب کی رسم “ستّی” ہو یا مسلم معاشرے میں عورت کے پردے کو جبر کی صورت دینے کی روایت — دونوں نے عورت کو معاشرتی ترقی سے دور رکھا۔ طالبان کی سوچ اسی تاریخی تسلسل کی جدید شکل ہے جو عورت کی فکری آزادی سے خوفزدہ ہے۔

ایک پریس کانفرنس کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی چیلنج ہے۔ اگر وہ اپنے جمہوری اصولوں پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اسے ایسے نظریاتی فسطائیت کے مظاہر کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔ عورت کی عزت اور اس کے حقِ اظہار کی حفاظت کسی مہمان کی خوشنودی سے زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ مگر افسوس کہ دہلی میں ایسا نہیں ہوا۔ بھارت نے اپنی سرزمین پر طالبان کے نظریے کو بولنے دیا، اور اپنی صحافیوں کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔

عالمی سطح پر اس واقعے نے انسانی حقوق کے اداروں اور صحافتی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اسے میڈیا فریڈم پر حملہ قرار دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ بھارت میں اگر عورتیں محفوظ نہیں تو دنیا کے باقی حصوں میں ان کے لیے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان جہاں بھی عورت کی آواز دبانے کی کوشش کریں، اسے عالمی سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے۔

طالبان کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف مذہبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سیاسی زاویے سے بھی دیکھیں۔ طالبان کا نظام خوف پر قائم ہے۔ یہ خوف عورت کے بولنے، پڑھنے، یا دکھائی دینے سے ہے — کیونکہ یہی چیز سماج میں تبدیلی لاتی ہے۔ جب عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ نسلوں کو شعور دیتی ہے، اور یہی شعور آمریت کے خاتمے کی بنیاد بنتا ہے۔ طالبان کو علم ہے کہ اگر عورت آزاد ہوئی تو ان کا اقتدار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

بھارت کے رویے کو اگر ہم عالمی جمہوری اقدار کے تناظر میں دیکھیں تو یہ واقعہ ایک بڑی اخلاقی پسپائی ہے۔ جمہوریت کا مطلب محض انتخابات نہیں بلکہ مساوی حقوق، آزاد صحافت، اور انسانیت کے احترام پر مبنی طرزِ حکمرانی ہے۔ دہلی میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سلوک نے ثابت کیا کہ بھارت اب اصولی پالیسی کے بجائے مصلحتوں کی سیاست کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف اس کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے جمہوری مستقبل پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

یہ واقعہ ایک علامتی جنگ کی نمائندگی کرتا ہے — علم بمقابلہ جہالت، انصاف بمقابلہ طاقت، اور مساوات بمقابلہ امتیاز۔ طالبان کے لیے عورت محض ایک سماجی کردار نہیں بلکہ ان کے مذہبی غلبے کے بیانیے کے لیے خطرہ ہے۔ جبکہ بھارت کے لیے عورت کا اخراج اس کی جمہوری شناخت پر ایک دھبہ ہے۔ ایک طرف مذہب کے نام پر ظلم کی توجیہہ ہے، دوسری طرف جمہوریت کے نام پر خاموشی۔ دونوں صورتوں میں نقصان عورت کا، سماج کا، اور انسانی وقار کا ہے۔

یہ لمحہ تاریخ کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر عالمی ضمیر نے طالبان کے اس رویے کو محض ایک واقعہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو آنے والے وقت میں یہ سوچ سرحدوں سے نکل کر نظریاتی سرطان کی شکل اختیار کر لے گی۔ عورت کے خلاف امتیاز دراصل انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ اسلام ہو یا جمہوریت، دونوں کا مقصد انسان کو آزاد اور باشعور بنانا ہے۔ طالبان نے اسلام کو قید خانے میں بدل دیا اور بھارت نے جمہوریت کو سفارت کے تابع کر دیا۔

یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا دنیا اصولوں پر قائم رہنا چاہتی ہے یا مفادات پر؟ اگر طاقتور ممالک مذہب کے نام پر عورت کی توہین برداشت کریں گے تو کمزور اقوام میں اس جبر کو جواز مل جائے گا۔ اگر جمہوری ملک بھی عورت کی آواز سے خوفزدہ ہوں تو پھر آمریت اور جہالت کے خلاف جنگ کون لڑے گا؟

طالبان کی سوچ ایک فکری قید ہے اور بھارت کی خاموشی ایک اخلاقی شکست۔ دہلی کی اس پریس کانفرنس نے دکھا دیا کہ نظریات کا تصادم اب سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ عورت کی بیدخلی دراصل انسانیت کی بیدخلی ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، علم دیا، اور برابری دی۔ طالبان نے اسے چھین لیا۔ جمہوریت نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا، مگر دہلی میں وہ وعدہ بھی ٹوٹ گیا۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل جنگ اب بندوقوں یا سرحدوں کی نہیں، بلکہ نظریات کی ہے — اور اس جنگ میں شکست اسی کو ہوگی جو اصولوں سے پیچھے ہٹے گا۔ عورت کی آزادی صرف عورت کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اور جب تک دنیا یہ نہیں سمجھے گی، طالبان کی تاریکی سرحدوں سے پار پھیلتی رہے گی، یہاں تک کہ ہر وہ سماج جو اصولوں پر یقین رکھتا ہے، خود اپنے ضمیر سے ہار جائے گا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *