Latestاسلامتاریخشخصیتمذہب

آنحضرت ﷺ غیروں کی نظر میں

Share your Love

مقام مصطفیﷺوشانِ مصطفیﷺوہ مقام ہے جس کی وسعت ورفعت کا اندازہ لگانا محال وناممکن ہے۔

بقول شاعر:

خدا کا حُسنِ انتخاب ، انتخابِ لاجواب

ہمارے نبیﷺ کی شان ومقام مانتی تو ساری کائنات ہے، کیا نباتات ، کیا جمادات ، کیا بحروبر ، کیا شمس وقمر ، کیا چرند پرند، کیا حور وملائک، کیا جن وبشر، کیا بہار وخزاں، کیا آسمان وزمین، کیا دوست ودشمن ، کیا اپنے وپرائے، غرض کائنات کی ہرہستی مقام مصطفی ﷺاور پیغمبرِ اسلام کی تہذیب ، امانت داری ، دیانت ، اعلیٰ اخلاق اور مساوات کا اقرار کرتے ہیں مگر کائنات کی کوئی بھی ہستی یا کل کائنات بھی مل کر مکمل طور پر شان اور مقامِ مصطفیﷺبیان کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمان تو اسے مانتے ہی ہیں لیکن غیر مسلم بھی محبوبِ خداﷺکی عظمت وشان کو بیان کرتے ہیں ۔ کفارِ مکہ سے لے کر آج چودہ سو سال گزر جانے کے بعد تک بے شمار غیر مسلموںنے زبانی ، تحریری ، شعری اور ہر انداز میں مقام مصطفیﷺکے مقام کو تسلیم کیا ہے ۔ ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ :

ہوجائے عشق اس میں چارہ تو نہیں
فقط مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں

مشرق ومغرب کے بڑے بڑے محقق ، اصحابِ فراست ولیاقت اور مفکرین نے اپنی تحریروں میں سرورِ کائنات ﷺ کے متعلق جو اعتراف حقیقت کیا ، انہی کے الفاظ میں پیشِ خدمت ہے۔

ایک ہندوپروفیسر اماکرشنا رائـو رسول معظمﷺکواس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتاہے:

رسول عربی اکے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمداجرنیل ہیں، یہ محمد بادشاہ ہیں ، سپہ سالار ہیں ، تاجر ہیں ، داعی ہیں ، فلاسفر ہیں ، مدبر ہیں ، خطیب ہیں، مصلح ہیں ، یتیموں کی پناہ گاہ ہیں ، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں ، جج ہیں ، ولی ہیں ۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کیلئے آپ ﷺکی حیثیت مثالی ہے ۔

فرانس کے عظیم جرنیل نپولین بوناپارٹ نے رسول کریم ﷺکی ذات کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے :

’’ محمد ﷺدراصل اصل سالارِ اعظم تھے۔ آپ نے اہلِ عرب کو درسِ اتحاد دیا۔ ان کے آپس کے تنازعات ومناقشات ختم کیے۔ تھوڑی ہی مدت میں آپ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کرلیا۔ ۱۵ سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کرلی ۔ مٹی کی بنی ہوئی دیویاں مٹی میں ملادی گئیں ، بت خانوں میں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ دیا گیا۔ حیرت انگیز کارنامہ تھا رسول معظم ﷺکی تعلیم کا کہ یہ سب کچھ صرف پندرہ ہی سال کے عرصے میں ہو گیا۔ جبکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام پندرہ سوسال میں اپنی امتوں کو صحیح راہ پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے۔ حضرت محمدﷺعظیم انسان تھے۔ جب آپ دنیا میں تشریف لائے اس وقت اہل عرب صدیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا تھے۔ دنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت وشہرت حاصل کی اس قوم نے بھی اس طرح ابتلاء ومصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی اور اس نے اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کرکے تقدس وپاکیزگی کا جوہر حاصل کیا۔‘‘

یورپ کا مشہور عالم ٹامس کارلائل رسول اللہ ﷺکی صداقت کا ان الفاظ میں اظہار کرتاہے۔

’’صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا محمد ﷺکے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح ، شفاف قلب وبلند نظری اور مقدس خیالات رکھتاتھا۔ جن کو خدا ہی نے حق وصداقت کی اشاعت کیلئے پیدا کیا۔ ہستی کا بھیدان پر کھل گیا تھا۔ آپ کا کلام خود اللہ کی آواز تھا۔‘‘

موہن چند کرم داس گاندھی رسول اللہﷺکے بارے میں کہتے ہیں:

’’اسلام نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہوگئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے، ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں میں یقین سے کہتاہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیاد نبی کا خلوص ، خودی پر آپ کا غلبہ ، وعدوں کا پاس ، غلام ، دوست اور احباب سے یکساں محبت۔ آپ کی جرأت اور بے خوفی اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے۔

روسی فلاسفر کائونٹ ٹالسٹانی کہتاہے:

’’محمدﷺعظیم الشان مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورحق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد ، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی وتہذیب کے راستے کھول دئیے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا۔

سرولیم میود اپنی کتاب لائف آف محمد میں لکھتاہے:

’’ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کااعتراف کرلینا چاہیے کہ تعلیم نبوی ﷺنے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لئے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھأئے ہوئے تھے ، بت پرستی نابود ہوگئی ، توحید اور اللہ کی بے پناہ رحمت کا تصور محمد ﷺکے متبعین کے دلوں میں گہرائیوں اور زندگی کے اعماق میں جاگزیں ہوگئی ، معاشرتی اصلاحات کی بھی کوئی کمی نہ رہی ۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت ، یتیموں کی پرورش ، غلاموں سے احسان ومروت جیسے جوہر نمودار ہوگئے امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی اور کسی مذہب کو نصیب نہیں ہوئی۔‘‘

جوزف جے نوٹن رقم طراز ہیں:

’’ جناب محمدﷺکا مذہب مطلق العنان روس کیلئے بھی اتنا ہی موزوں ہے جتنا جمہوریت پسند متحدہ امریکا کے لئے وہ مناسب ومفید ہے اسلام ایک عالمگیر حکومت کی نشاندہی کرتاہے اور اسلام کی کتاب قرآن کا موضوع زندگی ہے اور اس میں پوری انسانی زندگی کو سمیٹ دیا گیا ہے۔‘‘

موتی لال نہرو کہتے ہیں:

’’سچی توحید نے مسلمانوں کے اندر خوف وجرأت بے باکی اور شجاعت وبسالت پیدا کردی اور عزم وارادوں میں پختگی اس درجہ پیدا کردی کہ پہاڑوں کو اپنی بلندی اور مضبوطی ہیچ نظر آنے لگی۔ سمندوں کا جوش ٹھنڈا ہوگیا ۔توحید کی ایسی تعلیم آپ نے مسلمانوں کو دی جس سے ہر قسم کی توہمات کے جڑیں کھوکھلی ہوگئیں ۔ ہر قسم کا خوف دلوں سے نکل گیا اور یہ سب کس کے سبب تھا۔ اس شخصیت کے جس کو مسلمانوں نے نبی آخر الزماں کہا اور دوسروں نے اس کو بنی نوع انسان کا ایک عظیم رہنما جانا۔‘‘

مشہور فرانسیسی مؤرخ موسیوسیدیو نبی کریم ﷺکو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں:

’’محمد یوں تو محض اُمی تھے۔ مگر عقل ورائے میں یگانہ روزگار تھے۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے اور اکثر خاموش رہتے۔ طبیعت کے حلیم ، خلق کے نیک ، اکثر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ذکر کیا کرتے لغویات کبھی زبان سے نہ نکالتے۔ مساکین کو دوست رکھتے کبھی فقیر کو فقر کے سبب سے حقیر نہ جانتے نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے۔‘‘

جارج برناڈ شاہ لکھتاہے:

’’میں نے رسول اکرمﷺکے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھاہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آپ عیسائیوں کے دشمن تھے میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے میری رائے میں آپ پورے بنی نوع انسان کے محافظ تھے۔‘‘

ایس مار گولیوتھ رقم طراز ہے:

’’رسول امینﷺکی دردمندی کا دائرہ انسان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے جانوروں پر بھی ظلم وستم توڑنے کو بہت بُرا کہا ہے۔‘‘

مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں :

’’آپ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کیلئے جو اسوئہ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتاہے۔‘‘

ڈاکٹر جی ویل نے رسول اکرم ﷺکی ان الفاظ میں تعریف کی ہے :

’’بیشک رہبر اعظم محمدﷺنے گمراہوں کیلئے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آپ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی آپ کا لباس اور آپ کی غذا بہت سادہ تھی۔ آپ کے مزاج میں بالکل تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم وتکریم کے رسمی آداب سے منع فرماتے تھے۔ آپ نے اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپ خود کرسکتے تھے آپ بازار جاکر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے ، اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے ، خودبکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور ہرشخص سے مہربانی کا برتاؤ فرماتے تھے۔ آپ کی خوش اخلاقی ، فیاضی اور رحم دلی محدود نہ تھی۔ غرض آپ قوم کی اصلاح کی فکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آپ کے پاس بے شمار تحائف آتے تھے لیکن بوقت وفات آپ نے صرف چند معمولی چیزیں چھوڑیں اور ان کو بھی مسلمانوں کا حق سمجھتے تھے۔‘‘

لیفٹیننٹ کرنل سالیکس کہتے ہیں:

’’نبی محترم محمد ﷺکے حالات زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی انصاف پسند شخص ان کی اولوالعزمی ، اخلاقی جرأت ، نہایت خلوصِ نیت، سادگی اور رحم وکرم کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا پھر انہی صفات کے ساتھ استقلال وعزم وحق پسندی اور معاملہ فہمی کی قابلیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ آپ نے اپنی سادگی، لطف وکرم اور اخلاق کو بلا خیال ومرتبہ قائم رکھا۔ اس کے علاوہ شروع سے آخر تک وہ اپنے آپ کو ایک بندئہ خدا اور پیغمبر خدا بتلاتے رہے حالانکہ وہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کرکے اس میں کامیاب ہوسکتے تھے۔‘‘

ڈاکٹر مائیکل مارٹ نے اپنی کتاب  ”The Hundred‘‘ میں تاریخ کی 100 ایسی شخصیتوں کا ذکر کیاجنہوں نے دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے ۔اس عیسائی نے 100 ہستیوں میں سب سے پہلے نمبر پر نبی آخر الزماں کا مبارک تذکرہ کیا ۔ وہ لکھتاہے:

کہ میںنے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمدﷺ کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے ۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑکپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں ، جس سے پتہ چلتاہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کی بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کردکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدا ہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ مانتا ہوں۔

ریمنڈ لیروگ رسول اکرمﷺکو اس طرح خراج عقیدت پیش کرتا ہے :

’’نبی عربیﷺاس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرئہ ارض پرپھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات ، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی۔‘‘

قارئین کرام! جب کافر اپنی زبان سے یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺنے یقینا انسانیت کے اوپر بڑا احسان فرمایاہے اور نبی اکرم ﷺکی ذات کو ایک ایسی فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری ہستی کو حاصل نہیں ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم محبوب خدا کی تعلیمات پر دل وجان سے عمل کریں تاکہ دنیا وآخرت میں سرخرو ہوسکیں۔

بشکریہ: اُسوۂ حسنہ

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *