پاکستان و افغانستان میں انسانی بحران
تحریر: حیران مومند (KPK)
پہلی بات یہ کہ وہ اعداد و شمار (جن میں چالیس لاکھ بچے سکول سے باہر، پچیس سے زائد فیصد بے روزگاری، بارہ فیصد نشے بازی، وغیرہ) جس قسم کی عمومی پریشانی بیان کرتے ہیں، وہ غالباً کسی غیر سرکاری رپورٹ، صحافتی دعوے یا عوامی تقریر کا حصہ ہوں گے، مگر مجھے کوئی معتبر بین الاقوامی یا سرکاری رپورٹ اس طرح کے اعدادجویے کے ساتھ نہیں ملی۔
مثلاً پاکستان کی لیبر فورس سروے اور سرکاری معیشتی رپورٹوں میں ایک عام بے روزگاری کی شرح تقریباً 5 سے 10 فیصد کے درمیان رہی ہے، نہ کہ 22٪ جیسے دعوے۔ پاکستان کے فنانس سروے 2020-21 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بے روزگاری کی شرح اُس وقت تقریباً 6.3٪ رہی۔
اس کے برعکس، ایک حالیہ دعویٰ ازسابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے کہا ہے کہ جدید مردم شماری اور آبادیاتی سروے 2023 کی بنیاد پر بے روزگاری کی شرح اب 22٪ تک پہنچ چکی ہے، یعنی تقریباً ہر پانچواں فرد بے روزگار ہے۔
یہ دعویٰ اور سرکاری اعداد و شمار کے مابین تضاد اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ حقیقی صورتِ حال کا تعین کرنا آسان کام نہیں۔
اسی طرح افغانستان میں بچوں کے تعلیم سے باہر رہ جانے کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے۔ مثال کے طور پر، ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 3.7 ملین افغان بچے اسکول نہیں جاتے تھے (تقریباً نصف تعداد) ۔ یہ عدد “40 لاکھ بچے” کے دعوے کے قریب ہے، مگر خاص صوبوں، لڑکیوں کے محرومی اور طالبان کے دور میں تعلیمی پابندیوں کے بعد یہ تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔ مزید یہ کہ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کی ہے، جس نے مزید لاکھوں لڑکیوں کی تعلیم روکی ہے۔
لہٰذا، چونکہ وہ اعداد فرضی یا مبالغے کے امکان رکھتے ہیں، مگر ایک سنگین حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، میں انہیں بطور بیانیے کی حیثیت سے قبول کرتے ہوئے اس کالم میں ان کی تنقیدی جانچ، پسِ منظر اور مستقبل کی سمت بیان کروں گا۔
دنیا کے دو ہمسایہ ممالک — پاکستان اور افغانستان — جن میں انسانیت کا المیہ عام لوگوں کی کھلی زخم ہے، ایک مشترکہ تصویر پیش کرتے ہیں: وسائل کی غیر مساوی تقسیم، بدعنوانی، جنگ و انتشار، ناکافی ریاستی انتظام، اور انسانی حقوق کی پامالی۔ یہ وہ عوامل ہیں جو لوگوں کی بنیادی زندگی — تعلیم، روزگار، خوراک اور تحفظ — کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
افغانستان کی صورتِ حال اس لحاظ سے پیچیدہ ہے کہ وہاں تسلسلِ جنگ، بیرونی مداخلتیں، سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال نے سماجی ڈھانچے کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ بہت سے علاقے زیرِ قبضہ یا کمزور ریاستی کنٹرول میں ہیں، جس کی وجہ سے تعلیمی اور سماجی سہولتیں نہیں پہنچتی۔ سکولوں کی بندش، خواتین کی تعلیم پر پابندی، اور غریب علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی نے تعلیم کی شرح کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں َ “پچیس فیصد سے زائد افراد منشیات کے عادی” یا “دو کروڑ افراد بے گھر” جیسے اعداد اگرچہ بہت زیادہ محسوس ہوتے ہیں، مگر یہ تعداد مفروضہ بیان کرتی ہیں کہ بحران کی وسعت کس قدر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی صورت میں، اگرچہ سرکاری اعداد و شمار بے روزگاری کو کم ظاہر کرتے ہیں، مگر وہ زندگی کی حقیقت — روزمرہ مہنگائی، غیر معمولی قرض، عدم استحکام، اعلیٰ شرحِ غربت — اس سے مختلف بیان کرتی ہے۔ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ سرکاری اعداد و شمار میں “روشن روزگار” یا “نصابِ معیارِ روزگار” کا تعین ہوتا ہے جو کہ واقعی ملازمت کی کیفیت کو درست عکس نہ دے۔ اس لیے رسمی شرحِ بے روزگاری اگرچہ کم ظاہر ہو، مگر غیر رسمی، عرضی اور ناقص روزگار کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں گریجویٹ بے روزگاری کا مسئلہ بھی گہرا ہے۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ دیہی شعبے میں گریجویٹ بے روزگاری کی شرح تقریباً 22٪ ہے، یعنی بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملازمت نہیں پا رہے۔
یہ تضاد اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ صرف تعلیم دینا کافی نہیں، بلکہ صنعت، مہارت اور ملازمت کی موافقت (industry linkage) ضروری ہے۔
غذائی قلت، بے گھری، اور نشے بازی کے مسائل بھی ریاست کے ناکارہ سماجی سرکشی کا اظہار ہیں: جب انسان کی بنیادی ضروریات پورا نہ ہوں تو وہ بیماری، منشیات یا بے گھر پن کی پناہ لے لیتا ہے۔ جنگ یا بحران کی کیفیت ان عوامل کو مزید شدت دیتی ہے کیونکہ ریاست کا بنیادی دائرہ دفاع، امن و استحکام بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے، اور امداد و منصوبہ بندی صرف وقتی اور انتخابی ہوتی ہے، نہ کہ مستقل اور نظام شمولیت پر مبنی۔
مستقبل کی سمت اگر خواہش کی جائے تو حل صرف اقتصادی منصوبوں میں نہیں، بلکہ سماجی بیداری، ریاستی ذمہ داری، شفاف پالیسی اور کمیونٹی شمولیت میں ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو محض مزدور کی حیثیت نہ بلکہ جدت، تخلیق اور انسانی وقار کی حیثیت سے دیکھیں۔ تعلیم صرف نصاب نہیں بلکہ عملی مہارت سکھانے کا ذریعہ بنے، مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے، چھوٹے کاروبار اور دیہی معیشت کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور معدنی وسائل کا منافع مقامی لوگوں کو ملے — نہ کہ صرف آجروں اور مڈل مین کو۔
مزید یہ کہ بین الاقوامی سطح پر شفاف تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قرض معافی جیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ بحران زدہ ملکوں کو نفسِ اقتصادی آزادی مل سکے۔ اگر پاکستان اور افغانستان واقعی اپنی آنے والی نسل کے لیے زمین پر بہتر زندگی کا وعدہ کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں فوراً اپنی معاشی، تعلیمی اور سماجی بنیادوں کا انقلاب کرنا ہوگا — ورنہ وہ صرف دعوے بازی کی سرزمین بن جائیں گے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

