سوشل میڈیاسیاستقومیمتفرقمذہبمعاشرہ

ہیرو سے دہشتگرد تک پاکستان کی خارجہ پالیسی

Share your Love

تحریر: حیران مومند (KPK)

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ اگرچہ مختصر عرصے میں تشکیل پائی، مگر اس کے فیصلے عالمی سیاست کے تناظر میں گہرے اور متنازع اثرات کے حامل رہے ہیں۔ خاص طور پر افغان جہاد کے دوران کیے گئے اقدامات نے نہ صرف خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا بلکہ پاکستان کے داخلی اور خارجی محاذ پر بھی طویل مدتی نتائج مرتب کیے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے انٹرویو میں کیے گئے اعترافات نے اس حقیقت کو بےنقاب کر دیا کہ وہ ہی مجاہدین، جو کبھی “ہیرو” کہلائے، آج دنیا کے لیے “دہشتگرد” بن چکے ہیں۔ یہ تضاد محض لغوی نہیں بلکہ پالیسی، سیاسی نظریہ اور قومی مفادات کے درمیان ایک بنیادی انتشار کی عکاسی کرتا ہے۔

افغان جہاد کا پس منظر سمجھنے کے لیے ہمیں 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے تک واپس جانا پڑے گا۔ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی نے امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر اس مہم کو نہ صرف مالی بلکہ فوجی اور تربیتی لحاظ سے سپورٹ کیا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے قومی مفاد، مذہبی جہاد، اور عسکری استراتیجی کے تناظر میں مجاہدین کی بھرپور حمایت کی۔ اس میں افغان اور دیگر مسلم ممالک کے رضاکاروں کو بھرتی کرنا، انہیں تربیت دینا، اور اسلحہ فراہم کرنا شامل تھا۔ اس پالیسی کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ ایک مضبوط افغان مزاحمت سوویت یونین کو شکست دے اور پاکستان کے سرحدی مفادات کو محفوظ بنائے۔

اس دور میں مجاہدین کو “ہیرو” کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ وہی گروہ تھا جو پاکستان کی سرحدی سلامتی کے لیے کام کرتا، اور اس کا کردار عالمی طاقتوں کے نقطہ نظر میں بھی مفید تھا۔ لیکن اس پالیسی کا ایک غیر متوقع پہلو یہ تھا کہ ان ہی ہیروز میں وہ عناصر بھی شامل تھے جنہوں نے بعد میں عالمی سطح پر دہشتگردی کے بڑے نیٹ ورکس قائم کیے۔ اسی تناظر میں جنرل مشرف کے بیان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جس میں انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستان نے طالبان، حقانی نیٹ ورک، اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے عناصر کی حمایت کی۔

یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک دیرینہ تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔ کل کے ہیرو آج عالمی منظرنامے میں دہشتگرد کہلاتے ہیں۔ یہ تضاد محض ناموں یا شناختوں کا نہیں، بلکہ اس پالیسی کی اخلاقی اور قانونی جہتوں سے متعلق ہے۔ پاکستان نے ایک طرف اپنی سرحدی سلامتی اور قومی مفاد کے لیے اقدامات کیے، تو دوسری طرف وہ عناصر جو ابتدا میں معاون تھے، بعد میں نہ صرف ریاست کے لیے خطرہ بن گئے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ اور پابندیوں کی شکل میں ملک کو بھی متاثر کیا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس متنازع دور کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1990 کی دہائی میں طالبان کے عروج اور افغانستان میں ان کے اقتدار کے قیام پر غور کرنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان نے طالبان کو ایک ضروری سیاسی طاقت کے طور پر تسلیم کیا، کیونکہ ان کے قیام سے افغان خانہ جنگی کا اختتام ممکن تھا اور پاکستان کے سرحدی مفادات محفوظ رہ سکتے تھے۔ اس پالیسی نے ایک عرصے تک پاکستان کو خطے میں اثرورسوخ دلایا، مگر اسی دوران طالبان کی داخلی پالیسی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اور عالمی دہشتگردی سے تعلقات نے پاکستان کی حیثیت کو پیچیدہ بنا دیا۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ان ہی گروہوں کو سپورٹ کرتا رہا جنہوں نے عالمی دہشتگردی کی شکل اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 2001 کے بعد امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں آپریشنز کے دوران پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ دہشتگرد عناصر کو پناہ دیتا ہے، حالانکہ ان عناصر کی ابتدا میں پاکستان کے مقاصد سے وابستگی تھی۔ اس تضاد نے نہ صرف خارجہ پالیسی میں الجھن پیدا کی بلکہ ملکی سطح پر بھی داخلی سلامتی کے مسائل بڑھائے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی پالیسی ساز قیادت نے ماضی کے فیصلوں کے نتائج کا ازسرِنو جائزہ لیا؟ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ خارجہ پالیسی میں یہ تضاد مسلسل موجود رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کی حمایت میں پاکستان کو مغربی امداد ملی، لیکن 1990 کی دہائی میں طالبان اور القاعدہ کے عروج نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شبیہ کو پیچیدہ بنایا۔ پاکستان کی سرحدی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات نے کئی بار داخلی سلامتی کے خطرات کو جنم دیا، جس میں شمالی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کا بڑھنا اور دہشتگرد حملے شامل ہیں۔

افغانستان میں پاکستان کے اقدامات اور طالبان کی حمایت کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے ہمیں عالمی سیاسی منظرنامے کا جائزہ لینا ہوگا۔ 2001 کے بعد، طالبان اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات نے پاکستان کو عالمی سطح پر مختلف قسم کے دباؤ میں ڈال دیا۔ یہ دباؤ صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی، عسکری اور انسانی حقوق کے حوالوں سے بھی تھا۔ بین الاقوامی برادری نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشتگرد عناصر کو کنٹرول کرے اور ان کی مدد بند کرے، لیکن اس کے ساتھ پاکستان کے داخلی مفادات اور قبائلی علاقوں میں اثرورسوخ بھی ایک اہم عنصر رہا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ متنازع سفر نہ صرف افغانستان تک محدود ہے بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے داخلی سیکورٹی ڈھانچے پر بھی پڑے۔ شمالی قبائلی علاقوں میں طالبان کے اثرورسوخ، حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیاں، اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہوں نے ملک میں داخلی تشدد اور دہشتگرد حملوں کے لیے زمین ہموار کی۔ اس طرح کل کے ہیرو، آج ریاست کے لیے بوجھ اور خطرہ بن گئے ہیں۔

تاریخی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ فیصلے غلط تھے، بلکہ یہ کہ پالیسی میں طویل مدتی اثرات کا کوئی مؤثر جائزہ نہیں لیا گیا۔ ماضی میں جو عناصر مفید تھے، ان کے اثرات کو نظر انداز کر کے صرف قلیل مدتی مفادات پر توجہ دی گئی۔ نتیجتاً وہی عناصر جو کبھی قومی مفاد کے لیے سپورٹ کیے گئے، آج داخلی اور خارجی سطح پر مسئلے بن چکے ہیں۔

یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آیا پاکستان اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کو تیار ہے یا ماضی کے فیصلے مستقبل کو یرغمال بناتے رہیں گے۔ تاریخی شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں شفافیت، اثرات کا مستقل جائزہ، اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی بنیادی ضرورت ہیں۔ افغانستان کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اگر پالیسی میں طویل مدتی نتائج کو مدنظر نہ رکھا جائے، تو کل کے ہیرو آج کے دہشتگرد بن سکتے ہیں، اور ریاست کے لیے خطرہ اور دباؤ پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس متنازع دور سے ایک اور سبق بھی ملتا ہے: کسی بھی گروہ یا عسکری طاقت کی حمایت صرف اس وقت تک مفید ہے جب وہ ریاست کے طویل مدتی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر یہ ہم آہنگی ختم ہو جائے، تو وہ گروہ ریاست کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کو طالبان، القاعدہ، اور حقانی نیٹ ورک کے تعلقات کے پیچیدہ اثرات کا سامنا ہے۔

یہ تاریخی تجزیہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متنازع سفر صرف افغان جہاد تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات آج بھی ملکی سلامتی، سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی شبیہ پر پڑ رہے ہیں۔ کل کے ہیرو آج کے دہشتگرد بن چکے ہیں، اور اس تضاد کا حل صرف محتاط، شفاف اور طویل مدتی سوچ پر مبنی پالیسی اپنانے میں ممکن ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *